Showing posts with label ماں. Show all posts
Showing posts with label ماں. Show all posts

Thursday, January 28, 2010

ایک خاموش میسج

ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت اپنے بیٹے کے ساتھ پارک میں بیٹھی ہو ئی تھی۔
پاس ہی ایک کوا بھی بیٹھا تھا۔

ماں نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ کیا ہے۔
بیٹا بولا یہ کوا ہے۔

Saturday, May 9, 2009

میری ماں

وڈیو کا لنک

میں کبھی بتلاتا نہیں
پر اندھیرے سے ڈرتا ہوں میں ماں
یوں تو میں دکھلاتا نہیں
تیری پرواہ کرتا ہوں میں ماں
تجھے سب ہے پتہ
ہے نا ماں؟
تجھے سب ہے پتہ
میری ماں
بھیڑ میں یوں نہ چھوڑو مجھے
گھر لوٹ کے بھی آ نہ پاؤں ماں
بھیجنا اتنا دور مجھ کو تو
یاد بھی نہ تجھ کو آ پاؤں ماں
کیا اتنا برا ہوں میں ماں
کیا اتنا برا۔۔۔
میری ماں
جب بھی کبھی پاپا مجھے
جو زور سے جھولا جھلاتے ہیں ماں
میری نظر ڈھونڈے تجھے
سوچوں یہی تو آ کے تھامے گی ماں
ان سے میں یہ کہتا نہیں
پر میں سہم جاتا ہوں ماں
چہرے پہ آنے دیتا نہیں
دل ہی دل میں گھبراتا ہوں ماں
تجھے سب ہے پتہ
ہے نا ماں؟
تجھے سب ہے پتہ
میری ماں
میں کبھی بتلاتا نہیں
پر اندھیرے سے ڈرتا ہوں میں ماں
یوں تو میں دکھلاتا نہیں
تیری پرواہ کرتا ہوں میں ماں
تجھے سب ہے پتہ
ہے نا ماں؟
تجھے سب ہے پتہ
میری ماں