فلم’’تیرے بن لا دن‘ پاکستان کے ایک صحافی کی زندگی کی کہانی ہے۔ صحافی علی جعفر کے کردار میں مشہور گلوکار علی ظفرہیں، جو امریکہ جا کر کام کرنے کے خواہشمند ہوتاہے۔مگرہر بار اس کی ویزے کی درخواست کو منسوخ کر دیا جاتا ہے۔
فلم’’تیرے بن لا دن‘ پاکستان کے ایک صحافی کی زندگی کی کہانی ہے۔ صحافی علی جعفر کے کردار میں مشہور گلوکار علی ظفرہیں، جو امریکہ جا کر کام کرنے کے خواہشمند ہوتاہے۔مگرہر بار اس کی ویزے کی درخواست کو منسوخ کر دیا جاتا ہے۔
کچھ پاکستانی لیڈران پاکستان کی جگ ہنسائی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے خالی نہیں جانے دیتے ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی آج دیکھنے میں آئی۔ جب میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ایک اور نرالی منطق پیش کردی ہے۔ صاحب جی کہتے ہیں کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی،۔
آج کل ہمارے ملک میں کتب بینی کا رواج زوال پذیری کا شکار ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہےکہ ٹی وی و کمپیوٹر کی وجہ سے کتابوں کی اہمیت کم ہوگئی ہےمگریہ بات درست نہیں ہے کیونکہ مغربی ممالک میں کتب بینی اب بھی زندہ ہے جب کہ وہ تو ہم سے کئی گنا ترقی یافتہ ہیں اور سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی ہم سےآگے ہیں ۔
پاکستان ریلوے کےٹکٹ گھر کےاہلکارٹکٹوں پر زیادہ پیسے لے کر خوب حرام کما رہے ہیں۔ میں16مئی کو بزریعہ خیبرمیل حیدرآباد سے کراچی تک کا سفر کیا ۔حیدرآباد اسٹیشن کےٹکٹ گھر کےاہلکارسے میں نے ٹکٹ 160 روپے میں لیا جبکہ اصل قیمت پراسٹامپ لگا کر اصل قیمت کو چھپا دیا تا کہ خوب حرام کما سکے۔ تمام مسافروں سے ٹکٹ کی قیمت 160روپے وصول کی گئی۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دوران سفر ٹکٹ کو کسی نےچیک بھی نہیں کیا۔ حیدرآباد سے ڈرگ روڈ اسٹیشن کراچی کا تھا جبکہ میں نے سفرحیدرآباد سےکینٹ اسٹیشن کراچی تک کا سفرکیا۔ اور کسی نے مجھےنہیں پکڑا۔
پاکستان ریلوے کےٹکٹ گھر کےاہلکارٹکٹوں پر زیادہ پیسے لے کر خوب حرام کما رہے ہیں۔ میں16مئی کو بزریعہ خیبرمیل حیدرآباد سے کراچی تک کا سفر کیا ۔حیدرآباد اسٹیشن کےٹکٹ گھر کےاہلکارسے میں نے ٹکٹ 160 روپے میں لیا جبکہ اصل قیمت پراسٹامپ لگا کر اصل قیمت کو چھپا دیا تا کہ خوب حرام کما سکے۔ تمام مسافروں سے ٹکٹ کی قیمت 160روپے وصول کی گئی۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دوران سفر ٹکٹ کو کسی نےچیک بھی نہیں کیا۔ حیدرآباد سے ڈرگ روڈ اسٹیشن کراچی کا تھا جبکہ میں نے سفرحیدرآباد سےکینٹ اسٹیشن کراچی تک کا سفرکیا۔ اور کسی نے مجھےنہیں پکڑا۔