Tuesday, October 25, 2011

غیرضروری تعطیلات

 چھٹیوں کے شوقین لوگوں کیلئےبطورخاص ایک نظم

بڑوں کو اور چھوٹوں کو انہیں صدمات نے مارا
مجھے دفتر انہیں کالج کی تعطیلات نے مارا

کبھی سردی کی چھُٹی ہے، کبھی گرمی کی چھٹی ہے
یہ سب اس کے علاوہ ہیں جو ہٹ دھرمی کی چھٹی ہے


Sunday, October 23, 2011

دو سیاستدان ایک مستقبل

آج کل میڈیا عمران خان کو بہت پروموٹ کر رہا ہے اور خود عمران خان نے جب سے ایک سال قبل دھرنے دیئے تھے خود کو آنے والے وقت کا وزیر اعظم سمجھ رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ مثال بھی دیتے ہیں کہ اگر وہ وزیر اعظم ہوتے تو ایسا کرتے ویسا کرتے ایک ہاتھ سے وہ صدر زرداری کو للکارتے ہیں تو دوسرے ہاتھ سے وہ نوا ز شریف کی خبر لیتے ہیں۔ ایسی چٹ پٹی خبروں کو میڈیا والے خوب مزے لے کر اچھالتے ہیں تو عمران خان اور اُن کی پارٹی کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ واقعی اگر وہ وزیر اعظم بن گئے

Tuesday, October 4, 2011

پاکستان میں سافٹ ویئر پائریسی



آپ میں سے تقریبا ہر ایک نےزندگی میں کم ازکم ایک بار MP3سونگ فری سائیٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا ہوگا۔ کوئی چیز مفت مل جانا بڑی بات ہےتاہم اگر وہ کسی اور کو اُسکی محنت اور کوشش کو نقصان پہنچائے بغیر ہو ۔کبھی آپ نے سوچا کہ مفت گانے، فلمیں، گیمز اور سافٹ وئیرزڈاؤن لوڈکرنے سےانکو بنانے والوں کی رائلٹی کو نقصان پہنچتاہے۔

Monday, September 19, 2011

Saturday, August 20, 2011

ادھورے سپنے – نویں قسط


آسمان پر گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں، سرد اور تیزہوائیں چل رہی ہیں۔ بادل وقفے وقفےسے گرجتے ہیں تو یوں لگتاہےجیسے گڈو کی موت پر چپکے چپکے رورہے ہیں۔ ننھے گڈو کی میت اُٹھنے کی تیاری ہورہی ہے۔ مسجد سے لایا گیا جنازے کا ڈولا گھر کے باہررکھا ہوا ہےاور چونکہ آنگن میں لگا ٹین کا دروازہ بہت چھوٹا ہے اور ڈولا اندر لایا نہیں جاسکتالہذا پروگرام کے مطابق گڈو کو گود میں اُٹھا کر باہر جنازے کے ڈولے پر لٹایا جائے گااور اُس کے بعد میت قبرستان کی طرف روانہ ہوگی۔

Thursday, July 28, 2011

سرفروشی کی تمنا اور بسمل شاہجہانپوری

 ایک غزل کا مطلع مشہور ہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زورکتنا بازوئے قاتل میں ہے

عام طور پر یہ مولانا ظفر علی خان (1873ءتا1956ء) کےنام سےمشہور ہے لیکن یہ مطلع ایک گمنام شاعر بسمل شاہجہانپوری کاہے۔ بسمل شاہجہانپوری نے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ہوش سنھبالنے کے بعد دل ودماغ میں یہی تڑپ تھی کہ برطانیہ کی غلامی سے آزاد ہونا چاہیے۔ 1916ء میں ان کا رابطہ انہی خیالات کے حامل ایک اور نوجوانوں کے گروہ سے ہوا۔1918ء میں "مین پوری"سازش کے اہم واقعہ میں بسمل بھی شریک تھے 9اگست 1925ء کو انہوں نے کاکوری (لکھنو کا ایک مشہور قصبہ)ٹرین کی واردات میں حصہ لیا یہ سیاسی نوعیت کی واردات تھی۔ گرفتار ہوئے، مقدمہ چلتا رہاآخر19دسمبر1927ءکوبسمل شاہجہانپوری کو سزاموت دے دی گئی۔

Tuesday, July 26, 2011

پچاس ارب روپے


پی پی حکومت 50 ارب روپے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام پر خرچ کررہی ہے. اس سے لوگوں کو ایک ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں. بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام سےامید تھی کہ اس مستحق بیوہ عورتوں کو جو اسکی ہر شرئط پر پوری اترتی ہیں، تھوڑی ہی سہی مگر کچھ مالی مدد ملے گی

Monday, July 25, 2011

غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیاں

پاکستان میں رمضان مبارک کا چاند نظر آنے والا ہے۔ اور رویت ہلال پر صوبہ خیبر پختون خواہ کے "شرانگیز" مولویوں کی دکانیں کھلنے والی ہیں۔ پشاور کی مسجد قاسم علی خان غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا مرکز ہے۔ چاند کی زیادہ فکر مسجد قاسم علی خان کے مولوی شہاب الدین پوپلزئی کو ہوتی ہے جوصرف رمضان اور شوال کا چاند دیکھنے کا اہتمام کرتا ہے اورصرف رمضان اور شوال کے چاند کے لیے اپنی دوکان کھول لیتا ہے۔ کیوں کہ جو "نام نہاد" شہرت اور مشہوری رمضان اور شوال کے چاند کے لیے ملتی ہے وہ کسی اور مہینے میں نہیں ملتی۔

"نام نہاد" شہرت اورمشہوری حاصل کرنے کے لیے اگر امت مسلمہ میں شر، فتنہ، فساد اور تفرقہ پھیلانا پڑے تو کیا ہوا۔ اور کون ہے پوچھنےوالا ؟؟؟ غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیوں کے شر کو پھیلانے میں میڈیا کا بہت زیادہ ہاتھ ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ میڈیا بھی ان کو پروموٹ کر رہا ہے یا سستی شہرت کا متلاشی ہے۔

رویت ہلال کے لیے صوبہ خیبرپختون خواہ کے "نام نہاد" مولویوں کے آگےعلم نجوم، ماہرین فلکیات، محکمہ موسمیات، پاکستان نیوی، سپارکو والے بھی جھوٹے اور بے بس ہو جاتے ہیں۔ ان اداروں کو حساس دوربینوں سے چاند نظر نہ آئے مگر شہاب الدین پوپلزئی اپنی آنکھوں سے چاند نظر آ جاتا ہے۔ 
صوبہ خیبرپختون خواہ کی سابقہ حکومتوں (متحدہ مجلس عمل اورعوامی نیشنل پارٹی) کے "بے عقل" وزیروں نے ان غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کو بھرپور سپورٹ کیا اور امت مسلمہ میں شر، فتنہ، فساد اور تفرقہ پھیلانے کے کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

مرکزی حکومت کو چاہیے کہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں قائم غیر سرکاری
 رویت ہلال کمیٹیوں کو فورا بند کروائے اوران کے کارندوں، ہمدردوں اور ان کی دکانیں سجانے والوں کو پابند سلاسل کرے ۔

Wednesday, July 20, 2011

ادھورے سپنے – آٹھویں قسط

اس پوسٹ کی ساتویں قسط یہاں ملاحظہ فرمائیں

گڈو کی لاش اگرچہ شام سے گھر میں پڑی ہے لیکن ماں کو اب بھی یقین نہیں آرہا کہ ننھا گڈو اُسے ہمیشہ ہمیشہ  کیلئے چھوڑ کر جا چکا ہے ۔۔۔۔ وہ وقفے وقفے سے دھاڑیں مار مار کر رونے لگتی ہے اور روتے ہوئے ننھے گڈوکے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں اور منہ کو بے تابی سے چومنے لگتی ہے۔۔۔۔لیکن ننھے گڈو پر ماں کے رونے کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔۔۔۔

Tuesday, July 19, 2011

بھوکے ننگے

29 جون1948ء کو چوہدری قادربخش مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک عجیب و غریب مقدمہ پیش ہوا اس مقدمے میں مہاجر کیمپ میں مقیم میاں بیوی پر سرکاری خیمے کا کچھ کپڑا کاٹنے کا الزام تھا۔ پولیس کی حراست میں اس جوڑے نے عدالت کو بتایا کہ ہم اس کیمپ میں پچھلے پانچ ماہ سے مقیم ہیں ہمارے جسموں پر پہنے ہوئے کپڑے پرانے اور بوسیدہ ہوکر اس بری طرح پھٹ چکے تھے جس سے ہمارے جسم جگہ جگہ سے بری طرح ننگے ہو رہے تھے