ShareThis

Wednesday, June 22, 2011

ادھورے سپنے – ساتویں قسط

اس پوسٹ کی چٹھی قسط یہاں ملاحظہ فرمائیں

تاریک کمرےکےسامنےکچی اینٹوں کے آنگن میں پائیوں سے محروم چارپائی پر ننھا گڈوصاف ستھرا اور بے داغ کفن اوڑھےابدی نیند سورہا ہے۔ گڈو کے چہرے پر ایک خاص قسم کا اطمینان اور سکون نظر آرہا ہے۔شائد گڈوکو نئی سفید چادر اوڑھ کر سونے کی خوشی ہے۔
ایک ایسی صاف اور بے داغ چادر گڈو نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں اوڑھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ یا شائد گڈو اس لئے پرسکون ہے کہ اب جاگنے کے بعد اُسے سوکھی روٹی اور کالی چائے سے ناشتہ نہیں کرنا پڑے گا۔۔۔۔  اور اُسےپھر کبھی بھی بوری لے کر بھوکے پیاسے پیٹ کچروں میں مارا مارا نہیں پھرنا پڑیگا۔۔۔۔  اب کبھی بھی کسی بچےکو کچھ کھاتے پیتے دیکھ کر اُس کو ترسنا نہیں پڑے گا۔۔۔۔  اب وہ تمام مصائب سے آزاد ہو گیا ہے۔۔۔۔ وہ کالی کار کے ڈرائیور کا احسان مند ہے جس نے اُسے بھوک اور پیاس بھری زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نجات دلا دی تھی۔۔۔۔زندگی، جس میں گڈو کیلئےسوائے بھوک، آنسوؤں اور جھڑکیوں کے اور کچھ نہ تھا۔۔۔۔اُسے ایسی خود غرض دنیا کو چھوڑ کر جانے کا کوئی افسوس نہ تھا۔۔۔۔۔لیکن اُسے ماں سے جدا ہونے کا افسوس ضرور تھا۔۔۔۔ ماں، جواُس کی دکھ بھری زندگی میں جینے کا واحد سہارا تھی۔۔۔۔ ماں جوگرمیوں کی تپتی دوپہر میں کسی مہربان بادل کی طرح تھی۔۔۔۔ لیکن شائدگڈو اپنے آخری سفر پر بھوکے پیٹ نہیں جانا چاہتا تھا۔وہ ماں سے کچھ ناراض لگتا ہےجس نے اُسکے لئے پہلے سے روٹی کیوں نہیں پکائی۔۔۔۔ گڈو کو نئی گیند نہ لے سکنے کا بھی دکھ ہے۔۔۔۔۔۔

اس پوسٹ کی  آٹھویں قسط یہاں ملاحظہ فرمائیں

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔