Thursday, December 13, 2012

ورڈپریس کی انگریزی تھیم کا ترجمہ کریں آسانی سے

اگرہمیں  ورڈپریس کی انگریزی تھیم کا اردو  یاکسی اور زبان میں کرنا ہو تو اسکے لیے  ہمیں تھیم کی تمام فائلوں میں انگریزی میں لکھے گئے الفاظوں  اور جملوں کا ترجمہ کرنا پڑتا ہے۔ اس کام کے لئے تھیم کی بیشتر فائلوں میں ترمیم کرنا پڑتی ہے جس  میں کافی وقت صرف ہوتا ہے۔

Saturday, May 26, 2012

نئے صوبے ۔۔مگر کیسے؟

تحریر کردہ: سلیم صافی

کیا سندھ پاکستان کا حصہ نہیں اور اگر ہے تو پھر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں لائق تحسین قرار پانے والا اقدام سندھ میں جرم کیسے قرار پاتا ہے؟۔ پیپلز پارٹی کی قیادت یا تو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی تقسیم کے ایشوز چھیڑنے پر قوم سے معافی مانگے یا پھر سندھ کی تقسیم پر سیخ پا ہونے والوں کو بھی جواب دے۔ میاں نواز شریف یا تو بہاولپور اور ہزارہ کی حمایت پر بھی معافی مانگیں یا پھر سید غوث علی شاہ اور ماروی میمن کو سمجھادیں کہ وہ سندھ کی تقسیم کے مطالبے کا جمہوری حق استعمال کرنے والوں کو گالیاں دینے والوں کے صف سے نکل جائیں۔ تنہا میں نہیں اور بھی لاکھوں پاکستانی التجائیں کررہے تھے کہ لسانی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم کاپنڈورا باکس نہ کھولا جائے لیکن وقتی سیاسی مفادات کے لئے پیپلز پارٹی کی قیادت بضد تھی۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت بھی کم ذمہ دار نہیں ۔ سرحد اسمبلی میں جب صوبے کا نام پختونخوا رکھنے کے حق میں قرارداد پاس ہورہی تھی تو میاں نوازشریف مقتدر اور ان کی جماعت کے سردار مہتاب احمد خان عباسی قائد ایوان تھے ۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت نہ چاہتی تو اس وقت وہ قرارداد کبھی منظور نہیں ہوسکتی تھی لیکن تب سیاسی مصلحتوں کی خاطر اس نے قرارداد پاس ہونے دی ۔ تب پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے بھی اس کی حمایت کی تھی لیکن جب قرارداد کی منظوری کے بعد اس کی حمایت آئینی‘ جمہوری اور سیاسی تقاضا بن گیا تو انہی لوگوں نے مخالفت شروع کردی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے ہی ہزارہ ڈویژن میں پختونخوا کے خلاف ابتدائی فضا ہموار کی ۔ سندھ یا بلوچستان میں نئے صوبوں کی آواز اٹھتی ہے تو اے این پی کو بھی مخالفت زیب نہیں دیتی کیونکہ اس کے منشور میں سرائیکی صوبہ لکھا گیا ہے ۔ ہاں البتہ ہم جیسے سندھ کی تقسیم کی حمایت تب کریں گے جب سندھ کی منتخب اسمبلی حمایت کردے ۔ جب تک سندھ اسمبلی بل یا قرارداد منظور نہیں کرتی ‘ وال چاکنگ‘ مظاہروں‘ حتیٰ کہ قومی اسمبلی کی قراردادوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں ۔اگر کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے لئے پورا کراچی بھی نکل آئے تو بھی اس کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں جب تک کہ سندھ کی منتخب صوبائی اسمبلی کی اکثریت تقسیم پر آمادہ نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی کراچی یا کسی اور علاقے کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے اس کے آئینی اور جمہوری حق سے محروم کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کو گالی دینا مناسب ہے۔ سندھ اگر پاکستان کا حصہ ہے تو وہاں بھی اسی کلیے اور قانون کا اطلاق ہوگا جو باقی ملک میں ہوتا ہے ۔ جنوبی پنجاب کا صوبہ اگر اس بنیاد پر بنتا ہے کہ اس میں شامل علاقے صوبائی دارالحکومت سے دور ہیں تو پھر نواب شاہ‘ سکھر ‘ ژوب‘ زیارت ‘ مکران‘سبی‘ پوٹھوہار‘ بہاولپور ‘ چترال اورڈی آئی خان وغیرہ کے مکینوں کو بھی اسی بنیاد پر صوبے دینے ہوں گے ؟اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں وسائل کی تقسیم غیرمنصفانہ ہے اور جو حصہ لاہور یا پشاور کو ملتا ہے ‘ وہ بہاولپور اور ایبٹ آبادجیسے دوردراز علاقوں کو نہیں ملتا تو یہی تفریق کوئٹہ اور سبی کے مابین یا پھر کراچی اورتھرپارکر کے مابین بھی پائی جاتی ہے۔ شناخت اگر سندھیوں‘ پنجابیوں‘ بلوچوں‘ پختونوں اور سرائیکیوں کا حق ہے تو اردو بولنے والوں‘ چترالیوں‘ پوٹھوہاریوں‘ بلتستانیوں اور دیگر زبانیں بولنے والوں کا بھی حق ہے ۔ دھرتی کا بیٹا ہونے اور نہ ہونے کی یہ فضول بحث اب ختم ہوجانی چاہئے ۔ جو بھی اس ملک میں رہتا ہے وہ اس دھرتی کا بیٹا ہے ۔ سب یکساں ہیں اور سب کو یکساں حقوق حاصل ہونے چاہئیں ۔ کوئی ساٹھ سال پہلے آیا ہے ‘ کوئی دو سو سال پہلے ‘ تو کوئی دو ہزار سال پہلے۔ مجھ جیسے خیبر پختونخوا کے بیشتر پختونوں کے آباء واجدادافغانستان سے ہجرت کرکے آئے ہیں۔ گیلانی صاحب کا خاندان بھی چند سو سال پہلے سرائیکی دھرتی میں آیا ہے ۔ محمد علی درانی جو اس وقت بھاولپور صوبے کی تحریک کے محرک ہیں ‘ کے آباء و اجداد بھی چند سو سال قبل قندھار سے بہاولپور آئے تھے ۔اگر یہ سب دھرتی کے بیٹے اور وارث ہیں تو پھر اردو بولنے والے کیوں نہیں؟۔ میاں نوازشریف بنیادی طور کشمیر ی ہیں اور ان کے آباء واجداد بھی ہندوستان سے لاہور منتقل ہوئے ۔ تو کیا انہیں آج بھی پنجاب کی دھرتی کا بیٹا نہیں سمجھا جائے گا۔ ایم کیوایم کا ماضی اور حال کے ارادے اپنی جگہ لیکن ایم کیوایم کی وجہ سے سب اردو بولنے والوں کو گالی دینا پاکستان کو گالی دینے کے مترادف ہے ۔ اردو بولنے والے اگر ہم سے زیادہ دھرتی کے بیٹے نہیں تو کم بھی نہیں ۔ میرے آباء واجداد تھے‘ یا دیگر زبانیں بولنے والوں کے ‘ کوئی یہاں پر حکومت کرنے آیا اور کوئی تلاش معاش میں ۔ ہمارے آباء واجداد میں سے کسی نے بھی پاکستان کی خاطر یہاں آنے اور مقیم ہوجانے کا فیصلہ نہیں کیالیکن اردو بولنے والوں کی اکثریت کے آباء واجداد نے پاکستان کی خاطر ہجرت کی ۔ یوں وہ ہم سے زیادہ پاکستانی اور دھرتی کے بیٹے ہیں ۔ یوں تو اسلام آباد پوٹھوہاریوں کی زمین پر بنا ہے لیکن یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک کبھی اردو بولنے والے پرویز مشرف ہوتے ہیں‘ کبھی پنجابی بولنے والے میاں نوازشریف اور ان دنوں سندھی بولنے والے آصف علی زرداری مالک ہیں۔ پھر پختون اٹھ کر کہہ سکتے ہیں کہ تاریخی طور پر ان کا شہر رہنے والے کوئٹہ کی قسمت کے فیصلے کا کسی بلوچ کو اختیار نہیں دیا جاسکتا ہے یوں بھی نہ جانے ہم نئے صوبے کو نیا ملک کیوں سمجھ بیٹھے ہیں ۔ اگر نیا صوبہ بن جائے تو کیا وہاں ویزے اور پاسپورٹ کے ذریعے سفر کرنا ہوگا جو لوگ اتنا شور مچارہے ہیں ۔ اس وقت پنجاب الگ اور خیبر پختونخوا الگ صوبہ ہے لیکن مجھے پنجاب میں جانے سے کوئی روکتا ہے ‘ زمین خریدنے سے ‘ کاروبار کرنے سے اور نہ رشتہ لینے یا دینے سے ۔ بہتر یہی ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لئے ایک قومی کمیشن بنا دیا جائے جو انتظامی بنیادوں پر پورے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے لئے فارمولا وضع کرے ۔ بہتر یہی ہوگا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائے جائیں ۔ ایک فارمولا موجودہ ڈویژنوں کو صوبے قراردلوانے کا ہوسکتا ہے ۔ ایک اورتجویز انگریز کے دور کے ڈویژنوں کو صوبے قراردلوانے کی ہوسکتی ہے۔ ان کے علاوہ بھی کوئی فارمولا بنایا جاسکتا ہے جس کا اطلاق تمام صوبوں میں یکساں طور پر ہو۔ اس کمیشن میں تمام صوبوں‘ تمام قومیتوں ‘ تمام جماعتوں اور تمام طبقوں کی نمائندگی ہونی چاہئے ۔ جب تک یہ کمیشن اپنا کام مکمل نہ کرلے تب تک سیاست اور صحافت میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ختم کی جائے۔ اس کمیشن کے ارکان کو بھی اٹھارویں آئینی ترمیم کی پارلیمانی کمیٹی کے ممبران کی طرح پابند کیا جائے کہ اپنے کام کی تکمیل تک وہ میڈیا میں اس موضوع پر بات نہیں کریں گے ۔ نہیں تو یہ جس طریقے سے صوبے بنائے جارہے ہیں اور اس کی بحث جس طرف چل نکلی ہے ‘اس کے نتیجے میں صوبے تو نہیں بن سکیں گے لیکن خاکم بدہن پاکستان روانڈا بن جائے گا۔ پھر کسی کے وسائل کام آسکیں گے ‘ تاریخ کام آسکے گی اور نہ شناخت۔ سب خوار ہوں گے اور سب کے بچے مریں گے۔

ماخذ

بشکریہ جنگ کراچی

Friday, March 9, 2012

محرومی کے مزید 20سال

تحریر: خلیل احمد نینی تال والا

صوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں رکھی گئی اور وجہ یہ بتائی گئی کہ شہری علاقے کے لوگوں کو چونکہ اچھی تعلیم کے مواقع حاصل ہیں جبکہ دیہی علاقے کے نوجوان اس سے محروم ہیں اور احساس محرومی کا شکار ہیں لہٰذا 10سال کیلئے حصول روزگار میں دیہی علاقے کے باشندوں کیلئے کوٹہ رکھا گیا جس سے شہری اور دیہی تفریق کی بنیاد رکھ دی گئی ۔

Sunday, January 15, 2012

"سعید اجمل کا ہتھیار "تیسرا

سعید اجمل نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے پہلے کہا ہے کہ وہ انگلینڈ کے خلاف ایک نئی ڈیلیوری متعارف کروائیں گے۔ ماہرین سعید اجمل کی نئی ڈیلیوری کو ’تیسرا‘ کہہ رہے ہیں۔ باؤلرسعید اجمل کا کہنا ہےکہ انہوں نے دوسرا کے بعد اپنی جادوئی نئی بال دورہ زمبابوے سے قبل ہی ایجاد کرلی تھی تاہم اسے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے بچا کررکھا تھا۔

Saturday, January 7, 2012

کچھ ادبی حقائق

میر ببر علی انیس (ولادت 1802ء دہلی میں اور وفات 1874ء لکھنوء) ایک مرثیہ میں یہ دعائیہ مصرع کہہ چکے تھے۔
یا رب رسول پاک ﷺ کی کھیتی ہری رہے
دوسرا مصرع حسب دل موزوں نہیں ہو رہا تھا دیر سے اسی فکر میں تھے، میر ببر علی انیس کی اہلیہ اس طرف سے گزریں تو انہوں نے پوچھا کہ کس سوچ میں بیٹھے ہیں؟ موصوف نے اپنا مصرع پڑھا اور کہا کہ دوسرا مصرع سوچ رہا ہوں بیوی نے بے ساختہ کہا یہ لکھ دو

Saturday, December 24, 2011

بہترین اردو بلاگر کا اعزاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یار فرحان دانش! ۔

گذشتہ رات پاکستان بلاگ ایوارڈز2011ء کی تقریب تقسیم ایورڈزکا انعقاد ریجنٹ پلازہ کراچی میں کیا گیا۔ میں چند وجوہات کی بناء پراس تقریب میں شرکت نہ کر سکا۔ پاکستان بلاگ ایوارڈز2011ء میں میرا بلاگ بھی" بہترین اردو بلاگر " کی فہرست میں شامل تھا۔

نتائج کے مطابق بہترین اردو بلاگر کا ایوارڈ مجھے دیا گیا ہے۔ کاش میں ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کر لیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسوس صد افسوس مگر میں ٹوئیٹر اور فیس بک کے ذریعے تقریب پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ بہرحال اس ایوارڈ کے لیے میں اپنے اردو بلاگر ،دوستوں اور قارئین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی حوصلہ افزائی و رہنمائی کی بدولت مجھے یہ ایوارڈ دیا گیا۔

میں دیگرزمروں میں کامیاب ہونے والے بلاگرز کو بھی تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

آخر میں پاکستان بلاگ ایوارڈزکی پوری ٹیم اور ووٹ دینے اور تبصرے کرنے والے تمام ساتھیوں کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے بلاگ کو ایوارڈ کے قابل سمجھا۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔

Saturday, December 3, 2011

ادھورے سپنے - آخری قسط


گڈو کو دفن کیا جا چکا ہےاوراب محلے کی مسجد کے امام صاحب انتہائی عجزوانکساری سے گڈوکیلئے دعا مانگ رہے ہیں۔ آسمان پر بادل اورگہرے ہوچکے ہیں۔ ننھےگڈوکی موت پرآسمان کا سینہ بھی غم سے پھٹ پڑاہےاوروہ بھی مسلسل روئےچلاجارہا ہے۔ وقفے وقفےسے بادل یوں گرجتے ہیں جیسے کوئی بوڑھیا اپنے جوان بیٹے کی موت پرنوحہ کررہی ہوں۔ گہرے کالے بادل اس قدر نیچےآچکےہیں گویا وہ پرانے قبرستان میں اپنی چھوٹی سی قبر میں پرسکون سوئے ہوئے گڈوکا آخری دیدارکرنا چاہتے ہوں۔۔۔۔۔ جیسے کہ وہ ننھے گڈو کا خوبصورت ماتھا چوم لینا چاہیتے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت وایثار سے سرشارکسی ماں کی طرح۔۔۔۔۔۔!!

Tuesday, November 29, 2011

اسکریپ بک - بلاگر اردو ٹیمپلیٹ

آج میں نے اردو بلاگر ساتھیوں کے لیے ایک انگریزی بلاگرسانچے کو اردو میں تبدیل کیا ہے۔ اس ٹیمپلیٹ میں اردو میں تبصرہ جات لکھنے کے لیے علیحدہ اردو ایڈیٹر اور مصنف کے تبصروں کو علیحدہ انداز میں دکھانے کی سہولت موجود ہے۔میں نے ٹیمپلیٹ کی ٹیسٹنگ کے لیے ایک ٹیسٹ بلاگ بھی تشکیل دیا ہے۔ آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ اگر اس ٹیمپلیٹ میں کوئی خرابی نظرآئے تومجھے مطلع کریں۔ انشا اللہ میں جلد مزید ٹیمپلیٹس کو اردو میں تبدیل کر کے آپ کے ساتھ شئیر کرونگا۔ امید ہے کہ آپ کو یہ سانچہ پسند آئے گا۔

Thursday, November 24, 2011

سکون واطمینان

موجودہ دورمیں انسانی زندگی میں بے پناہ ترقی ہو چکی ہے۔جس کا تصور آج سے کئی برس قبل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ غرضیکہ انسانی زندگی میں لاتعدادآسائشوں اور سہولتوں کا اضافہ ہوگیا ہے۔ آسائشوں اور سہولتوں کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسان پہلے سے زیادہ خوش وخرم رہتا اور زندگی کو بھرپور انجوائے کرتا لیکن ایسا نہیں ہے۔وجہ؟

Monday, November 21, 2011

ادھورے سپنے – دسویں قسط


ننھے گڈو کی میت ایک چھوٹے سے جلوس کی شکل میں قبرستان کی طرف جارہی ہے۔ گڈوکی ماں تقریبا پاگل ہوچکی ہے اور روتی چیختی باہر گلی میں آچکی ہے، محلے کی عورتوں نے گڈوکی ماں کو پکڑ رکھا ہے جو اپنے آپ کو چھڑانے کی دیوانہ وار کوشش کر رہی ہےتاکہ وہ دوڑ کر اُن بیدرد لوگوں کو روک لے جو اُس کے لخت جگرکواُس سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دور لے جارہے ہیں۔

Wednesday, November 16, 2011

پاکستان بلاگ ایوارڈز2011

پاکستان بلاگ ایوارڈز2011 کا انعقاد ہورہا ہے اور مقابلہ جاری ہے جس میں میرا اردوبلاگ "دانش نامہ" بھی نامزد ہوا ہے آپ تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ آپ مجھے ووٹ دیں اور مجھےاس مقابلے میں کامیاب بنائیں۔

اگر آپ میرے بلاگ کو بطور بہترین اردو بلاگ کا ووٹ دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں اور کھلنے والے صفحہ پر موجود ستاروں کے ذریعے اپنی پسندیدگی کا اظہار کریں۔




5 ستاروں کا مطلب سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ یعنی جتنے ستاروں پر کلک کریں گے اتنا پسندیدگی کا اظہار ہوگا۔ اگر آپ مجھےیہ ایوارڈ جتوانا چاہتے ہیں تو ووٹ کریں۔

Wednesday, November 9, 2011

تصورپاکستان کاخالق کون؟

پاکستان کے تعلیمی اداروں میں یہ پڑھایا اور بتایا جاتا ہے کہ علامہ اقبال نےپاکستان کا خواب دیکھا تھا یعنی علامہ اقبال نےپاکستان کا تصورپیش کیا تھا۔ مگرعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈگری پروگرام کی کتاب مطالعہ پاکستان کے مطابق علامہ اقبال سے پہلے ہی بہت سے لوگ تصورپاکستان پیش کرچکےتھے۔

Tuesday, October 25, 2011

غیرضروری تعطیلات

 چھٹیوں کے شوقین لوگوں کیلئےبطورخاص ایک نظم

بڑوں کو اور چھوٹوں کو انہیں صدمات نے مارا
مجھے دفتر انہیں کالج کی تعطیلات نے مارا

کبھی سردی کی چھُٹی ہے، کبھی گرمی کی چھٹی ہے
یہ سب اس کے علاوہ ہیں جو ہٹ دھرمی کی چھٹی ہے


Sunday, October 23, 2011

دو سیاستدان ایک مستقبل

آج کل میڈیا عمران خان کو بہت پروموٹ کر رہا ہے اور خود عمران خان نے جب سے ایک سال قبل دھرنے دیئے تھے خود کو آنے والے وقت کا وزیر اعظم سمجھ رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ مثال بھی دیتے ہیں کہ اگر وہ وزیر اعظم ہوتے تو ایسا کرتے ویسا کرتے ایک ہاتھ سے وہ صدر زرداری کو للکارتے ہیں تو دوسرے ہاتھ سے وہ نوا ز شریف کی خبر لیتے ہیں۔ ایسی چٹ پٹی خبروں کو میڈیا والے خوب مزے لے کر اچھالتے ہیں تو عمران خان اور اُن کی پارٹی کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ واقعی اگر وہ وزیر اعظم بن گئے

Tuesday, October 4, 2011

پاکستان میں سافٹ ویئر پائریسی



آپ میں سے تقریبا ہر ایک نےزندگی میں کم ازکم ایک بار MP3سونگ فری سائیٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا ہوگا۔ کوئی چیز مفت مل جانا بڑی بات ہےتاہم اگر وہ کسی اور کو اُسکی محنت اور کوشش کو نقصان پہنچائے بغیر ہو ۔کبھی آپ نے سوچا کہ مفت گانے، فلمیں، گیمز اور سافٹ وئیرزڈاؤن لوڈکرنے سےانکو بنانے والوں کی رائلٹی کو نقصان پہنچتاہے۔

Monday, September 19, 2011

Saturday, August 20, 2011

ادھورے سپنے – نویں قسط


آسمان پر گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں، سرد اور تیزہوائیں چل رہی ہیں۔ بادل وقفے وقفےسے گرجتے ہیں تو یوں لگتاہےجیسے گڈو کی موت پر چپکے چپکے رورہے ہیں۔ ننھے گڈو کی میت اُٹھنے کی تیاری ہورہی ہے۔ مسجد سے لایا گیا جنازے کا ڈولا گھر کے باہررکھا ہوا ہےاور چونکہ آنگن میں لگا ٹین کا دروازہ بہت چھوٹا ہے اور ڈولا اندر لایا نہیں جاسکتالہذا پروگرام کے مطابق گڈو کو گود میں اُٹھا کر باہر جنازے کے ڈولے پر لٹایا جائے گااور اُس کے بعد میت قبرستان کی طرف روانہ ہوگی۔

Thursday, July 28, 2011

سرفروشی کی تمنا اور بسمل شاہجہانپوری

 ایک غزل کا مطلع مشہور ہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زورکتنا بازوئے قاتل میں ہے

عام طور پر یہ مولانا ظفر علی خان (1873ءتا1956ء) کےنام سےمشہور ہے لیکن یہ مطلع ایک گمنام شاعر بسمل شاہجہانپوری کاہے۔ بسمل شاہجہانپوری نے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ہوش سنھبالنے کے بعد دل ودماغ میں یہی تڑپ تھی کہ برطانیہ کی غلامی سے آزاد ہونا چاہیے۔ 1916ء میں ان کا رابطہ انہی خیالات کے حامل ایک اور نوجوانوں کے گروہ سے ہوا۔1918ء میں "مین پوری"سازش کے اہم واقعہ میں بسمل بھی شریک تھے 9اگست 1925ء کو انہوں نے کاکوری (لکھنو کا ایک مشہور قصبہ)ٹرین کی واردات میں حصہ لیا یہ سیاسی نوعیت کی واردات تھی۔ گرفتار ہوئے، مقدمہ چلتا رہاآخر19دسمبر1927ءکوبسمل شاہجہانپوری کو سزاموت دے دی گئی۔

Tuesday, July 26, 2011

پچاس ارب روپے


پی پی حکومت 50 ارب روپے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام پر خرچ کررہی ہے. اس سے لوگوں کو ایک ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں. بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام سےامید تھی کہ اس مستحق بیوہ عورتوں کو جو اسکی ہر شرئط پر پوری اترتی ہیں، تھوڑی ہی سہی مگر کچھ مالی مدد ملے گی

Monday, July 25, 2011

غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیاں

پاکستان میں رمضان مبارک کا چاند نظر آنے والا ہے۔ اور رویت ہلال پر صوبہ خیبر پختون خواہ کے "شرانگیز" مولویوں کی دکانیں کھلنے والی ہیں۔ پشاور کی مسجد قاسم علی خان غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا مرکز ہے۔ چاند کی زیادہ فکر مسجد قاسم علی خان کے مولوی شہاب الدین پوپلزئی کو ہوتی ہے جوصرف رمضان اور شوال کا چاند دیکھنے کا اہتمام کرتا ہے اورصرف رمضان اور شوال کے چاند کے لیے اپنی دوکان کھول لیتا ہے۔ کیوں کہ جو "نام نہاد" شہرت اور مشہوری رمضان اور شوال کے چاند کے لیے ملتی ہے وہ کسی اور مہینے میں نہیں ملتی۔

"نام نہاد" شہرت اورمشہوری حاصل کرنے کے لیے اگر امت مسلمہ میں شر، فتنہ، فساد اور تفرقہ پھیلانا پڑے تو کیا ہوا۔ اور کون ہے پوچھنےوالا ؟؟؟ غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیوں کے شر کو پھیلانے میں میڈیا کا بہت زیادہ ہاتھ ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ میڈیا بھی ان کو پروموٹ کر رہا ہے یا سستی شہرت کا متلاشی ہے۔

رویت ہلال کے لیے صوبہ خیبرپختون خواہ کے "نام نہاد" مولویوں کے آگےعلم نجوم، ماہرین فلکیات، محکمہ موسمیات، پاکستان نیوی، سپارکو والے بھی جھوٹے اور بے بس ہو جاتے ہیں۔ ان اداروں کو حساس دوربینوں سے چاند نظر نہ آئے مگر شہاب الدین پوپلزئی اپنی آنکھوں سے چاند نظر آ جاتا ہے۔ 
صوبہ خیبرپختون خواہ کی سابقہ حکومتوں (متحدہ مجلس عمل اورعوامی نیشنل پارٹی) کے "بے عقل" وزیروں نے ان غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کو بھرپور سپورٹ کیا اور امت مسلمہ میں شر، فتنہ، فساد اور تفرقہ پھیلانے کے کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

مرکزی حکومت کو چاہیے کہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں قائم غیر سرکاری
 رویت ہلال کمیٹیوں کو فورا بند کروائے اوران کے کارندوں، ہمدردوں اور ان کی دکانیں سجانے والوں کو پابند سلاسل کرے ۔