ShareThis

Monday, November 21, 2011

ادھورے سپنے – دسویں قسط


ننھے گڈو کی میت ایک چھوٹے سے جلوس کی شکل میں قبرستان کی طرف جارہی ہے۔ گڈوکی ماں تقریبا پاگل ہوچکی ہے اور روتی چیختی باہر گلی میں آچکی ہے، محلے کی عورتوں نے گڈوکی ماں کو پکڑ رکھا ہے جو اپنے آپ کو چھڑانے کی دیوانہ وار کوشش کر رہی ہےتاکہ وہ دوڑ کر اُن بیدرد لوگوں کو روک لے جو اُس کے لخت جگرکواُس سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دور لے جارہے ہیں۔
گڈوکی ماں پاگلوں کی طرح رورہی ہے اور چیخ چیخ کر کہے چلی جارہی ہے "رُک جاؤ ، رُک جاؤ ،خداکے لئے رُک جاؤ !۔۔۔۔۔۔ خداکے لئےمیرے بچےکو مجھ سے دورنہ لے جاؤ۔۔۔۔۔۔ گڈو! گڈو! رُک جامیرا چاندرُک جا۔۔۔۔۔رُک جا میں تجھے اپنے ہاتھ سے روٹی کھلاؤں گی۔۔۔میں تجھے گیند بھی لے کر دُونگی۔۔۔اب تو لوٹ آمیرےبچے۔۔۔۔"گڈوکی ماں بدستور چیختی رہتی ہے اُسے اب امید نہیں ہے کہ گڈوروٹی اور گیندکا سن کرآنکھیں کھول دے گااوردوڑتا ہواآکر اُس کے سینے سے لگ جائے گا۔اور پھر وہ کبھی اُسے سینے سے جدا نہیں کریگی۔۔۔۔۔ لیکن کہ گڈوآنکھیں نہیں کھولتا، وہ تو اب ظالم دنیا سے ایسا روٹھا ہے کہ منائے نہیں منتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تو اب بہت دور جا چکا ہےبہت ہی دور۔۔۔۔اتنا دور کہ جہاں اُس تک ماں کی چیخوں کی آواز بھی نہیں پہنچ سکتی۔۔۔۔۔۔۔وہ توایک ایسے دیس جا چکاہےکہ جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا،کبھی بھی نہیں!اورنہ ہی گڈواب کبھی لوٹ کر واپس آئے گا۔۔۔۔۔۔!!

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔