ShareThis

Saturday, May 26, 2012

نئے صوبے ۔۔مگر کیسے؟

تحریر کردہ: سلیم صافی

کیا سندھ پاکستان کا حصہ نہیں اور اگر ہے تو پھر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں لائق تحسین قرار پانے والا اقدام سندھ میں جرم کیسے قرار پاتا ہے؟۔ پیپلز پارٹی کی قیادت یا تو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی تقسیم کے ایشوز چھیڑنے پر قوم سے معافی مانگے یا پھر سندھ کی تقسیم پر سیخ پا ہونے والوں کو بھی جواب دے۔ میاں نواز شریف یا تو بہاولپور اور ہزارہ کی حمایت پر بھی معافی مانگیں یا پھر سید غوث علی شاہ اور ماروی میمن کو سمجھادیں کہ وہ سندھ کی تقسیم کے مطالبے کا جمہوری حق استعمال کرنے والوں کو گالیاں دینے والوں کے صف سے نکل جائیں۔ تنہا میں نہیں اور بھی لاکھوں پاکستانی التجائیں کررہے تھے کہ لسانی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم کاپنڈورا باکس نہ کھولا جائے لیکن وقتی سیاسی مفادات کے لئے پیپلز پارٹی کی قیادت بضد تھی۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت بھی کم ذمہ دار نہیں ۔ سرحد اسمبلی میں جب صوبے کا نام پختونخوا رکھنے کے حق میں قرارداد پاس ہورہی تھی تو میاں نوازشریف مقتدر اور ان کی جماعت کے سردار مہتاب احمد خان عباسی قائد ایوان تھے ۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت نہ چاہتی تو اس وقت وہ قرارداد کبھی منظور نہیں ہوسکتی تھی لیکن تب سیاسی مصلحتوں کی خاطر اس نے قرارداد پاس ہونے دی ۔ تب پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے بھی اس کی حمایت کی تھی لیکن جب قرارداد کی منظوری کے بعد اس کی حمایت آئینی‘ جمہوری اور سیاسی تقاضا بن گیا تو انہی لوگوں نے مخالفت شروع کردی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے ہی ہزارہ ڈویژن میں پختونخوا کے خلاف ابتدائی فضا ہموار کی ۔ سندھ یا بلوچستان میں نئے صوبوں کی آواز اٹھتی ہے تو اے این پی کو بھی مخالفت زیب نہیں دیتی کیونکہ اس کے منشور میں سرائیکی صوبہ لکھا گیا ہے ۔ ہاں البتہ ہم جیسے سندھ کی تقسیم کی حمایت تب کریں گے جب سندھ کی منتخب اسمبلی حمایت کردے ۔ جب تک سندھ اسمبلی بل یا قرارداد منظور نہیں کرتی ‘ وال چاکنگ‘ مظاہروں‘ حتیٰ کہ قومی اسمبلی کی قراردادوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں ۔اگر کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے لئے پورا کراچی بھی نکل آئے تو بھی اس کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں جب تک کہ سندھ کی منتخب صوبائی اسمبلی کی اکثریت تقسیم پر آمادہ نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی کراچی یا کسی اور علاقے کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے اس کے آئینی اور جمہوری حق سے محروم کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کو گالی دینا مناسب ہے۔ سندھ اگر پاکستان کا حصہ ہے تو وہاں بھی اسی کلیے اور قانون کا اطلاق ہوگا جو باقی ملک میں ہوتا ہے ۔ جنوبی پنجاب کا صوبہ اگر اس بنیاد پر بنتا ہے کہ اس میں شامل علاقے صوبائی دارالحکومت سے دور ہیں تو پھر نواب شاہ‘ سکھر ‘ ژوب‘ زیارت ‘ مکران‘سبی‘ پوٹھوہار‘ بہاولپور ‘ چترال اورڈی آئی خان وغیرہ کے مکینوں کو بھی اسی بنیاد پر صوبے دینے ہوں گے ؟اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں وسائل کی تقسیم غیرمنصفانہ ہے اور جو حصہ لاہور یا پشاور کو ملتا ہے ‘ وہ بہاولپور اور ایبٹ آبادجیسے دوردراز علاقوں کو نہیں ملتا تو یہی تفریق کوئٹہ اور سبی کے مابین یا پھر کراچی اورتھرپارکر کے مابین بھی پائی جاتی ہے۔ شناخت اگر سندھیوں‘ پنجابیوں‘ بلوچوں‘ پختونوں اور سرائیکیوں کا حق ہے تو اردو بولنے والوں‘ چترالیوں‘ پوٹھوہاریوں‘ بلتستانیوں اور دیگر زبانیں بولنے والوں کا بھی حق ہے ۔ دھرتی کا بیٹا ہونے اور نہ ہونے کی یہ فضول بحث اب ختم ہوجانی چاہئے ۔ جو بھی اس ملک میں رہتا ہے وہ اس دھرتی کا بیٹا ہے ۔ سب یکساں ہیں اور سب کو یکساں حقوق حاصل ہونے چاہئیں ۔ کوئی ساٹھ سال پہلے آیا ہے ‘ کوئی دو سو سال پہلے ‘ تو کوئی دو ہزار سال پہلے۔ مجھ جیسے خیبر پختونخوا کے بیشتر پختونوں کے آباء واجدادافغانستان سے ہجرت کرکے آئے ہیں۔ گیلانی صاحب کا خاندان بھی چند سو سال پہلے سرائیکی دھرتی میں آیا ہے ۔ محمد علی درانی جو اس وقت بھاولپور صوبے کی تحریک کے محرک ہیں ‘ کے آباء و اجداد بھی چند سو سال قبل قندھار سے بہاولپور آئے تھے ۔اگر یہ سب دھرتی کے بیٹے اور وارث ہیں تو پھر اردو بولنے والے کیوں نہیں؟۔ میاں نوازشریف بنیادی طور کشمیر ی ہیں اور ان کے آباء واجداد بھی ہندوستان سے لاہور منتقل ہوئے ۔ تو کیا انہیں آج بھی پنجاب کی دھرتی کا بیٹا نہیں سمجھا جائے گا۔ ایم کیوایم کا ماضی اور حال کے ارادے اپنی جگہ لیکن ایم کیوایم کی وجہ سے سب اردو بولنے والوں کو گالی دینا پاکستان کو گالی دینے کے مترادف ہے ۔ اردو بولنے والے اگر ہم سے زیادہ دھرتی کے بیٹے نہیں تو کم بھی نہیں ۔ میرے آباء واجداد تھے‘ یا دیگر زبانیں بولنے والوں کے ‘ کوئی یہاں پر حکومت کرنے آیا اور کوئی تلاش معاش میں ۔ ہمارے آباء واجداد میں سے کسی نے بھی پاکستان کی خاطر یہاں آنے اور مقیم ہوجانے کا فیصلہ نہیں کیالیکن اردو بولنے والوں کی اکثریت کے آباء واجداد نے پاکستان کی خاطر ہجرت کی ۔ یوں وہ ہم سے زیادہ پاکستانی اور دھرتی کے بیٹے ہیں ۔ یوں تو اسلام آباد پوٹھوہاریوں کی زمین پر بنا ہے لیکن یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک کبھی اردو بولنے والے پرویز مشرف ہوتے ہیں‘ کبھی پنجابی بولنے والے میاں نوازشریف اور ان دنوں سندھی بولنے والے آصف علی زرداری مالک ہیں۔ پھر پختون اٹھ کر کہہ سکتے ہیں کہ تاریخی طور پر ان کا شہر رہنے والے کوئٹہ کی قسمت کے فیصلے کا کسی بلوچ کو اختیار نہیں دیا جاسکتا ہے یوں بھی نہ جانے ہم نئے صوبے کو نیا ملک کیوں سمجھ بیٹھے ہیں ۔ اگر نیا صوبہ بن جائے تو کیا وہاں ویزے اور پاسپورٹ کے ذریعے سفر کرنا ہوگا جو لوگ اتنا شور مچارہے ہیں ۔ اس وقت پنجاب الگ اور خیبر پختونخوا الگ صوبہ ہے لیکن مجھے پنجاب میں جانے سے کوئی روکتا ہے ‘ زمین خریدنے سے ‘ کاروبار کرنے سے اور نہ رشتہ لینے یا دینے سے ۔ بہتر یہی ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لئے ایک قومی کمیشن بنا دیا جائے جو انتظامی بنیادوں پر پورے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے لئے فارمولا وضع کرے ۔ بہتر یہی ہوگا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائے جائیں ۔ ایک فارمولا موجودہ ڈویژنوں کو صوبے قراردلوانے کا ہوسکتا ہے ۔ ایک اورتجویز انگریز کے دور کے ڈویژنوں کو صوبے قراردلوانے کی ہوسکتی ہے۔ ان کے علاوہ بھی کوئی فارمولا بنایا جاسکتا ہے جس کا اطلاق تمام صوبوں میں یکساں طور پر ہو۔ اس کمیشن میں تمام صوبوں‘ تمام قومیتوں ‘ تمام جماعتوں اور تمام طبقوں کی نمائندگی ہونی چاہئے ۔ جب تک یہ کمیشن اپنا کام مکمل نہ کرلے تب تک سیاست اور صحافت میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ختم کی جائے۔ اس کمیشن کے ارکان کو بھی اٹھارویں آئینی ترمیم کی پارلیمانی کمیٹی کے ممبران کی طرح پابند کیا جائے کہ اپنے کام کی تکمیل تک وہ میڈیا میں اس موضوع پر بات نہیں کریں گے ۔ نہیں تو یہ جس طریقے سے صوبے بنائے جارہے ہیں اور اس کی بحث جس طرف چل نکلی ہے ‘اس کے نتیجے میں صوبے تو نہیں بن سکیں گے لیکن خاکم بدہن پاکستان روانڈا بن جائے گا۔ پھر کسی کے وسائل کام آسکیں گے ‘ تاریخ کام آسکے گی اور نہ شناخت۔ سب خوار ہوں گے اور سب کے بچے مریں گے۔

ماخذ

بشکریہ جنگ کراچی