ShareThis

Saturday, December 24, 2011

بہترین اردو بلاگر کا اعزاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یار فرحان دانش! ۔

گذشتہ رات پاکستان بلاگ ایوارڈز2011ء کی تقریب تقسیم ایورڈزکا انعقاد ریجنٹ پلازہ کراچی میں کیا گیا۔ میں چند وجوہات کی بناء پراس تقریب میں شرکت نہ کر سکا۔ پاکستان بلاگ ایوارڈز2011ء میں میرا بلاگ بھی" بہترین اردو بلاگر " کی فہرست میں شامل تھا۔

نتائج کے مطابق بہترین اردو بلاگر کا ایوارڈ مجھے دیا گیا ہے۔ کاش میں ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کر لیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسوس صد افسوس مگر میں ٹوئیٹر اور فیس بک کے ذریعے تقریب پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ بہرحال اس ایوارڈ کے لیے میں اپنے اردو بلاگر ،دوستوں اور قارئین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی حوصلہ افزائی و رہنمائی کی بدولت مجھے یہ ایوارڈ دیا گیا۔

میں دیگرزمروں میں کامیاب ہونے والے بلاگرز کو بھی تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

آخر میں پاکستان بلاگ ایوارڈزکی پوری ٹیم اور ووٹ دینے اور تبصرے کرنے والے تمام ساتھیوں کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے بلاگ کو ایوارڈ کے قابل سمجھا۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔

Saturday, December 3, 2011

ادھورے سپنے - آخری قسط


گڈو کو دفن کیا جا چکا ہےاوراب محلے کی مسجد کے امام صاحب انتہائی عجزوانکساری سے گڈوکیلئے دعا مانگ رہے ہیں۔ آسمان پر بادل اورگہرے ہوچکے ہیں۔ ننھےگڈوکی موت پرآسمان کا سینہ بھی غم سے پھٹ پڑاہےاوروہ بھی مسلسل روئےچلاجارہا ہے۔ وقفے وقفےسے بادل یوں گرجتے ہیں جیسے کوئی بوڑھیا اپنے جوان بیٹے کی موت پرنوحہ کررہی ہوں۔ گہرے کالے بادل اس قدر نیچےآچکےہیں گویا وہ پرانے قبرستان میں اپنی چھوٹی سی قبر میں پرسکون سوئے ہوئے گڈوکا آخری دیدارکرنا چاہتے ہوں۔۔۔۔۔ جیسے کہ وہ ننھے گڈو کا خوبصورت ماتھا چوم لینا چاہیتے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت وایثار سے سرشارکسی ماں کی طرح۔۔۔۔۔۔!!

Tuesday, November 29, 2011

اسکریپ بک - بلاگر اردو ٹیمپلیٹ

آج میں نے اردو بلاگر ساتھیوں کے لیے ایک انگریزی بلاگرسانچے کو اردو میں تبدیل کیا ہے۔ اس ٹیمپلیٹ میں اردو میں تبصرہ جات لکھنے کے لیے علیحدہ اردو ایڈیٹر اور مصنف کے تبصروں کو علیحدہ انداز میں دکھانے کی سہولت موجود ہے۔میں نے ٹیمپلیٹ کی ٹیسٹنگ کے لیے ایک ٹیسٹ بلاگ بھی تشکیل دیا ہے۔ آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ اگر اس ٹیمپلیٹ میں کوئی خرابی نظرآئے تومجھے مطلع کریں۔ انشا اللہ میں جلد مزید ٹیمپلیٹس کو اردو میں تبدیل کر کے آپ کے ساتھ شئیر کرونگا۔ امید ہے کہ آپ کو یہ سانچہ پسند آئے گا۔

Thursday, November 24, 2011

سکون واطمینان

موجودہ دورمیں انسانی زندگی میں بے پناہ ترقی ہو چکی ہے۔جس کا تصور آج سے کئی برس قبل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ غرضیکہ انسانی زندگی میں لاتعدادآسائشوں اور سہولتوں کا اضافہ ہوگیا ہے۔ آسائشوں اور سہولتوں کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسان پہلے سے زیادہ خوش وخرم رہتا اور زندگی کو بھرپور انجوائے کرتا لیکن ایسا نہیں ہے۔وجہ؟

Monday, November 21, 2011

ادھورے سپنے – دسویں قسط


ننھے گڈو کی میت ایک چھوٹے سے جلوس کی شکل میں قبرستان کی طرف جارہی ہے۔ گڈوکی ماں تقریبا پاگل ہوچکی ہے اور روتی چیختی باہر گلی میں آچکی ہے، محلے کی عورتوں نے گڈوکی ماں کو پکڑ رکھا ہے جو اپنے آپ کو چھڑانے کی دیوانہ وار کوشش کر رہی ہےتاکہ وہ دوڑ کر اُن بیدرد لوگوں کو روک لے جو اُس کے لخت جگرکواُس سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دور لے جارہے ہیں۔

Wednesday, November 16, 2011

پاکستان بلاگ ایوارڈز2011

پاکستان بلاگ ایوارڈز2011 کا انعقاد ہورہا ہے اور مقابلہ جاری ہے جس میں میرا اردوبلاگ "دانش نامہ" بھی نامزد ہوا ہے آپ تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ آپ مجھے ووٹ دیں اور مجھےاس مقابلے میں کامیاب بنائیں۔

اگر آپ میرے بلاگ کو بطور بہترین اردو بلاگ کا ووٹ دینا چاہیں تو یہاں کلک کریں اور کھلنے والے صفحہ پر موجود ستاروں کے ذریعے اپنی پسندیدگی کا اظہار کریں۔




5 ستاروں کا مطلب سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ یعنی جتنے ستاروں پر کلک کریں گے اتنا پسندیدگی کا اظہار ہوگا۔ اگر آپ مجھےیہ ایوارڈ جتوانا چاہتے ہیں تو ووٹ کریں۔

Wednesday, November 9, 2011

تصورپاکستان کاخالق کون؟

پاکستان کے تعلیمی اداروں میں یہ پڑھایا اور بتایا جاتا ہے کہ علامہ اقبال نےپاکستان کا خواب دیکھا تھا یعنی علامہ اقبال نےپاکستان کا تصورپیش کیا تھا۔ مگرعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈگری پروگرام کی کتاب مطالعہ پاکستان کے مطابق علامہ اقبال سے پہلے ہی بہت سے لوگ تصورپاکستان پیش کرچکےتھے۔

Tuesday, October 25, 2011

غیرضروری تعطیلات

 چھٹیوں کے شوقین لوگوں کیلئےبطورخاص ایک نظم

بڑوں کو اور چھوٹوں کو انہیں صدمات نے مارا
مجھے دفتر انہیں کالج کی تعطیلات نے مارا

کبھی سردی کی چھُٹی ہے، کبھی گرمی کی چھٹی ہے
یہ سب اس کے علاوہ ہیں جو ہٹ دھرمی کی چھٹی ہے


Sunday, October 23, 2011

دو سیاستدان ایک مستقبل

آج کل میڈیا عمران خان کو بہت پروموٹ کر رہا ہے اور خود عمران خان نے جب سے ایک سال قبل دھرنے دیئے تھے خود کو آنے والے وقت کا وزیر اعظم سمجھ رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ مثال بھی دیتے ہیں کہ اگر وہ وزیر اعظم ہوتے تو ایسا کرتے ویسا کرتے ایک ہاتھ سے وہ صدر زرداری کو للکارتے ہیں تو دوسرے ہاتھ سے وہ نوا ز شریف کی خبر لیتے ہیں۔ ایسی چٹ پٹی خبروں کو میڈیا والے خوب مزے لے کر اچھالتے ہیں تو عمران خان اور اُن کی پارٹی کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ واقعی اگر وہ وزیر اعظم بن گئے

Tuesday, October 4, 2011

پاکستان میں سافٹ ویئر پائریسی



آپ میں سے تقریبا ہر ایک نےزندگی میں کم ازکم ایک بار MP3سونگ فری سائیٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا ہوگا۔ کوئی چیز مفت مل جانا بڑی بات ہےتاہم اگر وہ کسی اور کو اُسکی محنت اور کوشش کو نقصان پہنچائے بغیر ہو ۔کبھی آپ نے سوچا کہ مفت گانے، فلمیں، گیمز اور سافٹ وئیرزڈاؤن لوڈکرنے سےانکو بنانے والوں کی رائلٹی کو نقصان پہنچتاہے۔

Monday, September 19, 2011

Saturday, August 20, 2011

ادھورے سپنے – نویں قسط


آسمان پر گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں، سرد اور تیزہوائیں چل رہی ہیں۔ بادل وقفے وقفےسے گرجتے ہیں تو یوں لگتاہےجیسے گڈو کی موت پر چپکے چپکے رورہے ہیں۔ ننھے گڈو کی میت اُٹھنے کی تیاری ہورہی ہے۔ مسجد سے لایا گیا جنازے کا ڈولا گھر کے باہررکھا ہوا ہےاور چونکہ آنگن میں لگا ٹین کا دروازہ بہت چھوٹا ہے اور ڈولا اندر لایا نہیں جاسکتالہذا پروگرام کے مطابق گڈو کو گود میں اُٹھا کر باہر جنازے کے ڈولے پر لٹایا جائے گااور اُس کے بعد میت قبرستان کی طرف روانہ ہوگی۔

Thursday, July 28, 2011

سرفروشی کی تمنا اور بسمل شاہجہانپوری

 ایک غزل کا مطلع مشہور ہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زورکتنا بازوئے قاتل میں ہے

عام طور پر یہ مولانا ظفر علی خان (1873ءتا1956ء) کےنام سےمشہور ہے لیکن یہ مطلع ایک گمنام شاعر بسمل شاہجہانپوری کاہے۔ بسمل شاہجہانپوری نے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ہوش سنھبالنے کے بعد دل ودماغ میں یہی تڑپ تھی کہ برطانیہ کی غلامی سے آزاد ہونا چاہیے۔ 1916ء میں ان کا رابطہ انہی خیالات کے حامل ایک اور نوجوانوں کے گروہ سے ہوا۔1918ء میں "مین پوری"سازش کے اہم واقعہ میں بسمل بھی شریک تھے 9اگست 1925ء کو انہوں نے کاکوری (لکھنو کا ایک مشہور قصبہ)ٹرین کی واردات میں حصہ لیا یہ سیاسی نوعیت کی واردات تھی۔ گرفتار ہوئے، مقدمہ چلتا رہاآخر19دسمبر1927ءکوبسمل شاہجہانپوری کو سزاموت دے دی گئی۔

Tuesday, July 26, 2011

پچاس ارب روپے


پی پی حکومت 50 ارب روپے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام پر خرچ کررہی ہے. اس سے لوگوں کو ایک ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں. بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام سےامید تھی کہ اس مستحق بیوہ عورتوں کو جو اسکی ہر شرئط پر پوری اترتی ہیں، تھوڑی ہی سہی مگر کچھ مالی مدد ملے گی

Monday, July 25, 2011

غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیاں

پاکستان میں رمضان مبارک کا چاند نظر آنے والا ہے۔ اور رویت ہلال پر صوبہ خیبر پختون خواہ کے "شرانگیز" مولویوں کی دکانیں کھلنے والی ہیں۔ پشاور کی مسجد قاسم علی خان غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا مرکز ہے۔ چاند کی زیادہ فکر مسجد قاسم علی خان کے مولوی شہاب الدین پوپلزئی کو ہوتی ہے جوصرف رمضان اور شوال کا چاند دیکھنے کا اہتمام کرتا ہے اورصرف رمضان اور شوال کے چاند کے لیے اپنی دوکان کھول لیتا ہے۔ کیوں کہ جو "نام نہاد" شہرت اور مشہوری رمضان اور شوال کے چاند کے لیے ملتی ہے وہ کسی اور مہینے میں نہیں ملتی۔

"نام نہاد" شہرت اورمشہوری حاصل کرنے کے لیے اگر امت مسلمہ میں شر، فتنہ، فساد اور تفرقہ پھیلانا پڑے تو کیا ہوا۔ اور کون ہے پوچھنےوالا ؟؟؟ غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیوں کے شر کو پھیلانے میں میڈیا کا بہت زیادہ ہاتھ ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ میڈیا بھی ان کو پروموٹ کر رہا ہے یا سستی شہرت کا متلاشی ہے۔

رویت ہلال کے لیے صوبہ خیبرپختون خواہ کے "نام نہاد" مولویوں کے آگےعلم نجوم، ماہرین فلکیات، محکمہ موسمیات، پاکستان نیوی، سپارکو والے بھی جھوٹے اور بے بس ہو جاتے ہیں۔ ان اداروں کو حساس دوربینوں سے چاند نظر نہ آئے مگر شہاب الدین پوپلزئی اپنی آنکھوں سے چاند نظر آ جاتا ہے۔ 
صوبہ خیبرپختون خواہ کی سابقہ حکومتوں (متحدہ مجلس عمل اورعوامی نیشنل پارٹی) کے "بے عقل" وزیروں نے ان غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کو بھرپور سپورٹ کیا اور امت مسلمہ میں شر، فتنہ، فساد اور تفرقہ پھیلانے کے کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

مرکزی حکومت کو چاہیے کہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں قائم غیر سرکاری
 رویت ہلال کمیٹیوں کو فورا بند کروائے اوران کے کارندوں، ہمدردوں اور ان کی دکانیں سجانے والوں کو پابند سلاسل کرے ۔

Wednesday, July 20, 2011

ادھورے سپنے – آٹھویں قسط

اس پوسٹ کی ساتویں قسط یہاں ملاحظہ فرمائیں

گڈو کی لاش اگرچہ شام سے گھر میں پڑی ہے لیکن ماں کو اب بھی یقین نہیں آرہا کہ ننھا گڈو اُسے ہمیشہ ہمیشہ  کیلئے چھوڑ کر جا چکا ہے ۔۔۔۔ وہ وقفے وقفے سے دھاڑیں مار مار کر رونے لگتی ہے اور روتے ہوئے ننھے گڈوکے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں اور منہ کو بے تابی سے چومنے لگتی ہے۔۔۔۔لیکن ننھے گڈو پر ماں کے رونے کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔۔۔۔

Tuesday, July 19, 2011

بھوکے ننگے

29 جون1948ء کو چوہدری قادربخش مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک عجیب و غریب مقدمہ پیش ہوا اس مقدمے میں مہاجر کیمپ میں مقیم میاں بیوی پر سرکاری خیمے کا کچھ کپڑا کاٹنے کا الزام تھا۔ پولیس کی حراست میں اس جوڑے نے عدالت کو بتایا کہ ہم اس کیمپ میں پچھلے پانچ ماہ سے مقیم ہیں ہمارے جسموں پر پہنے ہوئے کپڑے پرانے اور بوسیدہ ہوکر اس بری طرح پھٹ چکے تھے جس سے ہمارے جسم جگہ جگہ سے بری طرح ننگے ہو رہے تھے

Tuesday, July 12, 2011

کراچی، پختون، مہاجر اور زرداری

پختون فکری جرگہ کے چیئرمین امیرحمزہ مروت زندگی کے بہاروں کی نصف صدی کب کی مکمل کرچکے ہیں لیکن جذبے ان کے اب بھی جوان ہیں۔صاحب مطالعہ شخصیت ہیں اور بھرپور سیاسی زندگی گزاری۔خان عبدالولی خان کے قریبی ساتھی رہے، ان کی جماعت کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے رکن رہے ۔ یہ جماعت بدل گئی تو انہوں نے بدلنے سے انکار کیا اور 1995ء میں اسے خیر باد کہہ دیا البتہ جب تک یہاں رہے خان عبدالولی خان کے بااعتماد افراد کی صف میں رہے اور وہ سندھ سے متعلق اہم معاملات ان کے ذریعے نمٹاتے رہے۔ پچھلے دنوں میرے دفتر تشریف لائے ۔ سندھ کے ماضی اور حال پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔تاریخ کے صفحات الٹتے ہوئے انہوں نے بعض ایسے واقعات سنائے کہ جو عجیب و غریب ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت دلچسپ بھی تھے۔

Sunday, July 10, 2011

کراچی میں پائیدار امن ہوگیا؟

ماضی قریب میں کراچی کئی بار بدامنی کا شکار بنتا رہا ہے، جب میڈیا حکومت کی توجہ بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں کی جانب دلاتا ہے تو حکومت حرکت میں آتی ہے اور کچھ اقدامات کر کے عارضی طور پر صورتحال پر قابو پاتی ہے کچھ گرفتاریاں اور اسلحہ کی برآمدگی کے بعدپھر خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگتی ہے۔ کچھ عرصے بعد پھر وہی قتل و غارت گری دوبارہ شروع ہو جاتی ہے اور حکومت اپنا آہنی ہاتھ دھونڈنے میں اتنا وقت لگا دیتی ہے کہ درجنوں بے گناہ شہری دہشت گردی کا شکار ہو کر رزق خاک بن جاتے ہیں اور عوام یہی سوچتی رہتی ہے کہ بے گناہ شہریوں کا خون ناحق کب تک بہتا رہے گا اور کب شہر کراچی کو مستقل امن میسر آئے گا؟

Wednesday, June 22, 2011

ادھورے سپنے – ساتویں قسط

اس پوسٹ کی چٹھی قسط یہاں ملاحظہ فرمائیں

تاریک کمرےکےسامنےکچی اینٹوں کے آنگن میں پائیوں سے محروم چارپائی پر ننھا گڈوصاف ستھرا اور بے داغ کفن اوڑھےابدی نیند سورہا ہے۔ گڈو کے چہرے پر ایک خاص قسم کا اطمینان اور سکون نظر آرہا ہے۔شائد گڈوکو نئی سفید چادر اوڑھ کر سونے کی خوشی ہے۔

Wednesday, June 15, 2011

ادھورے سپنے – چٹھی قسط


کچی بستی کے قریب سے گذرنے والی سڑک پر لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے ۔سرخ خون سڑک پر بہتا ہوا مٹی میں جذب ہو چکا ہےاور وہاں صرف جذب شدہ مٹی کاہلکا سرخ نشان نظر آرہا ہے۔ سڑک پر لوگوں کی بھیڑکے درمیان گڈو خون میں لت پت پڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, June 9, 2011

نہتے نوجوان کا ماروائے عدالت قتل

بدھ کی شام کراچی میں رینجرزاہلکاروں نے نہتے نوجوان کوماروائے عدالت قتل کر دیا۔ نوجوان مقامی صحافی سالک شاہ کا بھائی تھااس کا نام سرفرازشاہ تھا. میڈیا پر نشر کی جانے والے فوٹیج میں سرفراز شاہ کے ماروائے عدالت قتل کے دلخراش مناظر دکھائے ہیں وہ انتہائی درد ناک و قابل مذمت ہیں.

Tuesday, June 7, 2011

ادھورے سپنے – پانچویں قسط


ماں تاریک کمرے میں بیٹھی چھوٹی چھوٹی پلاسٹک کی تھیلیوں میں ٹافیاں بھرنے میں مصروف ہے جن کے ٹھکیدار مناسب پیسے دے دیتا ہے۔ماں کی عمر بمشکل 30سال ہوگی،لیکن بھوک وافلاس کی زندگی نے اُسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے۔ اُس کے چہرے کو دیکھ کر آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ یقیناکبھی بے حد خوبصورت رہی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اُس کی زنڈگی سے محروم آنکھوں اور چہرے کی اُبھری ہوئی ہڈیوں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آنکھیں برسوں ہوئے مُسکرانا بھول چکی ہیں ، اب تو شائد یہ رونا بھی بھول چکی ہیں۔

Saturday, June 4, 2011

ادھورے سپنے – چوتھی قسط


سورج کی تپش پر شام کی ٹھنڈی ہوا غالب آچکی ہے۔ اونچی کلاس کے لوگ اپنے ایئر کنڈیشنڈ کمرورں سے نکل کر ٹھنڈی سڑکوں پر اپنی چمکتی دمکتی کاروں میں بیٹھ کر آنا شروع ہو گئے ہیں ۔سڑک پر ہر طرف رونق نظر آرہی ہے اور اونچی کلاس کے لوگ اپنے بچوں کے ساتھ رنگ برنگ اور رزق برق لباس پہنے ادھراُدھر گھوم پھر رہے ہیں اور اپنے پسندیدہ مشغلے "شاپنگ"میں مصروف ہیں ۔

Wednesday, June 1, 2011

ادھورے سپنے –تیسری قسط


گڈو کباڑیئے کی دوکان پر اپنے تھیلے کے ساتھ کھڑا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کباڑیہ فارغ ہو کر اُس کے تھیلے کا وزن کرے ۔ گڈو کے چہرے پر ایک عجیب سی مسرت اور اطمینان نظرآرہا ہے۔شائد وہ اپنی دن بھر کی کارکردگی سے مطمئن ہے اور اُسے قو ی یقین ہے کہ آج اُسے معمول سے پندرہ بیس روپے زیادہ ملیں گے اور اُس کے بعد اُس کا نئی بال خریدنے کا خواب پورا ہوگا ۔

Tuesday, May 31, 2011

ادھورے سپنے –دوسری قسط


دوپہر کا وقت ہے ۔ گڈو کچرے کے ایک ڈھیر میں سے کا غذ اور گتے چُن چُن کر اپنے کندھے پر پڑے تھیلے میں ڈال رہا ہے۔وہ اپنے ارگرد کی غلاظت اور بد بو سے بے نیاز اپنے کام میں مصروف ہے اور اپنے چھوٹے سے سر کو ادھر اُدھر گھما کر مزید کاغذ ڈھونڈنے کی کو شش کر رہا ہے ۔ اس اثناء میں کچرے کے ڈھیر سے کچھ فاصلے پر کھڑے دو،تین کتے گڈو پر بھونک رہے ہیں۔ گڈو چنتے چنتے کبھی کبھی نیچے جُھک کر کوئی چیز اُٹھانے اور اُس کو مارنے کی اداکاری کرتا ہے جس سے کتے ڈر کر دو تین قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں لیکن بھونکنے کا سلسلہ بدستور جاری رہتا ہے۔

Monday, May 30, 2011

ادھورے سپنے – پہلی قسط

ایک چھوٹے سے آنگن میں بستر سے محروم دو ٹوٹی پھوٹی سی چارپائیوں پردو افراد میلی کچیلی سی چادر تانے سو رہے ہیں۔ چارپائیاں اس قدر پرانی ہیں کہ اُن کے نیچے بان کے ٹوٹے ہوئے کونے لٹکتے آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ اکثر جگہوں پر بان کی جگہ پرانے کپڑوں کے ٹکڑوں اور کالے شاپنگ بیگ کو بان کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ایک چارپائی کے دو پائیوں کی کمی کو پرانی اور ٹوٹی پھوٹی اینٹوں سے پورا کیا گیا ہے اور وہ ایک طرف سے اینٹوں کے دو چھوٹے پلروں پر کھڑی ہے ۔ قریب ہی فرش پر بھی کچھ بچے کھجور کے پتوں کی چٹائی پر سو رہے ہیں اور ان میں سے ایک چٹائی سے لڑھک کر کچی اینٹوں پر پہنچ گیا ہے ۔

Saturday, May 14, 2011

امریکہ، پاک فوج اور انڈیا

ایبٹ آباد میں امریکن ایکشن نے اس طرح بوکھلا دیا کہ اپنی فوج اور اپنی آئی ایس آئی پر ہی یلغارکردی۔ جس نے بجا طور پر کہا کہ ان کی کارکردگی بہت اچھی رہی لیکن یہ انسانو ں پر مشتمل ایک ادارہ ہے جوخدا نہیں۔ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھانے والے یہ تو کہتے ہیں کہ امریکہ نے ہماری سرحدوں کااحترام نہیں کیا لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اُسامہ نے بھی تو ہماری سرحدوں کااحترام نہیں کیا۔ وہ دنیا کا مطلوب ترین شخص ہونے کے باوجود غیرقانونی اور خفیہ طور پر اس ملک کی حدود کے اندر موجود تھا اور اس کی یہ موجودگی مختلف مسائل میں گھرے اس ملک کوپوری عالمی برادری میں خجل کرگئی ہے۔ ذرا تصور کریں کہ کوئی عام معصوم پاکستانی ”برادر“ اسلامی ملک سعودی عرب میں غیرقانونی طور پر مقیم ہو اور وہ بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ لیکن حقیقت پسندی اور دلیل کے ساتھ تو ہماری پرانی دشمنی ہے۔

Tuesday, May 3, 2011

چند سوال جن کا جواب ہر پاکستانی کو درکار ہے

کئی سالہ جدوجہد کےبعد اسامہ بن لادن  ہلاک ہو ہی گیا۔ مگر  اب چند سوال جن کا جواب ہر پاکستانی کو درکار ہے ۔

ہماری انٹیلیجنس کو کیو ں یہ پتہ نہ چل سکا کہ اسامہ ایبٹ آباد میں ہے ؟
کیا امریکہ نےپاکستان کو  کارروائی سے پیشگی آگاہ کیا تھا ؟

Friday, April 29, 2011

بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ

میڈیا نے برطانیہ کے شہزادہ ولیم اورکیٹ کی شادی میں لوگوں کی دلچسپی اس قدربڑھادی تھی کہ موضوع کوئی بھی ہو بات شاہی شادی کی طرف جانکلتی تھی۔ مارکیٹوں میں،سڑکوں پر ،گھروں میں خواتین کے درمیان گفت و شنید ہو یا دوستوں کی محفل،ہر طرف شاہی شادی کا معاملہ زیر بحث تھا،

شاہی شادی



آج برطانیہ کے شہزادہ ولیم اورکیٹ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ شادی کی تقریب ویسٹ منسٹر ایبے میں منعقد ہوئی۔ شہزادہ ولیم فوجی ودی میں ملبوس تھے انہوں نے لال رنگ کی وہ ٹویونک بھی پہنی جو آئرش گارڈز کا سب سے بڑا افسرپہنتا ہے۔ جبکہ کیٹ نے ایک خوبصورت گاﺅن زیب تن کر رکھا تھا۔اس  شاہی شادی کی تقریب کا سب کو بے چینی سے انتظار تھا اور آج یہ انتظار ختم ہوا ، کیٹ میڈلٹن شاہی خاندان کا حصہ بن گئیں۔

Friday, April 22, 2011

معین اختر انتقال کر گئے

پاکستان کے معروف اداکار معین اختر جمعہ کی شام کراچی میں انتقال کرگئے ۔ ان کی عمر 61برس تھی۔ وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور گذشتہ کئی روز سے وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے۔معین اختر پاکستان ٹیلیوژن، اسٹیج اور فلم کے ایک مزاحیہ اداکار اور میزبان تھے۔ اسکے علاوہ وہ بطور فلم ہدائتکار، پروڈیوسر، گلوکار اور مصنف کام کر چکےتھے۔

Sunday, April 10, 2011

میں تودیکھوں گا


مایوسیوں اور مشکلات میں گھرے عوام کا حوصلہ بلند رکھنے کے لیے مشہور پاپ بینڈ اسٹرنگز نے نیاگانا متعارف کرادیا۔ اسٹرنگز کے نئے گانے۔ میں تو دیکھوں گا۔ پاپ بینڈ اسٹرنگز کا کہنا ہے کہ لوگوں کو امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے

Wednesday, March 16, 2011

ریمنڈ ڈیوس کی رہائی

لاہور کی ایک عدالت نے دوہرے قتل کے الزام میں گرفتار امریکی ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ آج کوٹ لکھ پت جیل میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران ریمنڈ ڈیوس پر باضابطہ طور پر فردجرم عائد کی گئی، تاہم مقتولین کے ورثا نے عدالت کو مطلع کیا کہ

Friday, March 11, 2011

بلاگ کی دوبارہ بحالی

چند دنوں قبل میری ویب سائٹ اور بلاگ جس سرور پر چل رہے تھے اُس کا سرور کریش ہوگیا تھا جس کی وجہ سے ویب سائٹ اور بلاگ پر دستیاب تمام ڈیٹا ضائع ہو گیا ہے۔ میں 20 جنوری  2011کو کراچی چلا گیا تھا کراچی میں میرے پاس پی سی نہیں تھا جس کی وجہ سے میرے پاس ویب سائٹ اور بلاگ کا بیک اپ بھی لے سکا تھا۔ جب واپس گھر آیا تو پتہ چلا کہ ویب سائٹ تباہ ہو چکی ہے۔  آج بمشکل پرانی بیک اب کی فائل ملی ہے جس سے میں اپنے بلاگ کو دوبارہ بحال کر رہا ہوں۔

تمام بلاگ ایگریگیٹرز اور دیگر ویب سائٹس کے ایڈمن صاحبان سے گذارش ہے کہ وہ میرے بلاگ کی فیڈ کا  http://feeds.feedburner.com/TheFarhanDanish لنک تبدیل کر دیں۔ نیا لنک یہ ہے۔