ShareThis

Monday, February 23, 2009

موبائل فون استعمال کرنے والوں کي تعداد چھ فيصد کمي

پاکستان ميں موبائل فون استعمال کرنے والوں کي تعداد چھ فيصد کمي کے بعد نو کروڑ سے کم ہوگئي ہے- انويسٹ کيپ کي رپورٹ کے مطابق تين ماہ قبل ملک ميں موبائل فون صارفين کي تعداد نوکروڑ سے تجاوزکرگئي تھي جو دسمبر دوہزارآٹھ ميں پانچ لاکھ کي کمي سے آٹھ کروڑننانوے لاکھ پرآگئي۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ميں گزشتہ چار ماہ کے دوران موبائل فون يوزرکي ٹيلي ڈينسٹي پچپن اعشاريہ آٹھ فيصد پرآگئي ہے

کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا موبائل ہوتا

کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا موبائل ہوتا
تو بڑے چاؤ کے ساتھ بڑے مان کے ساتھ
اپنے نازک سے ہاتھوں میں اٹھاتی مجھ کو
اور جوش مسرت سے گھماتی مجھ کو
میں تیرے ہاتھ میں لہرا لہرا سا جاتا
تو ہر وقت ایس ایم ایس پڑھا کرتی
تو مجھ کو اور میں تجھ کو دیکھا کرتا
جب محبت بھرا ایس ایم ایس پڑھ کر مجھے چومتی
میں تیرے ہونٹوں کی حدت سے دہک سا جاتا
جب کسی بور ایس ایم ایس کو تو ڈیلیٹ کرتی
درد کی شدت سے میں بلبلا جاتا
رات کو تو جو سوتی مجھے سینے سے لگا کر
میں تیرے کان میں کھسر پھسر کرتا
تو دل والوں کو دل کھول کر میسج بھیجتی
اور سارا مہینہ ٹاک فری پے بات کرتی
کچھ نہیں تو تیرا اک بے نام سا موبائل ہوتا
کاش میں تیرےحسین ہاتھ کا موبائل ہوتا

گوگل کی موبائل فون صارفین کے باہمی رابطے کیلئے نئی سروس

امریکی انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نے موبائل فون صارفین کو باہمی رابطے کے حوالے سے ایک نئی سروس متعارف کرائی ہے۔ دنیا کے 27 ممالک میں بیک وقت متعارف کرائی جانے والی اس نئی سروس کی مدد سے موبائل فون استعمال کرنے والا کوئی بھی شخص نہ صرف یہ معلوم کرسکے گا کہ اس کا دوست یا مطلوبہ شخص اس وقت کس مقام پراور کس حال میں ہے بلکہ ایس ایم ایس کے ذریعے اس کے ساتھ فوری رابطہ بھی کرسکے گا۔ گوگل کے حکام کے مطابق یہ سروس موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں اور گوگل کی مشہورویب سائٹ گوگل ارتھ کے تعاون سے فراہم کی جارہی ہے۔ اس سروس کے تحت کوئی بھی موبائل فون صارف جو اس کے استعمال پر رضا مندی ظاہر کرے گا، سے رابطہ کرنے والے افراد کو ا س کی فون اسکرین پر وہ مقام نظر آئے گا جہاں اس وقت صارف موجود ہے۔ نئی سروس جیسے گوگل لیٹی چیوڈ کا نام دیا گیا ہے ، کو گوگل کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔ گوگل حکام کے مطابق یہ سہولت صرف انہی صارفین کو حاصل ہوگی جو اس کے استعمال پر رضا مندی کا اظہارکریں۔ ایسے صارفین کو اپنے دوستوں کو اپنی موجودگی کے مقام کے بارے میں غلط معلومات دینے کا بھی اختیار ہوگا چنانچہ موبائل فون استعمال کرنے والا شخص اگر جنوبی افریقہ میں موجود ہے تو وہ اپنے موبائل فون کی سیٹنگز بدل کررابطہ کرنے والے شخص کویہ بتا سکتا ہے کہ وہ اس وقت کینیڈا کے کس شہر میں موجود ہے۔

Tuesday, February 3, 2009

موبائل فون کمپنی کے فرنچائز مالکان کا احتجاج،آج سے کاروبار بند رکھنے کا اعلان

موبی لنک فرنچائز کے مالکان نے 2فروری سے احتجاجاً کاروبار بند کرتے ہوئے کراچی میں تمام فرنچائز دفاتر کو بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ موبی لنک فرنچائز ایسوسی ایشن نے ایک ہنگامی بریفنگ میں کیا۔ فرنچائز مالکان کا کہنا تھا کہ موبائل کمپنی محض آمدنی بڑھانے کی خاطر فرنچائز کو غیر معقول قسم کے اہداف (سیلز ٹارگٹ) دے رہی ہے جس کے باعث ڈیمانڈ اور سپلائی عدم توازن کا شکار ہے۔ ایسوسی ایشن کے نائب صدر یوسف خان نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم متعدد مرتبہ کمپنی کو اپنی مشکلات اور نقصانات سے آگاہ کرچکے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی ،اب ہم مزید نقصانات برداشت کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہے۔ سپلائی زیادہ ہونے کے باعث ہمیں کالنگ کارڈ نقصان پر فروخت کرنے پڑ رہے ہیں۔ اجلاس میں ایسوسی ایشن کے صدر حاجی عالم زیب، جوائنٹ سیکرٹری سلیم احمد اور دیگر ارکان نے بھی شرکت کی۔ ایسوسی ایشن نے صدر آصف زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پی ٹی اے کے چیئرمین سے مطالبہ کیا کہ ان کے مسائل پر توجہ دی جائے ورنہ ہزاروں افراد کے بے روزگار ہونے کا خطرہ ہے۔

ریفرنس: جنگ

Monday, February 2, 2009

موبائل فون سموں کے اجراء اورتصدیق کا نیا نظام آج سے کام شروع کریگا

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی طرف سے ایکٹیو موبائل سموں کے اجراء اور کوائف کی تصدیق کے بعد ان کی ایکٹیویشن کا نیا نظام (آج) اتوار یکم فروری سے کام شروع کر دے گا جس کیلئے تمام تیاریاں اور انتظامات مکمل کئے جا چکے ہیں، نئے نظام کے تحت موبائل آپریٹرز کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ نئی سم کو وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق جاری کریں۔ یہ بات پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین ڈاکٹر محمد یٰسین نے ہفتہ کو متعدد موبائل فون کمپنیوں کے کال سینٹرز اور کسٹمر سروسز سینٹر کے دورے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی اے تمام موبائل آپریٹرز کے ساتھ 3 ماہ کے بعد میٹنگ کرے گی جس میں نئے نظام کے نفاذ کے حوالہ سے مختلف امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس موقع پر پی ٹی اے کے چیئرمین نے موبائل سموں کی ایکٹیویشن کے نظام کو یکم فروری 2009ء سے نافذ العمل کرنے کیلئے موبائل کمپنیوں کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا اور صارف کے کوائف کی تصدیق کے عمل کے بارے میں مختلف سوالات کئے۔

ریفرنس: جنگ