ShareThis

Thursday, December 25, 2008

ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں

ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں



تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
بہت سے کام مقدرپہ ٹال رکھتے ہیں



کوئی بھی فیصلہ ہم سوچ کر نہیں کرتے
تمہارے نام کا سکہ اچھال رکھتے ہیں



تمہارے بعد یہ عادت سی ہوگئی اپنی
بکھرتے سوکھتے پتے سنبھال رکھتے ہیں



خوشی سی ملتی ہے خود کو اذیتیں دے کر
سو جان بوجھ کے دل کو نڈھال رکھتے ہیں



کبھی کبھی وہ مجھے ہنس کے دیکھ لیتے ہیں
کبھی کبھی مرا بے حد خیال رکھتے ہیں



تمہارے ہجر میں یہ حال ہو گیا اپنا
کسی کا خط ہو اسے بھی سنبھال رکھتے ہیں



خوشی ملے تو ترے بعد خوش نہیں ہوتے
ہم اپنی آنکھ میں ہر دم ملال رکھتے ہیں



زمانے بھر سے چھپا کر وہ اپنے آنچل میں
مرے وجود کے ٹکڑے سنبھال رکھتے ہیں



کچھ اس لئے بھی تو بے حال ہوگئے ہم لوگ

تمہاری یاد کا بے حد خیال رکھتے ہیں



شاعر کا نام : وصی شاہ

1 comment: