ShareThis

Wednesday, April 7, 2010

ثانیہ شعیب رومانس کے سحر میں دونوں ہی ملک گرفتار ہیں


پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک اور بھارت کی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے جب یہ اعلان کیا کہ وہ شادی کرنے جا رہے ہیں اسی وقت سے ہی سازشوں اور الجھنوں نے سر اٹھا لیا۔ بھارت کی دائیں بازو کی جماعت بی جے پی نے ثانیہ مرزا کو ایک پاکستانی سے شادی کے فیصلے پر نظر ثانی کا کہا ہے جب کہ بھارت کی مرکزی جماعتیں اس مسئلے پر خاموشی طاری کیے ہوئے ہیں۔پاکستان میں بھی دائیں بازو کی اسلامی جماعتیں جو خواتین کے اسکرٹس پہننے پر بہت کچھ کہتی ہیں وہ بھی خاموش ہیں، جب کہ مرکزی جماعتیں مبارک بادیں دے رہی ہیں۔سرحد کے دونوں پار ان جماعتوں میں یہ متضاد رویے کئی باتوں کا انکشاف کرتے ہیں کہ بیوی کو خاوند کے دیس کی باسی ہونا چاہیے، لہذا ایک بھارتی عورت کا پاکستان مرد سے شادی غیر حب الوطنی ہے جب کہ دوسری طرف پاکستانی مرد کا بھارتی خاتون سے شادی فتح کی علامت گردانا جا رہا ہے۔لیکن اسی لمحے پردہء اسکرین پر ثانیہ کے شہر حیدرآباد کی عائشہ صدیقی اس دعوے کے ساتھ نمودار ہوئی ہے کہ وہ شعیب ملک کی بیوی ہے اور2005میں پاکستانی کرکٹ ٹیم ان کے گھر کھانے کی دعوت پر آئی تھی جس نے شعیب کو پہلی بار سسرال سے ملنے کا موقع فراہم کیا۔اس وقت بھی سرحد پار عائشہ شعیب کی محبت کی کہانی نے سر اٹھایا اور خبروں کی مرکز رہی۔کہانی کے مطابق یہ لڑکی جدہ میں ملی۔ عائشہ کے مطابق اس بات کی شعیب تصدیق یا تردید نہیں کرتے ۔انٹر نیٹ نے ان کے تعلق کو پروان چڑھایا اور2002میں فون پر دونوں کی شادی ہوئی۔تین سال بعد عائشہ کے والد اس شادی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں لیکن شعیب عائشہ کو طلاق دینے سے انکار کردیتے ہیں۔ شعیب اس بات پر بضد ہیں کہ یہ انٹرنیٹ پر رومانس تھا شادی تو کبھی ہوئی ہی نہیں لیکن اب شعیب اس کو مانتے ہوئے کہتے ہیں کہ فون پر نکاح اور شادی کی تقریب کا لڑکی طرف سے دباوٴ تھا۔جب کہ حیدرآباد کے قاضی کہتے ہیں کہ فون پر نکاح کی اسلام میں کوئی حیثیت نہیں۔عائشہ اور ماہا کون ہیں؟ شعیب کے مطابق جس خاتون سے وہ شادی پر راضی ہوئے اور جس کی تصاویر دیکھیں وہ اپنے آپ کو عائشہ کہلاتی تھی لیکن بعد میں جو لڑکی سامنے آئی وہ بالکل ان تصاویر سے مختلف تھی۔شعیب نے اس لڑکی کی تصاویر جاری کرنے سے انکار کردیا کیونکہ اسے معلوم ہوا کہ اس کی شادی تو بہت پہلے ہو چکی تھی اور وہ اس کو اس اسکینڈل میں لانا نہیں چاہتا۔ماہا جس سے شعیب شادی پر رضامند ہوا وہ اسے عائشہ کی دور کی رشتہ دار سمجھتا ہے، لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشہور نوجوان کر کٹر اتنی بے خبری اور بھولے پن سے ایسی لڑکی کا انتخاب کیسے کرسکتا ہے جو دکھائی دینے میں مختلف ہو؟ پاکستان سمیت دنیا بھر میں محبت کی شادی میں کسی کی صفات کے بارے تضاد تو سامنے آسکتا ہے لیکن شکل وصورت مختلف اور دھوکا دہی پر مبنی ہو، ناقابل یقین ہے۔بہرحال بات کچھ بھی ہو پاکستان میں ثانیہ کے استقبال کے لیے تیاریاں زورو شور پر ہیں۔


 


9 comments:

  1. یہ امن کی آشا نامی فلم کے کچھ سین تھے جو آپ حضرات نے ملاحظہ فرمائے،پہلے اس کی ہیروئن کوئی اور تھی اور اب کوئی اور ہے حکومتیں بدل جانے سے ادھوری فلم ڈبوں میں چلی گئی تھی،جو حالات موفق آتے ہی دوبارا ڈبے سے باہر آگئی مگر ہیروئن کی تبدیلی کے ساتھ :cool:
    اور بقول ڈفر ہن تے آل یز ویل ;-)

    ReplyDelete
  2. اگر شعیب اپنے کلچر کیمطابق ثانیہ سے شادی کرتا تو زیادہ مزہ آتا۔ یعنی بارات پاکستان سے جاتی۔ مہندی پاکستان میں‌ہوتی،، نکاح انڈیا میں ہوتا اور ولیمہ پاکستان۔
    لیکن شعیب نے شادی سے پہلے اکیلے ہی ثانیہ کے گھر جا کر اور اس کیساتھ میڈیا کے سامنے پیش ہو شادی کو مشرقیت کی بجائے مغربیت کا رنگ دے دیا ہے۔

    ReplyDelete
  3. معاملہ حل ہوا عائیشہ کا
    اب تو ہونے ہی والی ہے شادی
    بجاؤ شادیانے
    لگاؤ مہندی
    کرو دھمال
    مک گیا وبال
    خریدو ڈانڈیاں
    بناؤ نئے کپڑے
    اٹھاؤ ڈولی
    سجاؤ کمرے
    کرو سنگھار
    آرہی ہے بہار
    لگاؤ نعرہ
    فتح ہوئی ہماری
    آگئی ثانیہ
    اب کر استقبال

    ReplyDelete
  4. کہاں ثانيہ کہاں شعيب

    ReplyDelete
  5. اب تو عائشہ پکی آؤٹ ہوگئی ہیں سو پندرہ کا انتظار کریں سب جعفر سمیت :twisted:

    ReplyDelete
  6. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    واقعی شعیب اورثانیہ کی شادی میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جوکہ شعیب نےظاہرنہیں کی اوریہ عائشہ کی کہانی بھی ایسی ہی ہےلیکن ایساتوہوتاہی ہےایسےکاموں میں عائشہ کےلیےبولاہےجی :???:
    ویسےایک بات توواضح ہےکہ ہماری کھلاڑیوں پرخصوصاکرکٹ کےکھلاڑیوں پربھارتی ناریاں عرصہ سےمرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :mrgreen:

    والسلام
    جاویداقبال

    ReplyDelete
  7. کچھ وقت کی بات یہ وقتی سحر ہے بہت جلدی اتر جائے گا ،

    ReplyDelete
  8. نہ جانے کیوں رہی اب تک تمہاری ثانیہ مرزا
    ہمیں لگتا ہے‘ تھی کب سے‘ ہماری ثانیہ مرزا
    یقیں ہے اب ہمیں‘ بھارت سے ہم کشمیر لے لیں گے
    اس دم‘ جب تیری ڈولی اتاری‘ ثانیہ مرزا
    بے چارے ”ٹھاکرے“ کا بس نہیں‘ کچھ کر نہیں سکتا
    بہادر ہے‘ نہیں بے بس بے چاری ثانیہ مرزا
    ہے شرمیلا ”شعیب“ اپنا بیاہا یا کنوارہ تھا
    خوشی یہ ہے کہ لائے گا‘ کنواری ثانیہ مرزا
    دعا یہ ہے کہ دونوں خوش رہیں‘ ہم جب انہیں دیکھیں
    وہ صدقے ثانیہ کے‘ اس پہ واری ثانیہ مرزا
    کھلاڑی اور ایکٹر‘ کچھ نہ کچھ کر ہی دکھاتے ہیں
    ترا بھی پاوں ہو گا جلد بھاری‘ ثانیہ مرزا
    کسی بھی ملک میں رہنا‘ میاں کے ساتھ جا کر تم
    بہو رہنا ہماری‘ عمر ساری‘ ثانیہ مرزا
    ترا سسرال پاکستان ہے‘ بھارت ترا میکہ
    کر سکتی ہے تو دونوں میں یاری‘ ثانیہ مرزا
    کہو ”بابل“ سے وہ دریا ہمارے ہم کو واپس دے
    ہمیں لوٹائے وہ ”جنت“ ہماری ثانیہ مرزا
    ”ملک“ سے بھی ترا رشتہ ”ٹوٹ انگی“ بنے گا تب
    کرے جب ترک بھارت فوجداری‘ ثانیہ مرزا
    بسانے کیلئے بیٹی بہت کچھ کرنا پڑتا ہے
    کرے مضبوط ہم سے رشتہ داری‘ ثانیہ مرزا
    نہ دے ہم کو مگر آزاد وہ کشمیر کو کر دے
    نہیں بے جا کوئی خواہش ہماری ثانیہ مرزا
    کریں خوں بابری مسجد کا ہم کیسے معاف اس کو
    چھپا رکھا ہے دل میں زخم کاری‘ ثانیہ مرزا
    تری نظروں سے کیا اوجھل ہے بھارت میں ہے آئے دن
    مسلمانوں پر ظلم و جبر جاری ثانیہ مرزا

    ReplyDelete