ShareThis

Sunday, April 18, 2010

صوبہ تو بن گیا


جہاں تک ہزارہ قبائل کی تاریخ کا تعلق ہے‘ اسے علاقے کے جغرافیائی اور تہذیبی پس منظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ کیونکہ یہاں پر وہ پرانی قومیں بھی آباد ہیں‘ جو تاریخی اعتبار سے مقامی ہیں اور متعدد چھوٹی چھوٹی زبانیں بولتی ہیں۔ مگر ان سب کا رشتہ کسی نہ کسی انداز میں ہندکو سے جا ملتا ہے۔ جب کہ اصل ہزارہ قبائل کی زبان پشتو اور فارسی ہے۔ میں ہزارہ جات کی تاریخ کو یوں دیکھتا ہوں کہ یہ پرانی اور نئی مقامی آبادی کے مشترکہ مفادات کی نئی تشکیل ہے۔ ہزارہ جات کے بسنے والے پختونوں کی طرف سے جس سلوک کے مستحق ٹھہرائے جاتے ہیں‘ اس کے پیچھے قدیم تاریخ کارفرما ہے‘ جو افغانستان کے اندر ہزاروں اور پختونوں کی باہمی لڑائیوں سے عبارت ہے۔ موجودہ پختون اور ہزارہ جات کے لوگ اس تاریخی تسلسل کا حصہ نہیں‘ جو ہزاروں اور پختونوں کے باہمی مقابلوں سے عبارت ہے۔ یہ ایک نئی طرح کی حقیقت ہے‘ جو گزشتہ صدی کے نصف آخر میں وجود پذیر ہوئی۔ ہزارہ جات کے لوگ کئی زبانوں اور کئی نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جغرافیائی شناخت نے‘ انہیں ایک قومیت کی حیثیت دے کر مشترکہ سیاسی جدوجہد کا حصہ بنا دیا ہے۔ پشتونوں اور ہزاروں کی تاریخی مناقشت‘ صوبہ سرحد میں اس طرزعمل سے ظاہر ہوتی ہے‘ جو پختون ہزاروں کے ساتھ اختیارکرتے ہیں۔ پختون خواہ انتظامیہ میں ہوں یا کاروبار میں‘ ہزاروں کو کم تر سمجھتے ہیں۔ ہزارہ جات کا کوئی شہری پشاور‘ مردان یا بنوں چلا جائے‘ تو اسے دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے اور اگر وہ پشتو نہیں بولتا‘ تو اسے پنجابی کہہ کر اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے۔ ڈرائیور اگر ہزارے کا ہے‘ تو اس کے ساتھ والا پشتون ڈرائیور اس سے معتبر ٹھہرے گا۔ ہزارہ والے کا چالان ہو جائے گااور پختون ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر کے‘ کچھ لیے دیئے بغیر نکل جائے گا۔ پختونوں اور ہزاروں میں بڑا فرق یہ ہے کہ ہزارے سمگلنگ‘ منشیات فروشی اور اغوا جیسے جرائم کے مرتکب نہیں ہوتے۔ ان کی اکثریت قانون پسند شہریوں پر مشتمل ہے۔ چند جرائم پیشہ ہر قوم اور علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن پختونوں کے ایک حصے میں متذکرہ کاموں کو جرم ہی نہیں سمجھا جاتا۔ ہزاروں کی ایک اور اجتماعی شکایت یہ ہے کہ انہیں پنجاب میں پختون اور سرحد کے پختون علاقوں میں پنجابی کہا جاتا ہے اور وہ دونوں طرف سے نامناسب سلوک کا ہدف بنتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ پنجابیوں اور پختونوں سے اپنی علیحدہ شناخت بنانے کے طلب گارہیں اور یہ خواہش وہ اپنا صوبہ لئے بغیر پوری نہیں کر سکتے۔
میں نے پختون اور ہزارہ قبائل کے تاریخی تضادات اور ان تضادات کے ہزارہ جات کی آبادی پر اثرات کا مختصر سا پس منظر بیان کر دیا ہے۔ ہزارہ جات کے لوگ ہزارہ قبائل کی تاریخ کے وارث نہیں۔ وہ ایک علیحدہ قومیت بن چکے ہیں اور اسی کے تحت علیحدہ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہزاروں اور پختونوں کے مابین تازہ تلخی زلزلے کے بعد پیدا ہوئی۔ عالمی برادری نے زلزلہ زدگان کو جو سامان اور مالی امداد فراہم کی‘ اس کی تقسیم کا انتظام صوبہ سرحد کی انتظامیہ کے سپرد ہوا‘ جس میں اکثریت پختونوں کی ہے۔ امدادی سامان‘ نقدی اور مکانوں کی تعمیرنو کے لئے ملنے والی امداد‘ تقسیم کرنے والا عملہ 90 فیصد پختونوں پر مشتمل تھا۔ میں نہیں جانتا کہ اس کی وجہ لسانی تھی یا روایتی یا بیوروکریٹک روایات کی وجہ سے ایسا ہوا۔ مگر امداد لینے والے ہزاروں کی بری طرح سے تذلیل کی گئی۔ انہیں جائز حصہ بھی نہیں ملا اور بے عزتی بھی کرانا پڑی۔ اس تازہ اور تلخ تجربے کے نتیجے میں‘ وہاں شدت سے یہ احساس پیدا ہوا کہ ہزارہ جات میں انتظامی خدمات انجام دینے والوں کا تعلق خود اس علاقے سے ہونا چاہیے۔ پختون بیوروکریسی کے خلاف وہاں جو نفرت پائی جاتی ہے‘ اس کا اظہار گزشتہ چند روز میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران ہوا۔ ہزارہ جات کے عوام میں اپنے وسائل کا جائزہ لے کر ایک نئی سوچ پیداہو چکی ہے۔ یہ لوگ پختونوں کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ‘ زیادہ ہنرمند اور زیادہ مہم جو ہیں۔ یہ اپنے معاملات مذاکرات اور بات چیت سے طے کرتے ہیں۔ پختونوں کی طرح ہر وقت اسلحہ سے لیس نہیں رہتے۔ ان کے علیحدہ صوبے کے سوال پر تحقیق کرنے والے مقامی دانشوروں نے‘ صوبے کے قابل عمل ہونے کے حق میں‘ جو اعداد و شمار مجھے بھیجے ہیں ان کے مطابق ہزارہ جات میں تعلیم کا اوسط 94فیصد ہے۔ صوبہ سرحد کی کل آمدنی کی 80 فیصد رقم ہزارہ سے حاصل ہوتی ہے۔ تربیلا ڈیم ہزارہ میں واقع ہے جو 39 فیصد بجلی پیدا کرتا ہے۔ ہرچند بجلی پیدا کرنے والے یونٹ صوبہ سرحد میں واقع ہیں لیکن وہ پانی کے بغیر بیکار ہیں۔ ہزارہ اس آمدنی کا نصف حصہ بھی حاصل کر لے‘ تو اس کے تھوڑے علاقے اور تھوڑی آبادی کے لئے بہت ہو جاتاہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والی 70 فیصد چائے ہزارہ میں پیدا ہوتی ہے۔ معلومات کے مطابق پاکستان میں تمباکو کی سوفیصد پیداوار ہزارہ سے ملتی ہے۔ اسے دس پندرہ فیصد کم کر لیں تو بھی ہزارہ کے سائز اور آبادی کے اعتبار سے یہ بہت بڑی نقد آور فصل ہے۔ شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ ہزارہ سے گزرتا ہے۔ صوبہ سرحد کے تفریحی مقامات برباد ہو چکے ہیں جبکہ کاغان‘ نتھیا گلی اور ایبٹ آباد کی ٹورازم انڈسٹری اب بھی نفع دے رہی ہے۔ ہزارہ کے پہاڑ اور وادیاں خوبصورتی میں دنیا کے سرفہرست علاقوں میں گنی جاتی ہیں۔ جب ہزارہ والے اپنے ان وسائل‘ تعلیم اور اپنی ہنرمندیوں کو دیکھتے ہیں اور پھر اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر نظرڈالتے ہیں‘ تو نتیجے میں وہ اپنے انتظامی معاملات اور وسائل پر اپنے کنٹرول کی خواہش کرتے ہیں۔ انہیں مستقبل میں بھاشا ڈیم کی آمدنی بھی دکھائی دے رہی ہے۔ اس ساری کی ساری آمدنی پر ہزارہ کا حق ہو گا۔ جب کسی انسانی گروپ کو اپنے علاقے کے وسائل کا اندازہ ہو جائے اور وہ اپنی آبادی اور علاقے کے تناسب سے اپنے معیار زندگی کا جائزہ لے اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کی آمدنی بہت زیادہ ہے لیکن جس صوبے کے اندر وہ رہتے ہیں اس کی بڑی آبادی ‘ اپنی اکثریت اور انتظامی اختیارات کی وجہ سے اپنی غربت زبردستی ان پر ٹھونستی ہے اور اس کے ایثار کی تحسین بھی نہیں کی جاتی‘ تو علیحدہ صوبے کا مطالبہ اس کے لئے ناگزیر ہوجاتا ہے۔ میں ان باتوں کو نہیں مانتا کہ حالیہ ہنگامہ آرائی‘ کسی سیاسی جماعت کی غلطی کے باعث یا امن و امان قائم کرنے کی کوشش میں پولیس کے تشدد کا نتیجہ ہے۔ ہمارے سیاستدان اور انہیں سلامتی کے امور پر رہنمائی دینے والے ادارے‘ اتنے مدبر اور مستقبل بین ہوتے‘ تو جھگڑا کس بات کا تھا؟ ان میں سے بیشتر کو تو اب بھی اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ ہزارہ میں دھماکہ کیا ہو گیا؟ وہ اب بھی صوبے کا نام رکھنے کے چکر میں ہیں۔ بات بہت آگے نکل گئی ہے۔ جب ہم 6نکات مان کر مجیب کو حکومت دینے کے لئے کلکتہ میں مقیم عوامی لیگ کے لیڈروں سے مذاکرات کی التجا کر رہے تھے۔ اس وقت حالات نئے موڑ سے آگے نکل کر‘ نیا رخ اختیار کر چکے تھے۔ اس وقت وہ صوبائی خودمختاری نہیں ملک مانگ رہے تھے۔ صوبہ سرحد کا کوئی بھی نام رکھ لیا جائے‘ ہزارہ صوبے کا مطالبہ کوئی ختم نہیں کر سکے گا۔ ہزارہ جات کے لوگ وہ ہیں‘ جنہوں نے ہر موقع پر پختونوں کی ضد میں ووٹ دیا ہے۔ وہ مسلم لیگوں کو اس لئے ووٹ نہیں دیتے کہ انہیں باہر کے لیڈر پیارے لگتے ہیں۔ مسلم لیگوں کو ووٹ صرف پختونوں کی ضد میں دیا جاتا ہے۔ ن لیگ کو صوبے کے نام میں پختونخواہ کا لفظ شامل کرنے پر‘ جو چوٹ پڑی ہے‘ وہ بہت گہری ہے۔ ہزارہ صوبے کی تحریک بیرونی لیڈروں سے بہت جلد آزاد ہو جائے گی۔ اس کے اپنے لیڈر ہوں گے‘ اپنا منشور ہو گا اور یہ دوسرے صوبوں کی جماعتوں سے اپنی صوبائی شناخت کے ساتھ اتحاد یا اختلاف کریں گے اور اگر ان میں شامل ہوئے‘ تو اپنے علاقے میں اس کی علیحدہ تنظیم پر اصرار کریں گے۔ اے این پی پختونخواہ کے بغیر صوبے کا نام نہیں مانے گی اور ہزارہ والے صوبے کے اس نام کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں پختونخواہ شامل کیا گیا۔بہتر ہے کہ ہزارہ ہی نہیں‘ نئے صوبے بنانے کے دوسرے مطالبات پر بھی غ

ور شروع کر دیا جائے۔ ورنہ ہزارہ تو صوبہ بن چکا۔ ہزارہ والے اٹھے دیر سے ہیں‘ مگر ان کی تحریک کی جڑیں بہت مضبوط ہیں۔یاد رکھیں کسی چھوٹی کمیونٹی پر ‘ بڑی ریاستی طاقت ڈنڈے کا استعمال شروع کر دے‘ تو آج کل اقوام متحدہ کی فوج مدد کو پہنچ جاتی ہے۔ بشرطیکہ وہاں یورپ اور امریکہ کے سٹریٹجک مفادات ہوں اور شاہراہ قراقرم سے زیادہ سٹریٹجک دلچسپی اور کہاں ہو سکتی ہے؟


صوبہ تو بن گیا ...سویرے سویرے … نذیرناجی.... ۔
ماخذ: روزنامہ جنگ
 


1 comment:

  1. بننے سے پہلے شور کیوں نہیں مچایا گیا ؟

    ReplyDelete