ShareThis

Saturday, January 7, 2012

کچھ ادبی حقائق

میر ببر علی انیس (ولادت 1802ء دہلی میں اور وفات 1874ء لکھنوء) ایک مرثیہ میں یہ دعائیہ مصرع کہہ چکے تھے۔
یا رب رسول پاک ﷺ کی کھیتی ہری رہے
دوسرا مصرع حسب دل موزوں نہیں ہو رہا تھا دیر سے اسی فکر میں تھے، میر ببر علی انیس کی اہلیہ اس طرف سے گزریں تو انہوں نے پوچھا کہ کس سوچ میں بیٹھے ہیں؟ موصوف نے اپنا مصرع پڑھا اور کہا کہ دوسرا مصرع سوچ رہا ہوں بیوی نے بے ساختہ کہا یہ لکھ دو
صندل سے مانگ بچوں سے گود بھری رہے
میر انیس پھڑک اٹھےفورا یہ مصرع لکھ دیا۔ مطلع مکمل ہو کر زبان کی لطافت اور محاورے کی خوبی سے ضرب المثل ہوگیا۔

یا رب رسول پاک ﷺ کی کھیتی ہری رہے
صندل سے مانگ بچوں سے گود بھری رہے
 
میر انیس مرثیہ کے مستند شاعر تھے۔ ابتدا میں غزل کے بھی اچھے شاعر تھے، لیکن جوانی میں ہی میں مرثیہ گوئی کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ چند اشعار اس دور کے تغزل میں ہیں۔
دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی
ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی
جو آ کے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا
جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی
------------------
پاکستان قائم ہونے کے وقت 1947ء میں اس کی حمایت میں مختلف شعراء نے بہت اشعار لکھے اور جلسوں کی حمایت میں پڑھے جاتے تھے ان میں ایک نظم بہت مشہور ہوئی جس کا بند ہے۔
منزل کو بسر کرنا ہے
مشکل سے کیا ڈرنا ہے
آزادی کے شعلہ کو
دل میں روشن کرنا ہے
پاکستان کی الفت میں
اپنا جینا مرنا ہے
لے کے رہیں گے پاکستان
بٹ کے رہے گا ہندوستان
یہ نظم کیف بنارسی کی ہے۔ کیف بنارسی کی ولادت 6 مئی 1926ء کوچنار مرزا ضلع بنارس (یوپی) وفات 5 دسمبر 2003ء کراچی
----------------
بڑھاپے میں جوانی کی یاد تازہ کرتے ہوئے برمحل مطلع ہے۔
وقت پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
یہ مطلع مغلیہ خاندان کے آخری دور کے مستند شاعر شیخ محمد ابراہیم ذوق کا ہے۔ ذوق کی ولادت 1788ء میں اور وفات 1854ء دہلی میں ہوئی
--------------------
ہم بانٹ کے روڑے ہیں اِدھر کے نہ اُدھر کے
مکمل مطلع ہے۔
نے بام کے ہیں زیب نہ زینت کسی در کے
ہم بانٹ کے روڑے ہیں اِدھر کے نہ اُدھر کے
یہ مطلع ایک گمنام شاعر ذوق کا ہے جو بنارس شہر کے رہنے والے تھے1834ء میں جب تذکرہ"گلشن بے خار" نواب مرزا شیفتہ خان نےمرتب کیا تو ذوق کا انتقال ہو چکا تھا۔

2 comments:

  1. میر انیس کی اہلیہ کے مصرعے میں کچھ جھول لگتا ہے۔ یہا ں لفظ گود کہ بجائے گودی رکھنے سے یہ مصرع با وزن ہو جاتا ہے۔ کیا واقعی آپ نے گود پڑھا تھا؟
    علی

    ReplyDelete
  2. اللہ جزا دے ادبی تحریر بھی کوب لکھنے لگے ہیں

    ReplyDelete