ShareThis

Monday, November 9, 2009

مفکر پاکستان اورعلامہ اقبال کا تصورپاکستان


ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔

پاکستان کے تعلیمی اداروں میں یہ پڑھایا اور بتایا جاتا ہے کہ علامہ اقبال نےپاکستان کا خواب دیکھا تھا یعنی علامہ اقبال نےپاکستان کا تصورپیش کیا تھا۔ مگر ایک دن جب میں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈگری پروگرام کی کتاب مطالعہ پاکستان کا مطالعہ کیا تو یہ راز مجھے پتا چلا کہ علامہ اقبال سے پہلے ہی بہت سے لوگ تصورپاکستان پیش کرچکےتھے ۔

مطالعہ پاکستان کی کتاب کے صفحہ نمبر 102 پر یہ الفاظ تحریر ہیں
"1930ءمیں مسلمانوں میں یہ تصور مقبول ہونے لگا کہ ہندوستان کو ہندواکثریت اور مسلم اکثریت کے صوبوں میں تقسیم کرکےمسلمانوں کیلئےعلحیدہ مملکت ہونی چاہیے ۔اس وقت اس تصورکا برملا اظہار علامہ اقبال کےاس خطبےمیں ہواجوانہوں نے آلہ آبادمیںمسلم لیگ کا سالانہ جلسے میں صدرکی حیثیت سے پڑھا۔

اب اس تصویر میں اگلے چند پیراگراف بھی پڑھیے



 اگلے ہی پیراگراف کی پہلی لائن میں علامہ اقبال کے اس تصورکویہ بتا کر غلط ثابت کر دیا گیا۔ کہ ہندوستان کومسلم انڈیا اور ہندوانڈیا میں تقسیم کرنے کا یہ تصور نیا نہیں تھا۔اس سے پہلے بھی کئی مسلم رہنما اس کی طرف اس اشارہ کر چکے تھے۔ جن کے نام یہ ہیں 1890ءمیں مولانا عبدالحلیم شرر، 1915 میں چوہدری رحمت علی، 1920ء میں محمد عبدالقدیر بلگرامی اور 1923ء میں سردارمحمد گل خان۔
یہ نام صفحہ نمبر 102 سے 103 پر ہیں اس کے علاوہ 139 صفحہ نمبر پر بھی یہ نام ہیں۔

اگرعلامہ اقبال کے تصورپاکستان کے نظریے سے پہلے ہی کئی لوگ تصورپاکستان کے نظریے پیش کر چکے تھے تو ان لوگوں کےناموں کو کیوں سامنے نہیں لایا جاتا۔سارا کریڈٹ علامہ اقبال کے کھاتےمیں کیوں ڈال دیا گیا ؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا سوچیے


18 comments:

  1. بہت خوب فرحان بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  2. بہت خوب فرحان بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  3. بہت خوب فرحان بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  4. بہت خوب فرحان بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  5. بلا شبہ کئی ایسے مفکر موجود تھے جن کا خیال تھا کہ ایک علیحدہ مسلم ریاست ہونی چاہیئے۔ اس کا سرسری اظہار ہوتا رہا ہے۔ لیکن جس طرح علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے خطبہ الہ آباد کے دوران عوامی طور پر اس کا اظہار کیا تھا وہ اس سے پہلے کسی مسلم رہنما نے نہیں کیا تھا۔ آپ نے نہ صرف علحدہ ریاست کے قیام پر زور دیا بلکہ آُ نے اس ریاست کا ایک اجمالی خاکہ بھی پیش کیا۔ آپ کے الفاظ تھے

    " مغربی ممالک کی طرح ہندوستان کی یہ حالت نہیں ہے کہ اس میں ایک ہی قوم آباد ہو۔ ہندوستان مختلف اقوام کا وطن ہے جن کی نسل‘ زبان‘ مذہب سب ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں وہ احساس پیدا نہیں ہو سکا ہے جو ایک ہی نسل کے مختلف افراد میں ہوتا ہے۔

    ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، ان میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گزشتہ ایک ہزار سال میں اپنی الگ حیثیت قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ہی ملک میں رہنے کے باوجود ہم میں یک جہتی کی فضا اس لیے قائم نہیں ہو سکی کہ یہاں ایک دوسرے کی نیتوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ کس طرح فریق مقابل پر غلبہ اور تسلط حاصل کیا جائے۔

    میں یہ چاہتا ہوں کہ صوبہ پنجاب، صوبہ شمال مغربی سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست کی شکل دی جائے یہ ریاست برطانوی ہند کے اندر اپنی حکومت خوداختیاری حاصل کرے‘ خواہ اس کے باہر۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو آخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا ہی پڑے گی۔"


    دوسرے رہنماؤں نے ریاست کے قیام کی صرف بات کی تھی لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ نے بجا طور پر اس ریاست کا ایک ایسا تصور مسلمانان ہند کو دیا جس پر آنے والے دنوں میں تحریک آزادی کی سمت متعین ہوئی۔ اور یہ شائد پہلی بار عوامی سطح پر کہا گیا تھا

    ReplyDelete
  6. بلا شبہ کئی ایسے مفکر موجود تھے جن کا خیال تھا کہ ایک علیحدہ مسلم ریاست ہونی چاہیئے۔ اس کا سرسری اظہار ہوتا رہا ہے۔ لیکن جس طرح علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے خطبہ الہ آباد کے دوران عوامی طور پر اس کا اظہار کیا تھا وہ اس سے پہلے کسی مسلم رہنما نے نہیں کیا تھا۔ آپ نے نہ صرف علحدہ ریاست کے قیام پر زور دیا بلکہ آُ نے اس ریاست کا ایک اجمالی خاکہ بھی پیش کیا۔ آپ کے الفاظ تھے

    " مغربی ممالک کی طرح ہندوستان کی یہ حالت نہیں ہے کہ اس میں ایک ہی قوم آباد ہو۔ ہندوستان مختلف اقوام کا وطن ہے جن کی نسل‘ زبان‘ مذہب سب ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں وہ احساس پیدا نہیں ہو سکا ہے جو ایک ہی نسل کے مختلف افراد میں ہوتا ہے۔

    ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، ان میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گزشتہ ایک ہزار سال میں اپنی الگ حیثیت قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ہی ملک میں رہنے کے باوجود ہم میں یک جہتی کی فضا اس لیے قائم نہیں ہو سکی کہ یہاں ایک دوسرے کی نیتوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ کس طرح فریق مقابل پر غلبہ اور تسلط حاصل کیا جائے۔

    میں یہ چاہتا ہوں کہ صوبہ پنجاب، صوبہ شمال مغربی سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست کی شکل دی جائے یہ ریاست برطانوی ہند کے اندر اپنی حکومت خوداختیاری حاصل کرے‘ خواہ اس کے باہر۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو آخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا ہی پڑے گی۔"


    دوسرے رہنماؤں نے ریاست کے قیام کی صرف بات کی تھی لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ نے بجا طور پر اس ریاست کا ایک ایسا تصور مسلمانان ہند کو دیا جس پر آنے والے دنوں میں تحریک آزادی کی سمت متعین ہوئی۔ اور یہ شائد پہلی بار عوامی سطح پر کہا گیا تھا

    ReplyDelete
  7. قادیانی بھی الگ وطن کے خواہاں تھے مگر انکا نام تو تاریخ پاکستان کی کسی کتاب میں نہیں ملے گا۔ ہاں غدار پاکستان میں مل جائے گا! :lol:

    ReplyDelete
  8. قادیانی بھی الگ وطن کے خواہاں تھے مگر انکا نام تو تاریخ پاکستان کی کسی کتاب میں نہیں ملے گا۔ ہاں غدار پاکستان میں مل جائے گا! :lol:

    ReplyDelete
  9. بھائی بے پر کی تو ہر کوئی اُڑاتا رہتا ہے۔ جیسے ہوا میں اُڑنے کی کوشش تو بہت سوں نے کی، کامیابی رائٹ برادران کے کھاتے میں ہی ڈالی جاتی ہے کہ ان کے کام نے ہوا میں اُڑنا ممکن کیا۔ اسی طرح بہت سوں نے ذاتی طور پر یہ سوچا ہوگا کہ ہندو اور مسلمان ممالک الگ ہونے چاہئیں لیکن علامہ نے ایک بڑے پلیٹ فارم پر مدلل طریقے سے ایک سمت کے طور پر اس کا تعین کیا اور اس بات کو ذاتی رائے کی قید سے ایک قومی بحث اور نظریہ میں تبدیل کیا۔

    ReplyDelete
  10. بھائی بے پر کی تو ہر کوئی اُڑاتا رہتا ہے۔ جیسے ہوا میں اُڑنے کی کوشش تو بہت سوں نے کی، کامیابی رائٹ برادران کے کھاتے میں ہی ڈالی جاتی ہے کہ ان کے کام نے ہوا میں اُڑنا ممکن کیا۔ اسی طرح بہت سوں نے ذاتی طور پر یہ سوچا ہوگا کہ ہندو اور مسلمان ممالک الگ ہونے چاہئیں لیکن علامہ نے ایک بڑے پلیٹ فارم پر مدلل طریقے سے ایک سمت کے طور پر اس کا تعین کیا اور اس بات کو ذاتی رائے کی قید سے ایک قومی بحث اور نظریہ میں تبدیل کیا۔

    ReplyDelete
  11. بہت اچھے فرحان بھائی
    اقبال ڈے پر آپ کی تحریر پسند آئی

    ReplyDelete
  12. بہت اچھے فرحان بھائی
    اقبال ڈے پر آپ کی تحریر پسند آئی

    ReplyDelete
  13. اچھا نقطہ اٹھایا آپ نے، اس بات پر غور و خوض کرنے اور ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم فی الوقت تو میرے ذہن میں بھی یہی بات آتی پے جو کاشف بھائی اور منیر بھائی نے بیان کی۔ واللہ عالم۔ تاہم مجھے جیسے ہی اس بارے میں کوئی معلومات ملیں میں انشا اللہ آپ کو پیش کروں گا

    ReplyDelete
  14. اچھا نقطہ اٹھایا آپ نے، اس بات پر غور و خوض کرنے اور ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم فی الوقت تو میرے ذہن میں بھی یہی بات آتی پے جو کاشف بھائی اور منیر بھائی نے بیان کی۔ واللہ عالم۔ تاہم مجھے جیسے ہی اس بارے میں کوئی معلومات ملیں میں انشا اللہ آپ کو پیش کروں گا

    ReplyDelete
  15. صرف اسی موضوع پر بات کیجیئے۔

    ReplyDelete
  16. صرف اسی موضوع پر بات کیجیئے۔

    ReplyDelete