ShareThis

Monday, May 30, 2011

ادھورے سپنے – پہلی قسط

ایک چھوٹے سے آنگن میں بستر سے محروم دو ٹوٹی پھوٹی سی چارپائیوں پردو افراد میلی کچیلی سی چادر تانے سو رہے ہیں۔ چارپائیاں اس قدر پرانی ہیں کہ اُن کے نیچے بان کے ٹوٹے ہوئے کونے لٹکتے آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ اکثر جگہوں پر بان کی جگہ پرانے کپڑوں کے ٹکڑوں اور کالے شاپنگ بیگ کو بان کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ایک چارپائی کے دو پائیوں کی کمی کو پرانی اور ٹوٹی پھوٹی اینٹوں سے پورا کیا گیا ہے اور وہ ایک طرف سے اینٹوں کے دو چھوٹے پلروں پر کھڑی ہے ۔ قریب ہی فرش پر بھی کچھ بچے کھجور کے پتوں کی چٹائی پر سو رہے ہیں اور ان میں سے ایک چٹائی سے لڑھک کر کچی اینٹوں پر پہنچ گیا ہے ۔

آنگن سے متصل ایک چھوٹے سے تاریک کمرے سے ایک عورت نکلتی ہے اور اینٹوں کے ستون والی چارپائی کی طرف دیکھتے ہوئے آواز دیتی ہے کہ ،"گڈوبیٹا! ارےاوگڈوبیٹا! اُٹھ جا میرا چاند ۔۔۔ صبح ہوگئی ہے ، جا بیٹا دودھ لے آتاکہ چائے بناؤں ۔۔۔۔۔۔۔ شاباش میر ابیٹا جلدی سے اُٹھ جا ۔۔۔۔ پھر کام پربھی جانا ہے ۔" اینٹوں کے پلر والی چارپائی پر میلی اور پھٹی پرانی چادر میں کچھ ہل جُل ہوتی ہے اور ایک تقریبا آٹھ نو سال کا بچہ اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے ۔ اسی اثنا میں ماں دوپٹے کے پلوسے بندھے ہوئے کھلے پیسوں میں سے پانچ پانچ روپے کے چار سکے بچے کے چھوٹے سے میلے ہاتھ پر رکھ دیتی ہے اور وہ آنکھیں سہلاتا ہوا ننگے پیر ہی چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا گھی کے کنستروں سے بنے دروازے کو کھول کر باہر نکل جاتا ہے۔

کچی اینٹوں سے بنے فرش پر ایک بے ترتیب دائرے میں پٹھے پرانے کپڑوں میں ملبوس کچھ بچے بیٹھے رات کی سوکھی روٹی کو بے رنگ کالی چائے کے ساتھ جلدی جلدی نگلنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ شائد روٹی کم اور بھوک زیادہ ہے اسی لئے ہر بچہ بڑے بڑے لقمے نگل کر جلد ازجلد اپنی بھوک مٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

تھوڑی دیر میں روٹی ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن بچوں کی پیٹ کی آگ بدستور روشن ہے۔ وہ بچے جو روٹی کے آخری ٹکڑے حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں آنکھوں میں بھوک کی المناک داستان لیے حسرت بھری نگاہوں سے خالی ڈلیہ کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ شائد کہیں سے اس میں جادو کے ذریعے غیب سے روٹی آجائے۔۔۔۔۔۔۔لیکن ایسا نہیں ہوتا۔

ایک بچہ جس کی عمر بمشکل چار سال ہے۔ امید بھری نگاہوںسے اپنی بڑی بہن کی طرف دیکھتا ہے کہ جس کے ہاتھ میں بدستور روٹی کا ایک ٹکڑا موجود ہے اور اس سے پہلے کہ بڑی بہن وہ روٹی کا ٹکڑا منہ کی طرف لے جائے اُس کی نظر اپنے چھوٹے بھائی پر پڑ جاتی ہے اور وہ اپنی کم عمری اور بے رحم بھوک کی شدت کے باوجودکمال محبت و ایثار کا ثبوت دیتے ہو ئے روٹی کا وہ آخری ٹکڑا اپنے چھوٹے بھائی کی طرف بڑھا دیتی ہے اور وہ بلاتامل لے کر جلدی جلدی روکھا ہی کھاناشروع کر دیتا ہے ، کیونکہ چائے ختم ہو چکی ہے۔

ماں قریب بیٹھی ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہی ہے اُس کا کلیجہ اپنے جگرگوشوں کی حالت دیکھ کر غم سے پھٹا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس کا دل چاہ رہا ہے کہ اہنے لخت جگر کو سینے سے لگا کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس بے رحم دنیا سے دور اُفق کے اُس پار چلی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماں کچھ دیر اپنے بچوں کو اسی طرح دیکھتی رہتی ہے پھر اُن سے اپنے آنسوؤں کو چھپاتے ہوئے مصنوعی لاپروائی سےگڈو کومخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے۔"چل گڈو بیٹا!۔۔۔۔۔ روٹی کھالی نا،۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاباش میراچاند ، بوری اُٹھا اور اب کام پر جا، جلدی کر بیٹا، اگر زیادہ دیرکردی تو کچھ نہیں ملے گا"۔ گڈو اُٹھتے ہوئے ماں کی طرف دیکھتا ہے کہ جیسے اُسے کوئی بات یاد دلا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ماں اُس کی نظروں کو مفہوم سمجھتے ہوئے کہتی ہے کہ "ہاں ہاں مجھے یاد ہے ، آج جب تو کام سے واپس آئے گا تو تجھے گیند کے پیسے ضرور دونگی۔ گڈواُٹھتا ہےاور آنگن کے ایک کونے میں کچی اینٹوں کے ایک چھوٹے سے ڈھیر پر پڑاچینی کی بوریوں سے بناایک بہت بڑا تھیلا اُٹھاتا ہے اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بغیرکوئی لفظ کہے اپنی چھوٹی چھوٹی سی معصوم سی آنکھوں میں ہزاروں ان کہے سوال لئے ٹین کا دروازہ کھول کر باہر نکل جاتا ہے۔

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔