ShareThis

Thursday, November 24, 2011

سکون واطمینان

موجودہ دورمیں انسانی زندگی میں بے پناہ ترقی ہو چکی ہے۔جس کا تصور آج سے کئی برس قبل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ غرضیکہ انسانی زندگی میں لاتعدادآسائشوں اور سہولتوں کا اضافہ ہوگیا ہے۔ آسائشوں اور سہولتوں کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسان پہلے سے زیادہ خوش وخرم رہتا اور زندگی کو بھرپور انجوائے کرتا لیکن ایسا نہیں ہے۔وجہ؟

 آسائشیں اور سہولتیں ہی دراصل انسانی زندگی میں عذاب بن گئی ہیں۔ان کے حصول کیلئے انسان کو پیسے کمانےکی دوڑمیں مبتلاکردیاہے اور پیسے کمانے کی اس دوڑنے جائزاور ناجائزکے فرق کوختم کردیا ہے۔ کیونکہ جن لوگو ں کوجائز طریقے سے نہیں ملتا وہ ناجائزطریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاشرے میں رسوت ستانی، ملاوٹ، ناجائزمنافع خوری، قتل و غارت گری ، لوٹ مار، چوری وڈاکا زنی اتنی عام ہوگئی ہیں کہ جن کے پاس بہت کچھ ہے وہ بھی خوش نہیں، جن کے پاس کم ہے وہ اس دوڑمیں پیچھےرہ جانےکی وجہ سے خوش نہیں۔

پیار ومحبت، ایثار، بھائی چارہ، مذہب غرضیکہ ہر چیز کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ہمارا معاشرہ بے عملی کا شکار ہے۔ ہم باتیں بنانے کے ماہر ہیں‘ الزام تراشی ہماری قومی عادت بن گئی ہے۔ ہماری بدنصیبی یہ بھی ہے ہم ہر معاملے کو ”مٹی ڈالو، دفع کرو“ جیسے سکون بخش کلمات سے ٹالتے ہیں۔ زندگی سے سکون واطمینان فوت چکا ہے۔ ہرمردوعورت ہراساں اور پریشان ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مثبت قدروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ زندگی میں محنت، سچائی، دیانتداری اور ایمانداری کو شعار بنالیا جائے ۔ ایسی صورت میں ذرا دیر تو ہو سکتی ہے لیکن ہم منزل کو پا لیں گے اور ہمیں حقیقی سکون بھی ملے گا۔ اگر ہم اسلام کے بنیادی اصولوں کو ہی اپنالیں تو زندگی سے تعصب، نفرت اور پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ سکون واطمینان کی زندگی گزارسکتے ہیں، ٹینشن اور ڈیپریشن کی کیفیت سے نکل سکتے ہیں اورجو انسان چین، سکون اور اطمینان قلب کھو چکا ہے اور پریشانیوں میں گھر گیا ہے وہ اطمینان واپس آسکتا ہے۔

الله رب العزت ہمیں زندگی کے ہر مرحلے میں سکون واطمینان نصیب فرمائے۔ آمین

1 comment:

  1. یہ جو چوبیس گھنٹے ٹی وی چلتا رہتا ہے نا ہماری زندگی میں اس نے سکون اور اطمینان چھین لینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ReplyDelete