
کعبے کی رونق کعبے کا منظر اللہ اکبر اللہ اکبر
18اپریل2009کو کراچی پاکستان میں پہلی نیشنل بلاگرز کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس کا انعقاد آئی ٹی ڈپارٹمنٹ آف سندھ کے نوجوان وزیر محمد رضا ہارون نے کروایا تھا۔کانفرنس کا باقاعدہ آغاز 5 بجے کے قریب کیا گیا۔
کانفرنس کا ایجنڈا " پاکستان میں بلاگنگ کا مقام"تھا۔اس کانفرنس کے مہمانِ خصوصی میں ڈاکٹر فاروق ستار اور ارد شیر کاوس جی، وزیر محمد رضا ہارون اور بلاگرز میں سے ڈاکٹر اعواب علوی شامل تھے۔کانفرنس میں صرف شہر کراچی کے بلاگرز نے شرکت کی، جبکہ پاکستان کے کسی دوسرے شہر سے کوئی بلاگر موجود نہیں تھا۔ کانفرنس میں تقریباً 350 سے 400تک لوگ موجود تھے۔ زیادہ تر تعداد 20 سے 30 سال کے بلاگز کی تھی۔ ایک بلاگرز نے کانفرنس کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر فاروق ستار سے ایک دلچسپ سوال کیا۔ سوال یہ تھا کہ” ہمارے ملک کے صدر کی اگر ویب سائٹ دیکھی جائے تو وہاں ان کا صرف بائیو ڈیٹا ہے۔ جبکہ اگر امریکہ کے صدر کی ویب سائٹ دیکھی جائے تو وہاں آپ باقاعدہ سوال پوچھ سکتے ہیں اور صدر کی جانب سے باقاعدہ جواب دیا جاتا ہے۔ تو کیا یہ بہتر نہیں کہ گورنمنٹ جو اہم شخصیات کو پراڈو اور پجیرو گاڑیاں فراہم کرتی ہے اس کے بدلے ان کو ایک ایک لیپ ٹاپ دے دیا جائے۔ تاکہ عوام کے خیالات تو ان تک پہنچ سکیں۔”اس سوال پر تالیاں خوب بجیں، ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ” کوشش کریں گے کہ اس قسم کی ایک سمری بنا کر آگے پیش کرسکیں۔”
اردو بلاگنگ کے حوالے سے اس کانفرنس میں شریک بلاگر"عمار" نے اردو بلاگنگ کے حوالے سے یہ بتایا کہ “اردو بلاگنگ آسان ہے اسی طرح جیسے انگریزی بلاگنگ۔ اور پاکستان میں زیادہ اکثریت اردو جاننے والوں کی ہے نہ کہ انگریزی جاننے والوں کی تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم بجائے انگریزی کے اردو میں بلاگنگ کریں۔ تاکہ ہماری عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔۔۔۔۔”کانفرنس تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی۔
نیشنل بلاگرز کانفرنس 2009 بلاگنگ کی دنیا میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگی اورامید ہے کہ حکومتی سطح پر بلاگرز کے لیے کچھ نہ کچھ اقدامات کرنا ہوں گے تا کہ پاکستان میں بلاگنگ کو فروغ دیا جاسکے ۔
دستور
کچے گھڑے پر تیرنے والو
کیسے پار لگاو گے
درد سمندر دونوں گہرے
آخر ڈوب ہی جاو گے
کالی بدلی جب برسے گی
پانی روک نہ پاو گے
پیار کی خوشبو جب مہکے گی
کیسے ایسے چھپاو گے
پیار کی دنیا سب سے نرالی
کس کس کو سمجھاو گے
قسمیں وعدے سب ہی جھوٹے
پر تم سمجھ نہ پاو گے
مختلف سیاسی اور سما جی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے سوات میں سترہ سالہ معصوم لڑکی پرسرعام کوڑے برسانے کے خلاف اتوار کو ملک گیر”پرامن یوم مذمت “منانے کا اعلان کیا ہے۔ مختلف سیاسی اور سما جی تینظموں اور سول سوسائٹی کے کارکن اتوارکو اپنے گھروں، دکانوں، صنعتوں ، گلیوں اورشاہراہوں پر سیاہ پرچم اور بینرز لگا کر پرامن احتجاج رجسٹر کرائیں گی ۔ چاروں صوبوں، شمالی علاقہ جات اورآزاد کشمیر کی مختلف سیاسی ,سما جی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوات میں قوم کی بیٹی کے ساتھ ہونے والے ظلم وبربریت کے عمل کے خلاف پرامن احتجا ج کرکےثابت کردیں کہ عوام خصوصاً خواتین کے ساتھ دہشت گردی یاکسی بھی قسم کے گھناؤٴنے عمل کا ارتکاب کرنے کے خلاف پوری قوم سراپا احتجاج اورمتحد ہے۔
سوات میں طالبان نے 17سالہ لڑکی کو34کوڑوں کی شرم ناک سزا دی۔ اس بیچاری کاقصور صرف یہ تھا کہ وہ گھر سے اپنے"نامحرم" سسر کے ساتھ باہر نکلی تھی اور اس نے"طالبانی شریعت"کی خلاف ورزی کی تھی۔سرعام اور درجنوں مردوں کی موجودگی میں انجام دی جانےوالی اس سزا میں17سالہ لڑکی کو منہ کے بل لیٹا کراس کی پشت پر34کوڑوں مارے گئے۔مگر کسی بے غیرت اوربے شرم مرد نے اس سزا کو روکوانے کی کوسش نہیں کی۔اور کسی شخص نے اس کی موبائل کے ذریعے اس واقعے کی وڈیو بنا کر میڈیا کو فراہم کر دی میڈیا نے اس کو 3اپریل جمعہ کے دن نشر کیا۔ وڈیو کے نشر ہوتے ہی پورے پاکستان میں ہلچل مچ گئی اور عوام نے اپنے شدید غم وغصے کا اظہارکیا۔عوام کا کہنا ہے کی اس واقعے کے بعد صوبہ سرحد کی نارکارہ حکومت کو برطرف کیاجائے۔