ShareThis

Tuesday, May 4, 2010

4 comments:

  1. جندے کے تعلیمی ادارے میں اتنی بھاری فیسں۔ شرم مگر تم کو نہیں آتی

    ReplyDelete
  2. سستی تعلیم کا یہ سلسلہ غریب طلبا کے لیے سکالرشپ پروگرام کے تحت ہو گا۔ جولوگ افورڈ کر سکتے ہیں ان کے لیے فیس ایک معیاری ادارے کی فیس کے برابر ہو گی۔ اور ادارے میں اس سکالر شپ پروگرام کے تحت آنے والے طلبا کا مخصوص کوٹہ ہو گا۔
    شکریہ

    ReplyDelete
  3. یہ شاید اس لیے کہ یہ ادارہ بھی شوکت خانم کی طرز پر وصولی کرے گا۔ یعنی ایک فیس سٹرکچر بنا دیا گیا ہے۔ جو لوگ ادائیگی کی استطاعت رکھتے ہیں وہ پوری فیس دیں گے البتہ جو نہیں دے سکتا،اس سےکلی یا جزوی رعایت برتی جاے گی۔ یعنی یہ نہیں کہ کوئی فیس سرے سے ہی نہیں ہے اور کھاتے پیتے لوگ بھی مفت ہی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور نہ ہی یہ کہ بس ایک فیس مقرر ہے اور جو غربت کے باعث ادائیگی سے قاصر ہے اس کو ادارے کے اندر گھسنے ہی نہ دیا جائے۔

    ReplyDelete
  4. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    ہمارےمیں دراصل ہرکام کوبزنس بناکرکیاجاتاہے یہ سب جانتےہیں کہ شوکت خانم میں غریبوں کاعلاج کتناہوتاہے اور اب جویہ سستی تعلیم کے فنڈزاکٹھےکیےجارہےہیں وہاں پرکونسےغریب تعلیم حاصل کریں گے۔ اللہ تعالی میرےملک پراپنارحم و کرم کردے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

    ReplyDelete