ShareThis

Sunday, May 30, 2010

غلام احمد بلور کی اشتعال انگیزی

آج عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ء اور وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ کراچی میں پختونوں کا قتل عام بند کیا جائے ۔ پختون مرنا بھی جانتے ہیں اور مارنا بھی ۔ غلام احمد بلورکے اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ شہرقائد کو میدان جنگ بنانا چاہتے ہیں۔ غلام احمد بلور کےسرخ جھنڈے نے ہمیشہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں فساد پھیلایا اور پختون قوم کو ذلیل و خوار کیا ہے اب موصوف کراچی میں اپنا قبضہ جتانے کیلئے شہر کراچی میں لسانی فساد کرانا چاہتے ہیں۔ غلام بلور ریلوے کا بیڑہ غرق تو کر سکتے ہیں لیکن کراچی ان کی پہنچ سے دور ہے۔
ملک کو اس وقت شدید اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہے لہٰذا اس صورتحال کے پیش نظر ملک لسانی وگروہی جھگڑوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ میں کراچی میں بسنے والی مختلف قومیتوں کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ غلام احمد بلور کی اشتعال انگیزی میں نہ آئیں اور شہر میں امن قائم رکھیں۔

15 comments:

  1. آپ بھی کس کی باتوں میں آرہے ہیں۔ یہ صاحب ریلوے کے وزیر ہیں اور کبھی ریلوے سے متعلق گفتگو پسند نہیں کرتے۔ غیر متعلقہ موضوع پر جتنی چاہے باتیں کروالو۔

    ReplyDelete
  2. یہ صاحب ہلال عیدالفظر کے بھی دشمن ہیں

    ReplyDelete
  3. آپ کو بيٹھے بٹھائے اپنی سرجری کروانے کی کيا سوجی

    ReplyDelete
  4. او یار چول بندہ ہے یہ
    اس کی تو پشاور میں کوئی نہیں سنتا
    اور جس کی کوئی نہیں سنتا وہی بھونکتا ہے
    سمجھا کر بات کو
    خبروں میں رہنے کے لیے بکواسنا پڑتا ہے ;-) ۔

    ReplyDelete
  5. اب اپنا کرپشن چھپانے کے لیئے بندہ اتنا بھی نہ کرے؟؟؟؟
    کراچی تو ویسے بھی ہاٹ ٹاپک رہتا ہے تو جب کسی کو اپنے پر سے توجہ ہٹانی ہو تو کراچی میں کچھ نہ کچھ ہوجاتا ہے اور پھر اللہ دے اور بندہ لے :evil:

    ReplyDelete
  6. http://www.jang-group.com/jang/may2010-daily/29-05-2010/col12.htm
    ویسے ایک خیال یہ بھی ہے اور یہ حقیقت سے قریب تر بھی لگتا ہے!

    ReplyDelete
  7. فرحان یہ قاضی یاسر نے اپنے بلاگ پر ایک پوسٹ لگائی ہے،
    http://dosrarukh.wordpress.com/2010/05/29/%d8%a7%d8%b0%db%8c%d8%aa-%d9%86%d8%a7%da%a9-%d9%85%d9%81%d8%a7%db%81%d9%85%d8%aa-%d9%88%d9%84%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b4%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b4%db%81%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%ad/
    جس پر مینے تبصرہ کیا ہے جو کہ موڈریشن کا منتظر ہے،احتیاطا میں اسے تمھاری اس پوسٹ پر بھی لکھے دے رہا ہوں کہ اگر یہ صاحب بغض معاویہ میں اسے نہ چھاپیں تو میرا جواب لوگ یہاں پڑھ سکیں!
    خوب وہ بے تحاشہ اسلحہ جو اے این پی کے جلسوں میں کھلے عام نظر آتا ہے وہ صاحب تحریر اور اسے اپنے بلاگ پر لگانے والوں کونظر نہیں آتا!
    اور جو آئے دن اسلحے سے بھری بسیں جن کے مالک پٹھان ہوتے ہیں پکڑی جاتی ہیں وہ بھی جناب کو نظر نہیں آتیں؟
    لے دے کر ہر الزام متحدہ پر ڈال دو،اور کیوں نہ ڈالیں سب کی راہ میں رکاوٹ جو بنی ہوئی ہے جو اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اورنہیں چاہتے کہ ان کا کرپشن اور پاکستان پر سے قبضہ ختم ہو،
    وہ جو یہ نہیں چاہتے کہ کراچی کی سڑکوں سے ان کی ٹرانسپورٹ مافیا کا قبضہ ختم ہو،
    پھر یہاں کی پولس جو جا بجا کچی آبادیاں قائم کر کے اپنی آنے والی نسلوں کی کمائی کا بندوبست کرتی ہے کہ یہاں ہی مجرموں کی پنیری لگائی جاتی ہے اسے بھی متحدہ کیوں ہضم ہوگی؟
    ویسے یہ تنویر ارشاد ٹرانسپورٹ مافیا کے سرغنہ ارشاد بخاری کی اولاد تو نہیں؟؟؟

    ReplyDelete
  8. کراچی میں زندگی گزارنا دوبھر کر رہے ہیں ایسے مرددود انسان
    تفرقہ ڈالتے ہیں یہ
    جب کہ حاصل کچھ نہیں ہوتا
    کتے کی موت مریں یہ آپس میں لڑنے والے
    جانے عام آدمی ہی کیوں مرتا ہے بم دھماکوں میں
    یہ سیست دان کیوں نہیں

    ReplyDelete
  9. ایک اور اہم بات کا ذکر تو رہ ہی گیا کہ کس طرح کراچی کے لوگوں کے مکانوں زمینوں اور جائدادوں پر قبضہ کیاجاتا رہا ہے اور اب بھی کیا جارہا ہے اور ان قبضہ گیروں کو پولس کی مکمل سپورٹ حاصل ہے جس کی مثال ال آصف اسکوائر سہراب گوٹھ رابعہ سٹی رابعہ فلاور اور نہ جانے کتنے ہی علاقے ہیں اور ان علاقوں کا امن و امان یہاں قبضہ کیئے ہوئے ان ہتھیار بند پٹھانوں کے رحم و کرم پر رہتا ہے!

    ReplyDelete
  10. اردو بلاگینگ میں جماتی اتنے زیادہ کیوں ھے‘‘

    ReplyDelete
  11. بکواس کرتا ھےغلام احمد بلور :cool: :cool:

    ReplyDelete
  12. پاَ جی میرا مطب ھے جماعت اسلامی عرف جَماعتی ، :grins: :grins:

    ReplyDelete
  13. قاضی یاسر کی ان باتوں کے جواب میں مینے کچھ عرض کیا جو انہیں ہضم نہیں ہوا سو انہوں نے اپنے بلاگ پر چھپنے نہ دیا،میں ان حقائق کو یہاں لکھے دےرہاہوں!
    قاضی یاسر لکھتے ہیں،
    جہاں تک کچی آبادیوں کا تعلق ہے تو کراچی کے کئی علاقے جو آج سیٹیلڈ علاقے قرار دیئے جاتے ہیں دراصل کچی آبادیاں تھیں اور آج بھی ان علاقوں کے مکینوں کے پاس کاغزات نہیں ہاں بعض جماعتوں کی جانب سے لیز کے کاغزات تقسیم کیئے گئے ہیں جو کارکنوں کو نوازنے کے سوا کچھ نہیں،
    مزید فرماتے ہیں کیا صرف یہی علاقے ہیں آپ کی فہرست مزید پراثر ہوتی اگر آپ شہر میں ان علاقوں کی بھی نشاندہی کرتے جہاں دیگر لسانی گروپوں نے قبضے کر رکھے ہیں،جہاں پر پولس تو پولس رینجرز بھی گھستے ہوئے کسمساتے ہیں!
    میرا جواب یہ تھا،
    آپ کو چاہیئے کہ اپنا ذہنی توازن چیک کروائیں جن لوگوں کو ملکیت کے کاغزات دیئے گئے وہ کسی اور کی زمین پر قبضہ کرکے نہیں بیٹھے تھے،اور یہ لوگ پچاس سال سے ان جگہوں پررہ رہے ہیں،
    اور پورا قائد آباد داؤد چورنگی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں رہنے والوں کو آپ کیا کہیں گے؟؟؟؟
    جنہوں نے ریلوے کی ہزاروں ایکڑ زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے انکوآپ کیا کہیں گے؟؟؟؟
    اور جن علاقوں کا جناب ذکر فرمارہے ہیں وہاں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آپکی چور پولس اور اس کے پالے ہوئے غنڈوں سے حفاظت کے لیئے انتظامات کیئے ہیں!
    رہی نائن زیرو کی بات تو ہمارے منتخب نمائندوں کے پاس ایکڑوں پر پھیلے ہوئے قلعے تو ہیں نہیں چھوٹے چھوٹے گھروں کی حفاظت اسی طرح کی جاسکتی ہے وہاں ہمارے منتخب نمائندوں کا آنا جانا رہتا ہے جو دشمنوں کی آنکھوں میں ویسے ہی کھٹکتے رہتے ہیں،سو ان کی اور وہاں رہنے والوں کی حفاظت کے لیئے علاقے کے لوگوں کی مرضی سے وہاں کے رہنے والے ہی اپنی مدد آپ کے تحت حفاظت کررہے ہیں!
    سو یہ سچائی ان جیسے جھوٹ کو سچ بنانے والوں کو نہ پہلے کبھی ہضم ہوئی ہے اور نہ آئندہ کبھی ہوگی،یہ صاحب شاہی صید کا ایجینڈہ فالو کررہے ہیں،مگر افسوس یہ ہے کہ میری طرح اتنی ہمت نہیں رکھتے کہ کھل کر اس کا اظہار کرسکیں!

    ReplyDelete
  14. It's great that people can receive the loans and this opens up completely new opportunities.

    ReplyDelete