جوتا مارنے کا کلچر عراق سے چلتے چلتے اب کراچی پہنچ گیا، جامعہ کراچی میں امریکی اسکالر ،صحافی اور امریکی فاؤنڈیشن برائے ڈیفنس آف ڈیموکریسی کے صدر کلفرڈ مے کو جوتا مارنے کی کوشش کی گئی،
لیکچر پروگرام کے آرگنائزر مونس احمر کے مطابق امریکی مہمان پر لیکچر کے ایک طالب علم نے جوتا مارنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ محفوظ رہے۔ انہوں نے بتایا کہ جوتا مارنے کا عمل قابل مذمت ہے اور اس حوالے سے کلفرڈ مے سے معذرت بھی کرلی گئی ہے۔
سلام فرحان
ReplyDeleteاس خبر پہ میں بلاگ لکھنے لگی تھی :| :| :|
اپ نے پہلے لکھ دیا
سلام فرحان
ReplyDeleteاس خبر پہ میں بلاگ لکھنے لگی تھی :| :| :|
اپ نے پہلے لکھ دیا
یار تو بلاگ کھول کر خبریں ہی سنتا رھتا ہے۔ :mrgreen:
ReplyDeleteیار تو بلاگ کھول کر خبریں ہی سنتا رھتا ہے۔ :mrgreen:
ReplyDeleteآج کی خبروں میں جامعہ کراچی کے حوالے سے یہ خبر سنکر افسوس ہوا۔ آپ نہ عراق کے صحافی ہے اور نہ زندگی میں آپکی کوئ اور اچیومنٹس ہونگی پھر اس قسم کی حرکت صرف خبر کا حصہ بننے کے لئے کی گئ ہوگی۔ جس طرح ہم یہ شور مچاتے ہیں کہ ہر پاکستانی دہشت گرد نہیں ہوتا اسی طرح ہر امریکی بھی استعماری قوتوں کی علامت نہیں ہے۔ اپنے غصے کے اظہار کے اور بھی بہت سے مناسب اور مہذب طریقے موجود ہیں لیکن ان سے شاید دنیا کے سامنے آپ اتنے زیادہ نمایاں نہیں ہوتے۔
ReplyDeleteوہ لوگ جو علم کے شعبے سے وابستہ ہیں انکی عزت کرنی چاہئیے۔ میں اپنی ذاتی رائے میں اس فعل کو قطعآ لائق تحسین نہیں سمجھتی۔
آج کی خبروں میں جامعہ کراچی کے حوالے سے یہ خبر سنکر افسوس ہوا۔ آپ نہ عراق کے صحافی ہے اور نہ زندگی میں آپکی کوئ اور اچیومنٹس ہونگی پھر اس قسم کی حرکت صرف خبر کا حصہ بننے کے لئے کی گئ ہوگی۔ جس طرح ہم یہ شور مچاتے ہیں کہ ہر پاکستانی دہشت گرد نہیں ہوتا اسی طرح ہر امریکی بھی استعماری قوتوں کی علامت نہیں ہے۔ اپنے غصے کے اظہار کے اور بھی بہت سے مناسب اور مہذب طریقے موجود ہیں لیکن ان سے شاید دنیا کے سامنے آپ اتنے زیادہ نمایاں نہیں ہوتے۔
ReplyDeleteوہ لوگ جو علم کے شعبے سے وابستہ ہیں انکی عزت کرنی چاہئیے۔ میں اپنی ذاتی رائے میں اس فعل کو قطعآ لائق تحسین نہیں سمجھتی۔
باعث شرم حرکت ہے۔ اس گدھے کو تو نہ صرف اس جامعہ سے باہر نکال دینا چاہئے بلکہ تمام پاکستان کی جامعات میں داخلے کے لئےنااہل قرار دے دینا چاہئے۔
ReplyDeleteباعث شرم حرکت ہے۔ اس گدھے کو تو نہ صرف اس جامعہ سے باہر نکال دینا چاہئے بلکہ تمام پاکستان کی جامعات میں داخلے کے لئےنااہل قرار دے دینا چاہئے۔
ReplyDeleteاس موضوع پر قدرے تفصیلی بلاگ جس میں عنیقہ صاحبہ کے سوالوں کا جواب بھی ہے یہاں ملاحظہ کریں۔ انگریزی بلاگ بھی ہے، جس کو پڑھ کر آپ میں سے اکثر محمد حسین کے فعل کو غلط نہیں سمجھیںگے۔
ReplyDeletehttp://talkhaabau.wordpress.com/2009/10/09/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d8%b1%d8%ad%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%db%81-%d9%be%d8%b1/
http://talkhaaba.wordpress.com/2009/10/09/ku-student-hurled-shoe-at-representative-of-aggression/
جناب میں آپکے بلاگ پہ یہ تحریر دیکھ چکی ہوں اور اس پہ اپنا تبصرہ بھی دیکھ چکی ہوں۔ ایک دفعہ پھر یہ کہنا چاہونگی کہ جس طرح افغانستان کی جنگ پاکستان کے اندر لڑنا غلط تحا اسی طرح ایران کی جنگ پاکستان کے اندر لڑنا غلط ہے۔ ہمیں امریکہ سے شکایت ہے ہم انہیں اور انکی امداد کو جس سے وہ ہمیں خریدتے ہیں اسے شدید نفرت ہے تو ہم یہ جنگ جوتوں سے نہیں جیت سکتے۔ آپ اس بات پہ معترض ہوتے ہیں کہ وہ ہم پہ بمباری کر کے ہمارے معصوم شہریون کو ختم کرتے ہیں اور اسے سہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دیتے ہیں تو کیا یہ بمباری جوابآ جوتوں سے لڑی جائیگی۔ اگر آج ہمارا نمائندہ دہلی میں بیٹھا کشمیر کے مسئلے پر ہمارا موقف بیان کرنا چاہے اور جوابآ شیوسینا والے اسےجوتےاٹھا کر مریں تو کیا یہ لائق تحسین عمل ہوگا۔
ReplyDeleteاگر آپ ان سے لڑنا چاہتے ہیں تو پھر برابر سے لڑیں اور ان سے کہہ دیں کہ ہمیں آپ سے کوئ امداد نہیں چاہئیے۔ اپنے داخلی مسائل کی نوعیت کو سمجھیں اور انہیں حل کرنے کے لئیے کوشاں ہوں۔ وہ نظام جو آپکے عوام کو جینے کا حق نہیں دے پا رہا ہے اسے بدل ڈالیں۔ اس طرح کے واقعات جذباتی لوگوں کو مصروف رکھنے کی کڑی ہے اور کچھ نہیں۔ یہ ہمیں کہیں نہیں لے جائیں گے۔
جناب میں آپکے بلاگ پہ یہ تحریر دیکھ چکی ہوں اور اس پہ اپنا تبصرہ بھی دیکھ چکی ہوں۔ ایک دفعہ پھر یہ کہنا چاہونگی کہ جس طرح افغانستان کی جنگ پاکستان کے اندر لڑنا غلط تحا اسی طرح ایران کی جنگ پاکستان کے اندر لڑنا غلط ہے۔ ہمیں امریکہ سے شکایت ہے ہم انہیں اور انکی امداد کو جس سے وہ ہمیں خریدتے ہیں اسے شدید نفرت ہے تو ہم یہ جنگ جوتوں سے نہیں جیت سکتے۔ آپ اس بات پہ معترض ہوتے ہیں کہ وہ ہم پہ بمباری کر کے ہمارے معصوم شہریون کو ختم کرتے ہیں اور اسے سہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دیتے ہیں تو کیا یہ بمباری جوابآ جوتوں سے لڑی جائیگی۔ اگر آج ہمارا نمائندہ دہلی میں بیٹھا کشمیر کے مسئلے پر ہمارا موقف بیان کرنا چاہے اور جوابآ شیوسینا والے اسےجوتےاٹھا کر مریں تو کیا یہ لائق تحسین عمل ہوگا۔
ReplyDeleteاگر آپ ان سے لڑنا چاہتے ہیں تو پھر برابر سے لڑیں اور ان سے کہہ دیں کہ ہمیں آپ سے کوئ امداد نہیں چاہئیے۔ اپنے داخلی مسائل کی نوعیت کو سمجھیں اور انہیں حل کرنے کے لئیے کوشاں ہوں۔ وہ نظام جو آپکے عوام کو جینے کا حق نہیں دے پا رہا ہے اسے بدل ڈالیں۔ اس طرح کے واقعات جذباتی لوگوں کو مصروف رکھنے کی کڑی ہے اور کچھ نہیں۔ یہ ہمیں کہیں نہیں لے جائیں گے۔