ShareThis

Tuesday, February 2, 2010

حقیقی عوامی نمائندے


پاکستانی تاریخ بھی ا پنے اندر ایک پراسرار راز رکھتی ہے۔ ہمارے شہری عوام بھی اس کھلی حقیقت سے نا واقف ہیں کہ ملک کے اصل عوامی قائدین کون ہیں، حقیقی عوامی نمائندے کون ہیں کن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے، یہ غریب عوام  باسٹھ سالوں سے ایک ہی سوراخ سے ڈ سے جا رہے تھے اور آج تک بے چارے بے ہو شی کی حالت میں بے دریغ  بار بار استعمال کیے چلے جا رہے تھے۔
 مگر اب عوام کو روشنی دیکھانے والے حقیقی عوامی نمائندے بھی اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ گئے ہیں۔ مزید معلومات اس وڈیو میں ہے
۔







عوام ایک بار آزما کر دیکھ لے۔


4 comments:

  1. سب سے پہلے تو دلی مبارکبا قبول کرو کہ تمھارا بلاگ اب سعودی عرب میں بھی پڑھا جارہا ہے :razz:
    دوسری بات جومبشر لقمان کہہ رہے ہیں یہ بات کل آج ٹی وی کے پروگرام بے نقاب میں سابق ڈی آئی جی حیدراآباد جیل خانہ جات الہ الدین عباسی صاحب جو کہ ایک سندھی ہیں نے بھی تفصیل سے بیان کی کہ کس طرح کراچی کی پولس کو خراب کیا گیا اور کرنل سعید نامی ایک شخص نے پولس کے سربراہ کی حیثیت سے ٨٤ سے ٩٢،93 ، میں ڈائریکٹ پنجاب سے لاکر لوگوں کو پولس میں بھرتی کیا انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دورتھا جب ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کلین اپ کیا جاتا رہا اور ان بھرتیوں کا مقصد ہی یہی تھا کہ اگر کراچی کے پنجابی بھرتی کیئے تو انہیں کہیں محلے داری یا ایک شہر ہونے کا احساس نہ پیدا ہوجائے اور وہ اس ظلم اور بربریت میں حصہ دار بننے سے انکار نہ کردیں،
    انکا کہنا ہے کہ آج بھی اس دور کے بہت سے پولس افسر کراچی پولس میں موجو ہیں اور ان کی انویسٹیگیشن ہونا چایئے،
    کراچی میں آئے دن جو خونی کھیل کھیلا جاتا ہے صرف اسی لیئے کہ ٦٢ سال سے حکمراں قوتیں ایم کیو ایم کو اپنے اقتدار کے لیئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہیں اور انکا خیال ہے کہ وہ ان خبیثانہ حرکتوں سے ملک کے ایک بڑے طبقے کو ایم کیو ایم کے خلاف کیئے رکھیں گی،ان کے کارندے ہر جگہ موجود ہیں اور اپنی بھرپور کوششوں میں مصروف عمل ہیں :evil:
    بس اللہ ہی ان شیطان کے چیلوں سے ہم سب کو محفوظ رکھے،آمین

    ReplyDelete
  2. عبداللہ صاحب کا تو میں مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ نہ صرف ہر فن مولا ہیں بلکہ اُن کی عمر چونکہ ایک صدی سے بھی زیادہ ہے اور پاکستان کے سارے حکمران اور افسران انہی کے ہاتھوں پروان چڑھے اور تمام حکومتی فیصلے بھی حکمران ان کو دکھا کر کرتے رہے ۔ اسلئے وہ سب کچھ جانتے ہیں ۔ میرے علم میں جو چھوٹی سی بات ہے ۔ 1988ء میں بے نظیر کی حکومت بنی تو عام معافی کے نام پر تمام عدالتوں سے سزا یافتہ غُنڈے بدمعاش چور ڈاکو قاتل رہا کر دیئے گئے ۔ ان میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے پولیس میں ہوتے ہوئے جرائم کئے تھے ۔ مزید ظُلم یہ کیا کہ نہ صرف اُن مُجرم پولیس والوں کو بحال کیا بلکہ کئی رہا کئے گئے بدنام زمانہ مُجرموں کو پولیس میں ملازمت دے دی ۔ ان میں زیادہ لوگ تو سندھ سے تعلق رکھتے تھے اور کچھ کا تعلق اٹک ٹیکسلا اور راولپنڈی سے تعلق تھا اور وہ بدنام ترین لوگ تھے ۔ کہا یہی جاتا تھا کہ ان سب کو سندھ پولیس میں بھرتی کیا گیا تھا

    ReplyDelete
  3. افتخار اجمل اگر میرے لکھے کو دھیان سے پڑھتے تو انہیں میرے بارے میں اتنی گل افشانیاں نہ کرنا پڑتیں،میں خود کو ایک طفل مکتب سمجھتا ہوں بس اپنی آنکھیں اور ذہن کھلا رکھتا ہوں،اسی پروگرام میں گلشن اقبال ٹاؤن کے انسپیکٹررستم نواز جوکہ ایک پنجابی ہیں نے بھی پولس میں موجودکرپٹ سسٹم کی نشاندہی کی اور اس کی سزا میں انہیں معطل کردیا گیا ہے!جس کو میں اور کراچی کا ہر باشعور شہری اپوز کرےگا!
    مینے جو بھی لکھا وہ ایک باخبر اور ذمہ دار شخص کی گفتگو تھی اور جن لوگوں نے اس پروگرام کو دیکھا وہ اس کی تصدیق بھی کریں گے انہوں نے صاف صاف یہ کہا کہ یہ سب پنجاب سے ڈائریکٹ بھرتی کیئے گئے تھے تمام قوائد اور ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر!
    چلیں یہ تو مانا کہ یہ تمام جرائم پیشہ اور کرپٹ لوگ تھے!
    یہاں تک تو لےآئے ہیں باتوں باتوں میں
    اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں!!

    ReplyDelete
  4. ایم کیو ایم کتنی پرانی ہے بھائی؟؟ ٦٢ سال سے اسے خطرہ کیسے سمجھا جاسکتا ہے جبکہ یہ تو ٨٠ کی دہائی میں‌جنرل ضیاء الحق کی آشیر باد سے وجود میں‌آئی تھی؟

    ReplyDelete