ShareThis

Friday, February 12, 2010

اسپرنٹ کوئین نسیم حمید


ساوٴتھ ایشین گیمزمیں 100میٹرکی ریس میں گولڈمیڈل حاصل کرنے والی نسیم حمید کا تعلق کورنگی کراچی سے ہے کراچی کی غریب بستی میں رہنے والی نسیم حمید نے ساوٴتھ ایشین گیمزمیں تیزترین ایتھلیٹ کا اعزازحاصل کرکے کراچی ہی نہیں بلکہ پوری قوم کاسرفخرسے بلندکردیاہے ،پوری قوم کواپنی اس بیٹی پر فخرہے۔جنوبی ایشیاء کی تیز ترین خاتون کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد نسیم حمید کو خطے کے میڈیا میں زبردست پذیرائی ملی۔ سری لنکا کے ایک اخبار نے انہیں ”وومین آف دی ریجن“ کا خطاب دیا ہے جبکہ بنگلہ دیش کے مختلف چینلز نے ان کے قدموں کے نشان دکھائے۔



نسیم حمید نے ملت اسکول کورنگی اور کورنگی کالج سے میٹرک اور انٹر کی تعلیم حاصل کی۔ کھیلوں میں مصروفیات کی وجہ سے وہ مزید تعلیم مکمل نہ کر سکیں۔ ساؤتھ ایشین گیمز  میں جانے سے قبل ” اسپرنٹ کوئین “ نسیم حمید کے چالیس گز پر محیط گھر کے باہر برائے فروخت کا بورڈ لگا ہوا ہے، ان کے اہل خانہ چاہتے تھے کہ اپنی کل متاع کو بیچ کر کورنگی کے کسی پسماندہ علاقے میں مزید چھوٹا اور کم قیمت کا گھر لیا جائے، تاکہ بچ جانے والی رقم کچھ ضروری اشیاء خریدنے میں کام آسکے۔نسیم حمید کا تعلق آرمی ایتھلیٹس ہے جہاں انہیں ماہانہ نو ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔ طلائی تمغہ جیتنے پر ناظم کراچی مصطفی کمال نے نسیم حمید کے لئے دو لاکھ روپے جبکہ پاکستان اولمپک ایسو سی ایشن اور پاکستان ایتھلیٹکس فیدریشن نے ایک، ایک لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے،
نسیم حمیدنے ثابت کردیاہے کہ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، اگراسے تعصب اورامتیازسے بالاترہوکرآگے لایاجائے توغریب بستیوں کے کچے گھروں میں موجودٹیلنٹ بھی ملک کووکٹری اسٹینڈپر لاسکتاہے اورپوری دنیا میں ملک کانام روشن کرسکتاہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ ساوٴتھ ایشین گیمزمیں ملک کو تاریخی کامیابی سے ہمکنارکرنیوالی ایتھلیٹ نسیم حمیدکوخصوصی انعامات سے نوازاجائے اور نسیم حمیداوران جیسے تمام کھلاڑیوں کی مالی معاونت اورحوصلہ افزائی کی جائے۔


7 comments:

  1. میرٹ کی بالادستی ہی پاکستان کے مسائل کا حل ہے!
    پورے پاکستان کو مبارک باد ایشیئن گیمز میں دوسرے نمبر پر آنے کے لیئے انشاء اللہ اگلی بار ہم پہلے نمبرپر ہوں گے،نسیم حمید اور،نعمت اللہ نے ثابت کیا ہے کہ اگر حوصلے بلند ہوں توکامیابیاں مقدر بنتی ہیں !

    ReplyDelete
  2. بلاشبہ بہت عمدہ کارکردگی ہے اور اس پر جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔۔

    عبداللہ صاحب۔۔ ہم پہلے بھی دوسرے نمبر پر تھے اور مجموعی طور پر بہتری نہیں بلکہ تنزلی کی طرف گئے ہیں اور تمغوں کی تعداد میں‌ کمی ہوئی ہے۔ اگر معمولات اسی طرح‌رہے تو ایک آدھ اسٹار کارکردگی تو ملے گی لیکن دوسری پوزیشن برقرار رکھنا بھی ممکن نا ہوگا۔

    ReplyDelete
  3. نسیم حمید نے جو کیا وہ حقیقت میں بہت بڑا کارنامہ ہے مجھے جہاں اس کے جیتنے کی خوشی تھی وہاں اس بات پر زیادہ فخر تھا کہ ایک ایسے گھر کی بیٹی نے پوری دنیا مین پاکستان کا نام روشن کیا ہے جس کا تعلق ایک بہت ہی غریب فیملی سے تھا ۔ لیکن اس کا جنون بتا رہا تھا کہ کسی بھی کام کو اگر دل سے کیا جائے اپنے وطن اور اپنے گھر والوں کی عزت کا خیال ہو تب پیسہ کام نہیں کرتا ۔ اب تو ہمارے کڑکٹرز کو شرم آنی چاہے ۔ جوکے دوسرے ممالک میں جاکراپنے وطن کی عزت کا خیال بھول جاتے ہیں ۔

    ReplyDelete
  4. جی راشد صاحب آپنے بجا ارشاد فرمایا،
    مینے بھی اسی لیئے کہا تھا کہ میرٹ کو سب سے اوپر رکھنا نہ صرف کھیل بلکہ پورے پاکستان کے مسائل کا حل ہے اورپھر پاکستان کو صرف کھیلوں میں ہی نہیں پوری دنیا میں اونا مقام حاصل کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہ سکے گی انشاءاللہ

    ReplyDelete
  5. اونچا مقام

    ReplyDelete
  6. کرکٹ میں بھی کافی ٹیلنٹ موجود ہے
    مگر ضرورت ہے میرٹ کی
    لیکن انتظامیہ کو اس سے کیا غرض
    ان کو تو سفارشی پسند ہیں

    ReplyDelete