ShareThis

Thursday, February 11, 2010

حیدرآباد میں اسٹریٹ کرائم کی انوکھی واردات


کل حیدرآباد کے علاقے کھاتہ چوک پر اسٹریٹ کرائم کی انوکھی واردات ہوئی۔ ایک نوجوان جو جینز اور شرٹ میں ملبوس تھا اور کھا تہ چوک پر موبائل فون پر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔ اسی دوران دو ڈاکو آئے جو موٹر سائیکل پر سوار تھے ۔



انہوں نے اسلحے کے زور پر نوجوان سے موبائل چھین لیا. ایک ڈاکو کی نظر اچانک نوجوان کی جینز پر پڑھی تو اس کو دیکھ ڈاکو نے کہا کہ یہ پینٹ بھی اتارو۔ نوجوان نے اپنی جان بچانے کیلئے اپنی پینٹ اتار کر ڈاکوں کے حوالے کر دی۔ ڈاکوؤں موبائل اور جینز چھین کر موٹر سائیکل پرفرار ہو گئے .


9 comments:

  1. سوال یہ ہےکہ اس دوران اردگرد موجود لوگ کیا کررہے تھے؟

    ReplyDelete
  2. ایسی صورت حال سے بچاؤ کے دو حل ہیں ایک اچھے کپڑے پہننا چھوڑدیں اور دوسرے گھر سے کپڑوں کا ایک ایکسٹرا جوڑا رکھ کر چلا کریں

    ReplyDelete
  3. شاباش۔ بہت اچھی قوم ہے۔

    ReplyDelete
  4. سب تماشا دہکھ رہے تھے۔ :oops:

    ReplyDelete
  5. عارف کریم قوم سے آپکی مراد پاکستانی ہیں یا صرف ایک مخصوص علاقے کے لوگ؟ :|

    ReplyDelete
  6. تاکہ مانگنے پر وہ پکڑا دیا جائے۔
    :?:

    ReplyDelete
  7. لڑائی کے ماھرین بتاتے هیں که لڑائی کے دوران دشمن کی جینز یا وھ کپڑے جو جینز والی جگه پر پہنے یا باندھے جاتے هیں اتار کر دشمن کو فرار کا موقع دیا جائے تو دشمن کے اندر سے سامنے آنے کی ہمت ختم هو جاتی هے
    جیسا که پاک ستان کے عموماً اور پنجاب کے تھانوں میں خصوصاً هوتا ہے که ملزم نما دھر جیسے هی تھانے پہنچتی ہے اس کی تشریف سے کپڑے اتار کر تشریف پر پانچ لتر ضرور لگتے هیں که که اس سے دھر کی رشوت دونے کی حس تیز هو جاتی ہے
    یه جی لڑائی کی اعلی ترین تکنک کی باتیں هیں ـ
    اور اس وقت پاک ستان ڈاکے کی انڈسری بنا هوا ہے تو اس انڈسٹری میں تکینک ترقی تو کرئے گی ناں جی

    ReplyDelete
  8. شعیب :smile:
    نہیں جناب خود پہن لیں تاکہ واپسی پر گھر والوں کو صحیح الدماغی میں کوئی شک نہ ہو، :cool:

    ReplyDelete
  9. لو جی
    اب تو بنیان اور کچھا پہن کر نکلنا پڑے گا کیا :o

    ReplyDelete