ShareThis

Wednesday, February 10, 2010

ميں جب چھوٹا تھا


یہ پوسٹ میں نے ایک اردو فورم پڑھی تھی۔ مجھے پسند آئی اس لئے آپ سے بھی شئیر کر رہا ہوں۔


بيٹا ون، ٹو، تھری سناؤ-- ماشاع اللہ-- بہت ذہين بچی ہے-- کونسی کلاس ميں ہے-- کيا؟ صرف دوسال کی ہے-- وغيرہ وغيرہ- ان جملوں سے تو آپ سب ہی مانوس ہونگے- جب بچہ کم عمری ميں ہی دو کا پہاڑا سنانے لگے ،  کوئ انگريزی کی نظم اپنی توتلی زبان ميں گنگنا لگے- تو داد دينا فطری عمل ہے اور اسی فطری عمل کے نتيجے ميں ميں اپنی تين سال کی بھتيجی کو چڑيا گھر گھمانے لے گيا- بچی کے تاثرات بالکل ويسے ہی تھے کہ جو کسی بچے کے پہلی بار ايسی جگہ آنے کے نتيجے ميں ہوتے ہيں - طوطا ، شير ، ہرن اور پھر ہاتھي- پر ہاتھی کی باری جب آئ تو يہ ميں ديکھ کر چونک گيا کہ محترمہ ہاتھی کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑيں تھيں- وجہ پوچھی تو فرمانے لگيں ” ان سے دعا مانگيں” - ميں بے اختيار مسکرايا اور پھر سنجيدھ شکل بنا کر اسےسمجھانے لگا - گھر واپس آکر جسے بھي يہ واقعہ سنايا اس نےقہقہہ لگا کر بچی کو سمجھانے کی کوشش کری - ليکن ايک بچہ جو صبح شام اپنی گھر کے ٹي وی پہ ”بندر اور ہاتھی مہاراج ”کو کارٹونز ميں کارنامے کرتے ديکھتا ہے وہ کس طرح آسانی سے مطمئن ہوسکتا ہے؟
ميں جب چھوٹا تھا تو ”پنک پينتھر” کو ديکھ اسی جيسی حرکتيں کرتا ليکن کارٹون سے قبل پي ٹي وي کے”تارڑ چاچا” ہميشہ ايسے سبق دے جاتے کہ وہ آج تک ذہن ميں نقش ہيں- تھوڑا بڑا ہوا تو ”حکيم سعيد” کے نونہال ميں چڑيلوں اور بھوتوں کی کہانياں ميری کمزوری تھيں پر ان کہانيوں ميں بھی ايسے پيغام پوشيدہ ہوتے تھے کہ جن سے اخلاقيات کا سبق ملتا تھا-
افسوس کہ اب تارڑ چاچا کی جگہ ”ہنومان” نے لے لی ہے اور نونہال کی جگہ اخلاقيات کا سبق ٹی وی شوز ميں منی اسکرٹ ميں مبلوس دوشيزائيں سکھاتی ہيں-


ماخذ


5 comments:

  1. چاچا تارڑ تو بس ایک بار کارٹون دکھا دیتا تھا،کسی بھی چیز کی ایک حد سے زیادتی اچھی نہیں ہوتی،، آج کل مختلف چینلز پر 24 گھنٹے کارٹون چلتے رہتے ہیں۔ اور بچے دیکھ دیکھ کے نظریں بھی خراب کرتے ہیں اور ان کی تعلیمی کارکردگی پر بھی اثر پڑتا ہے۔ نیز کارٹونوں ڈراموں فلموں، رئلٹی شوز اور ننگ دھڑنگ ناچ کا بھارتی کلچر کا اثربچوں کے ذہنوں پر خطرناک حد تک اثر انداز ہونے لگا ہے۔ ہم چھوٹے تھے تو ہمارے ماں باپ ہمیں ایک محدود وقت تک ٹی وی دیکھنے کی اجازت دیتے تھے اور دیگر ایکٹیوٹیز جیسے مسجد جانا،، سکول کا کام کرنا وغیرہ پربھی ہمیں مجبور کر کے بٹھاتے تھے،، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ذہنوں میں اگر اسلام بہت زیادہ نہیں تو ایک درمیانی سے حالت میں موجود ہے۔ کسی بھی غلط کام کرنے پر ہمارے اندر ہمارا ضمیر ہمیں احساس گناہ دیتا رہتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ مثبت عادات کم ہوتی جا رہی ہیں۔

    ReplyDelete
  2. مسلہ ایک ہو تو بندہ بات بھی کرئے ۔ اتنے چینل کھل گئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ماں باپ بچے سب ٹی وی کے اگے منہ کھلے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ کیا مجال ہے کوئی پروگرام رہ جائے۔ پاں کچن میں کام کرتے ہوئے بچے سے پوچھے گی بیٹی بتا اب ساس کہاں پہنچی ہے بہپو نے کون سی ساڑھی پہنی ہے ۔ ابا جی کی آواز آئے گی بیٹا ذرا دیکھنا ہیرو کیسا لگ رہا ہے ۔ آپ لوگوں کو نہیں لگتا کہ ہیرو کی شکل آپ کے ابا سے ملتی ہے۔ جہاں پورا گھر کارٹون بنا ہو وہاں کس کس کو سمجھیں گے

    ReplyDelete
  3. بچے تو آخر بچے ہیں ۔ عصر حاضر میں بھارتی فلمیں دیکھ دیکھ کر یہ حال ہے کہ لوگ شادی میں آگ کے گرد پھیرے نہیں کرتے باقی تمام ہنووانہ رسمیں مع لڑکوں لڑکیوں کے بے شرمی سے ناچنے کے سب کچھ ہوتا ہے

    اس کے ساتھ ساتھ ماشاء اللہ وہ بچے بہی ہیں جو پہلا لفظ اللہ سیکہتے ہیں اور جن کی مائیں انہیں اللہ اور رسول سے متعلق لوری سناتی ہیں

    ReplyDelete
  4. فرحان جو مسلمان ہندوستان میں رہتے ہیں ان میں مینے ایسی بیماری نہیں دیکھی
    ( جبکہ وہاں ہر چوراہے پر ہنومان اور گڑینش گڑے نظر آتے ہیں) بلکہ وہ ہم سے ذیادہ دین کے نزدیک محسوس ہوئے دقیانوسیت کی حد تک ویسے وہاں بھی ہر علاقے کے حساب سے مسلمانوں کا رویہ نظر آتا ہے !
    اصل مسئلہ ہی گھر کے ماحول کا ہےاگر بڑے صحیح ہوں گے تو بچے خود بخود صحیح ہوجاتے ہیں،باقی بچوں کی معصومیت کو ہنسی میں اڑانے کے ساتھ ساتھ اگر انکو اصل بات سمجھا دی جائے تو مسئلہ پیداانہیں ہوتا

    ReplyDelete
  5. مسئلہ بچوں کے ساتھ نہیں والدین کے ساتھ ہے
    جب والدین خود ہی فحش چینل دیکھیں گے
    میری مراد انڈین ڈانس پروگرامز سے ہے
    ویسے اب تو پاکستانی چینل بھی اس میں خوب حصہ لے رہا ہے
    اسلامی ٹی وی چینل تو بوڑھوں اور رمضان کی حد تک رہ گئے ہیں

    کل والینٹان ڈے کے موقع پر ایک عدد ایس ایم ایس موصول ہوا

    ملاحضہ کیجئے

    جس جس کے کپل ہیں ان کو ہیپی ویلنٹائن
    اور جس کے نہیں وہ دیکھے عالم آن لائن

    پاکستانی ٹی وی بھی اب کسی سے کم نہیں رہا
    جانے کیا ہو رہا ہے ہمارے ملک کی عوام میڈیا اور حکمرانوں کو
    کوئی بھی اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا چاہتا ہے نا ہی پسند کر رہا ہے

    جب تربیت ہی اچھی نہیں ہو گی تو مستقبل میں ہو گا کیا

    بس نام کے مسلمان ہیں اور بس
    مذہب کے لئے کٹ مریں گے پر عمل نہیں کریں گے

    گانے سننا اب گناہ نہیں رہا
    10 محرم کا حلیم تو بنے گا پر گانے کی دھن پر

    گاڑی میں ٹیپ تو ہو گا پر صرف گانون کے لئے
    ٹی وی دیکھیں گے تو سب مگر ڈرامے ڈانس اور فلمیں

    ہم خود ہی نہیں چاہتے کے ہم اپنے بچوں کو اسلام کی تعلیم دیں
    بچوں کو کیوں قصور وار ٹہرائیں

    ReplyDelete