ShareThis

Monday, December 7, 2009

قاتل نامعلوم

خدا خدا کرکے ذوالفقار علی بھٹو اور نصرت کے بیٹے اور بے نظیر کے بھائی مرتضی بھٹو کے قتل کا عدالتی فیصلہ ہو ہی گیا۔جب تیرہ برس پہلے بیس ستمبر انیس سو چھیانوے کو مرتضیٰ بھٹو کراچی میں اپنی آبائی رہائش گاہ ستر کلفٹن کے باہر اپنے سات ساتھیوں سمیت مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے تو جائے وقوعہ تفتیشی افسر کے آنے سے پہلے پہلے صاف ہوگئی اور ٹریفک بحال ہوگئی۔


سرکار نے مرتضیٰ کے چھ ساتھیوں پر فردِ جرم عائد کی اور مرتضیٰ بھٹو کے وارثوں نے آصف علی زرداری، وزیرِ اعلیٰ سندھ عبداللہ شاہ ، انٹیلی جینس بیورو کے سربراہ مسعود شریف کے علاوہ آئی جی شعیب سڈل سمیت اٹھارہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔

دو پولیس افسر شاہد حیات اور حق نواز سیال پولیس مقابلے میں سرکاری طور پر زخمی قرار دیےگئے لیکن میڈیکل بورڈ نے فیصلہ دیا کہ دونوں افسروں نے خود ساختہ طور پر اپنے آپ کو زخمی کیا۔چند روز بعد حق نواز سیال پراسرار طور پر ہلاک ہوگئے۔

ایک سے زائد ججوں نے یکے بعد دیگرے یہ مقدمہ سننے سے انکار کردیا اور سندھ ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ یہ کیس کسی اور جج کے پاس بھیج دیا جائے۔استغاثہ کی چارج شیٹ میں دو سو تئیس گواہوں کے نام شامل کیے گئے۔لیکن ان میں سے تہتر گواہوں پر ہی جرح ہوسکی۔جس جوڈیشل مجسٹریٹ نے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے تھے وہ تک عدالت میں پیش نہ ہوسکا۔

دو ملزم دورانِ مقدمہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ آصف علی زرداری کو گزشتہ برس اپریل میں سندھ ہائی کورٹ نے ریویو پیٹیشن کی بنیاد پر بری کردیا۔ایس پی شکیب قریشی گزشتہ نومبر میں باعزت بری ہوگئے۔

جبکہ مرتضی بھٹو کے چھ ساتھیوں اور بقیہ اٹھارہ اعلیٰ و ادنی پولیس افسران کو سیشن عدالت نے چار اور پانچ دسمبر دو ہزار نو کو باعزت بری کردیا۔جس سیشن جج نے یہ فیصلہ سنایا اس نے تبصرہ کیا کہ مرتضی بھٹو قتل کیس کی فردِ جرم اور تحقیقاتی عمل میں نقائص پائے گئے ہیں تاہم یہ تبصرہ ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کا حصہ نہیں بنے گا۔

سوال یہ ہے کہ جب استغاثے اور صفائی کی جانب سے نامزد کردہ تمام ملزم بے قصور ہیں تو پھر مرتضیٰ بھٹو اور ان کے سات ساتھیوں کو کس نے مارا؟ اب صرف دو امکانات باقی ہیں۔

یا تو مقتولین نے خودکشی کرلی یا پھر ستر کلفٹن کے اردگرد پھیلے گھنے درختوں پر رہنے والے پرندوں نے فائرنگ کی، آوازوں سے گھبرا کر آٹھ افراد کو اجتماعی ٹھونگیں مار مار کر ہلاک کردیا۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد اب بھٹو خاندان کی اموات کا گوشوارہ کچھ یوں ہے۔

نام قاتل

ذوالفقار علی بھٹو عدالتی قتل
شاہنواز بھٹو نامعلوم
مرتضیٰ بھٹو نامعلوم
بے نظیر بھٹو نامعلوم

‭BBC Urdu‬ - ‮پاکستان‬ - ‮قاتل نامعلوم !‬

2 comments:

  1. بس جی یہ سب پنجاب کی سازش ہے کہ سندھیوں کا مارا جائے اور اس کے وسائل پر قبضہ کیا جائے۔ زرداری اور عبداللہ شاہ تو اس جرم میں ملوث ہو ہی نہیں سکتے کہ وہ سندھی ہیں سو عدالت کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ ہاں شعیب سڈل ضرور ملوث ہوسکتا ہے اس جرم میں۔ عدالت کو چاہئے کہ اس کی اور دیگر پنجاببیوں کا مقدمہ دوبارہ سُنے اور بہتر تو یہی ہوگا کہ مقدمہ دوبارہ سُنے بغیر ہی سزائے موت سُنا دے کہ ان کے پنجابی ہونے سے بڑا کونسا ثبوت ہوسکتا ہے ان کا اس قتل کا مجرم ہونے گا۔ :smile:

    ReplyDelete
  2. خرم کتنا برا لگتا ہے نا جب آپ کی کمیونٹی کو کچھ کہا جائے چاہے وہ جائز ہی کیوں نہ ہو مگر جب آپ لوگ جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ دوسروں پر کرتے ہیں تو سب بھول جاتے ہیں کہ دوسرے بھی انسان ہیں اور جذبات رکھتے ہیں! :|

    ReplyDelete