کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر ڈینسو ہال پر یوم عاشورہ کی نسبت سے نکالے گئے مرکزی جلوس میں دھماکا ہوا ہے، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں20سے زائدافراد جاں بحق ہوئے ہیں ۔ 2افراد کی لاشیں جناح اسپتال جبکہ18لاشیں سول اسپتال میں موجود ہیں۔ 45سے زائد افراد اس سانحے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکہ شدید نوعیت کا تھا ۔ دھماکے کے بعد مشتعل افراد نے پولیس کی گاڑیوں پر پتھراو بھی جبکہ بعض عینی شاہدین کے مطابق موقع پر فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔اب تک ایک درجن سے زائد گاڑیوں اور متعدد کانوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ جائے وقوع سے ایمبولینس زخمیوں کو منتقل کر رہی ہیں جبکہ شہر بھر کے اسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ جلوس میں شامل مذہبی رہنماوٴں نے شرکاء سے اپیل کی ہے کہ وہ پر امن رہیں ۔ناظم کراچی سید مصطفیٰ کمال نے کراچی بم دھماکے کے بعد لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔

کل ملک بھر میں یوم سوگ منایا جائےگا، اور سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے اور ریلیاں نکالی جائیں گی تمام اضلاع میں پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔
یہ وقت صبر اور تحمل کے مظاہرے کا ہے، اگر ہم نے رد عمل میں املاک کو نقصان پہنچایا تو ہم بھی امن تباہ کرنے والوں کی سازش کا حصہ بن جائیں گے۔ دہشت گرد بہت عرصے سے کوشش میں تھے کہ کراچی کے امن کو کسی طرح تباہ کیا جائے آج وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو ئے ہیں جسے ہم پر امن رہ کر ناکام بنا سکتے ہیں۔
کراچی دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج
اشتعال کے نتیجے میں بے قصور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانا اور نذرِ آتش کرنا بھیاتنا ہی بڑا جُرم ہے جتنا خود کُش حملہ ۔ یہ جلاؤ گیراؤ اور فائرنگ ڈیفیس اور چند دوسرے علاقوں کے علاوہ پورے کراچی میں جاری ہے ۔ بولٹن مارکیٹ کے علاقہ میں دکانیں جل رہی ہیں ۔ نارتھ کراچی کی ایک مارکیٹ کو بھی آگ لگا دی گئی ہے
ReplyDeleteاس سلسلے میں ایک اہم عملی قدم اٹحانے کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ جب تک خوشدکش حملہ آوروں کا جن قابو میں نہیں آتا۔ اس وقت تک تمام مذہبی جلوسوں کی چاہے وہ کسی بھی فقہہ سے تعلق رکھتے ہوں پابندی لگا دی جائے۔
ReplyDeleteان جلوسوں کی نوعیت زیادہ حساس ہوتی ہے اور اس سے شر پسند عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایران میں بھی ایسے جلوسوں کی اجازت نہیں۔ دیگر اسلامی ممالک میں بھی جلوسون کی کہانی سننے میں نہیں آتی تو ہمارے لئیے بھی یہ فرض نہیں ہیں۔
مرنے والے اپنی جان سے گئے،، لوگوں کا روزگار ختم ہوا اور شہر میں دہشت کی فضا پھیلی۔ اسکے علاوہ ایک بڑا معاشی نقصان الگ۔ دھماکہ کرنیوالے تو یہی چاہتے تھے اور وہی ہوا۔ پورے واقعے کی کیمرہ فوٹیج موجود ہے،، عینی شاہدین ہیں اور امید ہے کہ جلد پتہ لگ جائے گا کہ اشتعال انگیزی پھیلانے والے کون تھے۔
ہمارے بزرگ لاگر اجمل صاحب لکھتے ہیں
ReplyDelete"اشتعال کے نتیجے میں بے قصور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانا اور نذرِ آتش کرنا بھیاتنا ہی بڑا جُرم ہے جتنا خود کُش حملہ”
میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خودکش حملہ ( خود کو ہلاک کرنا اور دوسروں کو ہلاک کرنا) کبھی بھی کسی بھی جرم کے برابر نہیں ہوسکتا
بے قصور لوگوں کو مارنا ان کی املاک کو نقصان پہنچانا بھی جرم ہے – ایک انسان کو مارنا انسانیت کو مارنا ہے-
We can’t compare these two different entities. Suicide (suicide bomb) is not comparable with any thing
انیقہ آپ کا کہنا بلکل صائب ہے میں بھی مسلسل یہی کہہ رہا ہوں، کاش ہمارے صاحب اختیار اور اقتدار کے کانوں پربھی جوں رینگ جائے،
ReplyDeleteکچھ لوگ اپنے بلاگ پر اس بارے میں لکھھ کر یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ایساکراچی میں ہی کیوں ہوتا ہے ویسے تو پورے پاکستان میں کم و بیش ایسا ہی ہوتا ہے مگر کراچی میں ذیادہ اس لیئے ہوتا ہے کہ سب جگہوں کے کرمنل یہ کہہ کر کراچی پہنچ جاتے ہیں کہ جل کراچی موج کمائیاں :evil:
جب پتا ہے کہ دھماکے ہونے ہی ہیں تو لوگ جلسپ جلوس نکالتے کیوں ہیں؟
ReplyDelete[...] دوست افتخار اجمل، شعیبب صفدر، سیدہ شگفتہ، نعمان اور فرحان دانش پہلے ہی اس دہشت گردی اور بعد میں ہونے والے نقصان پر [...]
ReplyDelete