ShareThis

Wednesday, December 30, 2009

7 comments:

  1. اگر سچ ہے تو بہت اچھی مثال ہے۔ لیکن اصل بات تب ہوگی جب اس سب کچھ کے اصل ذمہ داروں کو نہ صرف پکڑا جائے گا بلکہ ان سے یہ تمام ہرجانہ بھی وصولا جائےگا۔

    ReplyDelete
  2. ناظم صاحب 30 گھنٹے پیڑ گنتے رہے اور عوام پھل ڈھونڈتے رہے

    ReplyDelete
  3. حق تو تب ادا ہوتا اگر دھماکہ ہونے سے پہلے یہ سب کام کئے ہوتے! :grin:

    ReplyDelete
  4. اسماء پيرسJanuary 1, 2010 at 4:02 AM

    آپ کو اور آپکے اہل خانہ کو نيا سال مبارک

    ReplyDelete
  5. علی ہمدانیJanuary 1, 2010 at 8:34 AM

    جب فائر بریگیڈ کے عملے کو مارا جائے گا اور پولیس اور رینجرز نادیدہ قوتوں کے اشارے پر خاموش تماشائی بنی رہیں گی تو بیچارہ ناظم کہاں سے آگ بھجائے گا ؟؟
    :shock:

    ReplyDelete
  6. اگر مسئلہ فقط پولیس کا ہی ہے تو پھر ناظم کراچی نے سی سی پی او سے مدد کیوں نہیں طلب کی؟؟ اور اگر پولیس نے انہیں مدد فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا تو پھر صوبائی حکومت سے مل کر اس معاملہ پر کاروائی کرنی چاہیے۔ تاکہ وہ لوگ بھی سامنے آسکیں جن کے کہنے پر پولیس نے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا۔

    ReplyDelete