ShareThis

Saturday, December 12, 2009

خودکش حملوں کی تاریخ

  خود کش حملوں کے حوالے سے آئے روز خبریں میڈیا کی سرخیوں کا موضوع بنتی ہیں۔مگر پاکستان، افغانستان اور عراق ان حملوں کا بطور خاص نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں دنیا بھر کی حکومتیں، سیکیورٹی ادارے ان حملوں پر قابو پانے کے کوششیں کررہی ہیں لیکن ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ خودکش حملہ روکنا انتہائی دشوار کام ہے کیونکہ جب کوئی شخص مرنے کا تہیہ کرلے اور یہ بھی طے کرلے کہ وہ اکیلا نہیں مرے گا توپھر اس کے راستے میں کوئی دیوار حائل نہیں رہتی۔ خودکش حملہ آور اپنے ہدف سمیت یاپھر ان افراد کےساتھ ہلاک ہوجاتا ہے جو اس کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔


 


دنیا بھر میں خودکش حملوں میں پاکستان، افغانستان اور عراق سرفہرست ہیں۔  ہر ملک میں خودکش حملوں کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔  افغانستان اور عراق میں خودکش حملوں کا ہدف بالعموم غیر ملکی افواج ، مقامی پولیس اور سیکیورٹی ادارے ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں ان حملوں کانشانہ قومی فوج ، پولیس ، سیکیورٹی ادارے اور پبلک پوائنٹس بنتے ہیں۔ پاکستان اور عراق میں کچھ خودکش حملے فرقہ وارانہ بنیاد پر بھی ہوئے ہیں۔ خودکش حملے چند خاص مقاصد کے حصول کے لیے کیے جاتے ہیں۔ حملوں کا اولین مقصد خوف وہراس پھیلانا اور امن وامان کی صورت حال خراب کرکے معیشت کو نقصان پہنچانا ہے۔کچھ حملے غیر ملکی مفادات کو نشانہ بنا کر کیے جاتے ہیں۔


 


پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلا خودکش حملہ19 نومبر1995 میں اسلام آباد میں قائم مصر کے سفارتخانے میں ہوا,حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک سفارتخانے کے احاطے میں اڑا دیا جس کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے۔


 


 خود کش حملوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پہلا حملہ ہٹلر کے دور میں ہوا۔ہٹلر کو ایک میٹنگ میں شرکت کرنی تھی۔ حملہ آ ورنےہٹلر کو ہلاک کرنے کیلئے  اپنے جسم سے ٹائم بم باندھ رکھا تھا جس میں دس منٹ کاٹائم سیٹ تھا۔ ہٹلر میٹنگ میں آیا مگر وہ دس منٹ سے پہلے ہی چلا گیا۔ ہٹلر تو بچ گیا مگر دوسرے لوگ ہلاک ہوگئے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے'کامی کازی'نے اس حوالے سے بڑی شہرت حاصل کی ،یہ خودکش ہوا باز تھے جو دشمن کے اہداف سے اپنا جہاز ٹکرا کر ہلاک ہوجاتے تھے۔ 1965ءکی پاک بھارت جنگ پاکستاان کے کئی فوجی بھارتی پیش قدمی روکنے کے لیے بم باندھ کر ان کے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے تھے گزشتہ برسوں میں سری لنکن تامل ٹائیگرزنے خودکش حملوں کا بے تحاشا استعمال کیا۔ ان کا سب سے مشہور حملہ 1991ء میں بھارتی وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کے خلاف تھا ۔اس حملے میں راجیو گاندھی کو ایک گلدستہ دیا گیا اس گلدستے میں بم نصب تھا۔ اسرائیل میں فلسطینی تنظیموں کی جانب سے خود کش حملوں کا سلسلہ 1994ءمیں شروع ہوا اور عراق میں ان حملوں کا آغاز امریکی قیادت کی افواج کے قبضے کے بعد 2003ءمیں ہوا۔ خود کش حملوں کا سب سے خوفناک حملہ گیارہ ستمبر 2009میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہوا جس دو ہزارکے قریب  افراد مارے گئے۔


 


 حالیہ برسوں میں خودکش حملوں میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ ان حملوں میں مطلوبہ مقاصد کی کامیابی کا امکان زیادہ ہوتاہے کیونکہ انسانی بم کو ہدف کے قریب پہنچانا نسبتاً آسان ہوتاہے۔ ان حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا کھوج لگانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ حملہ آور کی ہلاکت کے ساتھ ہی اکثر ثبوت مٹ جاتے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے اکثر خودکش حملوں میں تحقیقاتی اداروں کو سوائے حملہ آور کے مسخ شدہ سر کے کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ ماہرین کی رائے میں انتہاپسندانہ سوچ کو ختم کرنے کے لیےملک کے قبائلی علاقوں اور ملک کے پس ماندہ حصوں کی ترقی اور تعلیم کی فراہمی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے ۔ؕ


 


دنیا ٹی وی کے پروگرام حسب حال میں خودکش حملوں کی تاریخ بیان کی گئی ہے ملاحظہ کریں











 

2 comments:

  1. یعنی یہ وبا بھی امریکہ سے آئی ہے!

    ReplyDelete
  2. بہت خوب تحقیق کی جناب۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete