ShareThis

Tuesday, January 12, 2010

کامیابی یا ناکامی کا کریڈٹ

 


کسی بھی شخص کی کامیابی یا ناکامی کا کریڈٹ صرف اس شخص کی ذات پر ہی نہیں بلکہ اس کے عزیزوں،رشتہ داروں اور دوستوں کے روئیےاور برتا ؤپر بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو وہ کامیابی ایک ہماری کامیابی نہیں ہوتی بلکہ ہمارے ان چاہنے والوں کی بھی ہوتی ہے جو قدم قدم پر ہماری رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اسی طرح جب کبھی ہمیں ناکامی کا سامنا کرناپڑتا ہے تو ایک وہ ہماری ناکا می نہیں ہوتی بلکہ اس میں ہمارے اطراف میں موجودان لوگوں کابھی کافی حد تک عمل ودخل ہوتا ہےجو پچھلی کامیابیوں کا احساس دلاکر ہمارا حوصلہ بڑھانے کے لئےہماری چھوٹی چھوٹی ناکامیوں کاذکر کر کے ہمارا حوصلہ مزیدگھٹا دیتے ہیں۔


 

عام زندگی میں یہ کہا جاتا ہے کہ لوگ آپ کی خوشی میں آپ کی ہنسی کے ساتھ ہنسی کی آواز ملا سکتے ہیں لیکن آپ کے غم میں آپ کو صرف اپنے رونے کی آواز سننی پڑتی ہے ۔اسی طرح میں نے اپنی زندگی کے مختصر سے تجربے سے یہ سیکھا ہے کہ جب جب میں کامیاب ہوا ہوں،تو لوگ اس میں اپنا حصہ ثابت کرنے آجاتے ہیں لیکن جب میں ناکام ہوتا ہو تو اس کی مکمل ذمہ داری مجھ پر ڈال دی جاتی ہے ۔بجائے اس سبب کی وجہ  جانے کہ میری ناکامی کا سبب کیا ہے ۔ اگر میری محنت میں کمی ہوتی تو میں ماضی میں بھی کم محنت کرتا اور کامیاب نہ ہوتا۔لیکن میری ہمارےہاں  ہرشے کا صرف منفی پہلو ہی دیکھا جاتا ہے۔


 

اگر ہم اس  طرح کی سوچ اور زہینیت سے چھٹکارا پا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم نہ صرف اپنی زندگی میں بلکہ اوروں کی زندگی میں بھی بہتر نتائج نہ پاسکیں۔بس ذرا تھوڑا طرزِفکر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے پھرہم چھوٹی چھوٹی ناکامیوں پر دلبرداشتہ ہونے کے بجائے بڑی کامیابیوں کی تلاش میں سرگرداں اور انہیں پاتے ہوئے دکھائی دیں گے۔

6 comments:

  1. انگریزی کہاوت ہے کہ فتح کے بہت باپ دادا ہوتے ہیں لیکن شکست ہمیشہ یتیم ہوتی ہے۔ :smile:

    ReplyDelete
  2. یورپ کی ترقی کا راز ہمیں امریکہ آ کر معلوم پڑا۔ یورپ والے ناکامی کی صورت میں ذمہ داری کسی پر نہیں‌ڈالتے بلکہ نقصان کرنے والے کا نام تک نہیں‌لیتے اور ناکامی کی وجوہات تلاش کر کے اس کا حل ایسے نکالتے ہیں‌کہ دوبارہ کوئی چاہے بھی تو ایسی غلطی نہ کر سکے۔

    ReplyDelete
  3. زندگی میں ايسے کئی ماں یا باپ کے ساتھ مجھے سختی سے پیش آنا پڑا جن میں سے کچھ اپنے بچے کی معمولی سی غلطی یا ناکامی پر اُسے نالائق کہتے یا سرزنش کرتے اور کچھ جو بچے کو زیادہ محنت کا درس اس طرح دیتے "تو نالائق رہے گا اگر محنت نہیں کرے گا یا تُو نالائق ہے ہر وقت کھیل کی طرف دھیان رہتا ہے پڑھتا کیوں نہیں ۔ وغیرہ"۔ میں عام طور پر دیکھا ہے کہ جن بچوں کو لعن طعن زیادہ کی جاتی ہے وہ کام چور یا بد اخلاق ہو جاتے ہیں ۔

    ReplyDelete
  4. کامیابی یا ناکامی کی کوئ صحیح تعریف نہیں ہے۔ یہ دراصل آپکو پتہ ہوتا ہے کہ کیا کامیابی ہے اور کیا ناکامی۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپکو بھی نہیں معلوم ہوتا جسے آپ ناکامی سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ کچھ عرصے بعد آپکی عظیم کامیابی کی وجہ بن جاتی ہے۔ اس لئیے صحیح روی یہ ہے کہ آپ چیزوں کو کامیابی یا ناکامی کے حساب سے نہ دیکھیں بلکہ اس طرح دیکھیں کہ آپ خؤد کیسا محسوس کرتے ہیں۔ لوگوں کی زیادہ پرواہ نہیں کرنا چاہئیے۔ غالب اپنی زندگی میں اپنے ہم عصر شاعروں میں کوئ بہت اچھی شہرت نہ رکھتے تھے۔ آج وہ اردو شاعری کی ایک بڑی اساس ہیں۔ اس لئیے وہ کیجئیے اور ایسا کیجئے جس میں آپکو مزہ آئے،، آپکو اچھا لگے اور آپ اسے اپنے دل کی گہرائیوں سے کریں۔

    ReplyDelete
  5. [...] کی تلاش میں سرگرداں اور انہیں پاتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ فرحان دانش کا بلاگ – وال چاکنگ سے اقتباس اس لنک پر کلک کرکے کے میرے بلاگ پر تبصرہ کیجیے۔ [...]

    ReplyDelete
  6. حقیقت میں ہر انسان کابیاب ہے۔ اگر اسکے ارد گرد بھیڑے امرا یعنی بینکسٹرز موجود نہ ہوں!
    جو انسان اپنے معاشرہ میں دو وقت کی روٹی کیلئے ترستے ہوں۔ انسے بہتر تو جانوروں میں‌ پیدا ہونا ہے!

    ReplyDelete