ShareThis

Thursday, January 21, 2010

پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان


لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے۔ آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے نواب زادہ لیاقت علی خان، نواب رستم علی خان کے دوسرے بیٹے تھے۔ آپ 2 اکتوبر، 1896ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ محمودہ بیگم نے گھر پر آپ کے لئے قرآن اور احادیث کی تعلیم کی انتظام کروایا۔ 1918 میں آپ نے ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کیا۔ 1918 میں ہی آپ نے جہانگیر بیگم سے شادی کی۔ شادی کے بعد آپ برطانیہ چلے گئے جہاں سے آپ نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔اور 1922 میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کی۔ 1923 میں ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1936 میں آپ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے۔ آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست تھے۔

1923 میں برطانیہ سے واپس آنے کے بعد آپ نے اپنے ملک کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کروانے کے لئے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1924 میں قائداعظم محمد علی جناح کی زیر قیادت مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں ہوا۔ اس اس اجلاس کا مقصد مسلم لیگ کو دربارہ منظم کرنا تھا۔ اس اجلاس میں لیاقت علی خان نے بھی شرکت کی۔

1926 میں آپ اتر پردیش سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1940 میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے تک آپ یو پی اسمبلی کے رکن رہے۔
1932 میں آپ نے دوسری شادی کی۔ آپ کی دوسری بیگم رعنا لیاقت علی خان ایک ماہر تعلیم اور معیشت دان تھیں۔ آپ لیاقت علی خان کے سیاسی زندگی کی ایک بہتر معاون ثابت ہوئیں۔

سولہ اکتوبر1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسۂ عام سے خطاب کرنا تھا۔ اوائل سرما کی اس شام نوابزادہ لیاقت علی خان پونے چار بجے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ ان کےاستقبال کے لیے مسلم لیگ کا کوئی مرکزی یا صوبائی رہنما موجود نہیں تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ مسلم لیگ گارڈز کے مسلح دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ پنڈال میں چالیس پچاس ہزار کا مجمع موجود تھا۔

مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔وزیر اعظم نے ابھی ’برادران ملت‘ کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔ فضا میں مائیکرو فون کی گونج لحظہ بھر کو معلق رہی۔ پھر تحکمانہ لہجے میں پشتو جملہ سنائی دیا ’دا چا ڈزے او کڑے؟ اولہ۔‘ یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی جس نے پشتو میں حکم دیا تھا کہ ’گولی کس نے چلائی؟ مارو اسے!‘

نو سیکنڈ بعد نائن ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر یکے بعد دیگرے ویورلے ریوالور کے تین فائر سنائی دیے ۔ اگلےپندرہ سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اسکا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے یکے بعد دیگرے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔

وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔

لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پُراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ لیاقت علی خان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنماؤں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔


لیاقت علی خان کی شخصیت کے بارے میں مزیدجاننے کیلئے یہ وڈیو بھی ملاحظہ کریں۔







10 comments:

  1. یہ بات آپ نے لکھی نہیں کہ اس نوخیز وطن کو طوفانوں کے سپرد کرنے کا کام بھی انہی نے شروع کیا۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد اقربا پروری اور دوسری برائیوں کی جو بنیاد لیاقت علی خان نے ڈالی، اس کے پھل ہم آج چُن رہے ہیں۔

    ReplyDelete
  2. لیاقت علی خان نے قائد اعظم کی وفات کے بعد کون کون سی اقربا پروری اور دوسری برائیوں کی بنیاد ڈالی ؟؟؟؟؟؟ ذرا آپ بتایئے تاکہ ہمارے علم میں بھی اضافہ ہو سکے۔

    ReplyDelete
  3. جس شخص نے سید اکبر کو مارنے کا حکم دیا وہ بدنام پہلے سے ہی تھا اور اُسے خاص طور سے اٹک سے راولپنڈی تعینات کیا گیا تھا ۔ جلسہ گاہ میں معمول کے خلاف روسٹرم نہیں رکھا گیا تھا ۔ انکوائری مین اُسے صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا گیا کہ میں طیش میں آ گیا تھا ۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کو جس بات کی سزا دی گئی وہ یہ یہ تھی کہ انہوں نے امریکا کے دورا کے دوران امریکی حکمرانوں کو کہا تھا
    We are a sovereign state
    اور اُن کی ڈکٹیشن نہ لی تھی

    ReplyDelete
  4. ہمارے بلاگ پر لیاقت علی خان پر جاوید گوندل کا مضمون اور اس پر ہونے والی بحث سے آپ تصویر کا دوسرا رخ دیکھ سکتے ہیں۔ پوسٹ کا لنک یہ ہے
    http://www.mypakistan.com/?p=1965

    ReplyDelete
  5. مثلاً امریکہ سے قریبی روابط۔ جسکا خمذیادہ آج ہمیں طالبان کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کیا یہ ایک حقیقی رہنما کرتے ہیں۔ اور وہ بھی ایک ایسے ملک کیساتھ جو کہ اسلام کے نام پر فرنگیوں و ہندؤں سے حاصل کیا گیا اور ملحد قوم کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیا گیا۔ جس دن پاکستان نے امریکہ میں اپنا پاؤں دیا ہے۔ اسی دن سے یہ ہمارے جوتے کے کیڑے کی طرح کاٹ رہا ہے۔ اب سمجھے؟

    ReplyDelete
  6. اسماء پيرسJanuary 21, 2010 at 5:06 AM

    فرحان دانش اللہ آپکو پوچھے اتنا ميرا ٹائم ضائع کرايا ہے ادھر سے ميرا پاکستان نے آپکو اپنے بلاگ کے لنک پر جو دعوت فرمائی تو ميں بھی بن بلائی پہنچ گئی ادھر سے افتخار اجمل صاحب اپنے بلاگ پر بلا رہے تھے تو ادھر سرا جا نکالا اب جو دھينگا مشتی افتخار اور جاويد گوندل صاحب کے درميان کہ ميرے تو دو گھنٹے مفت ميں مارے گئے آخر پھر بھی پتہ نہ چل سکا کہ ان ميں سے ايک جھوٹا ہے يا دونوں ،

    ReplyDelete
  7. اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔۔۔۔۔ :lol:

    ReplyDelete
  8. لیاقت صاحب امریکہ کے بجائے روس چلے جاتے تو کہا جاتا کہ پہلے ہی شک تھا کہ سرخا ہے۔ افغانستان کیسے جاتے کہ تسلیم ہی نہیں کیا گیا، ایران جاتے تو اس دور کی ایرانی تاریخ کے باجود شیعہ نوازی کا الزام بھی لگتا، سعوی عرب جاتے تو انکے خاندان کی جڑیں وہابیوں میں تلاش کی جاتیں۔۔ تو بنیادی طور پر چیلے اور براسیل ہی بچ رہتے جانے کے لیے۔ اور آزادی کے فورآ بعد دفاعی ضروریات کہاں سے پوری کی جاتیں؟ لیاقت صاحب نے تو کیا بیچنا تھا امریکہ کو اصل قیمت تو مرد مومن مرد حق صاحب نے وصول کی ہے۔

    ReplyDelete
  9. ملک آذاد کروانا مسلم لیگ کا نصب العین تھا
    جب ملک آذاد کروالیا تو کیا انڈیا سے دفاعی میدان میں پیچھے رہ کر اپنی موت آپ مرنے چھوڑ دیئے جاتے؟؟
    ملک کو ترقی کی راہ پر بھی تو چلانا تھا
    امریکہ کے پاس جانا اصل میں ملک کے لئے مغربی ممالک سے حمایت حاصل کرنا تھی
    ورنہ کیا ایک ملک بنا کر ہمیشہ اپنے ہی ملک تک محدود رہا جائے
    عوام کی سہولیات کے لئے ایسا کرنا ہی پڑتا ہے

    آپ اپنا گھر تعمیر کرتے ہیں
    مکمل ہونے کے بعد آس پاس کے رہنے والوں سے میل چول بھی بڑھاتے ہیں کہ نہیں
    اب کوئی اچھا انسان نا بھی ہو تو مگر آپ کی ضرورت اس سے ہی نکل سکتی ہے تو جتنا کام آپ اس سے نکلوا سکتے ہیں نکلوالیں گے
    اب اس کا مطلب یہ تو نہیں کے آپ اپنا گھر اس کو بیچ رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟ :oops:

    ReplyDelete