ShareThis

Friday, January 1, 2010

انتہائی قابل مذمت اور المناک دہشت گردی


 کراچی میں اربوں ر وپے کی جائیداد کا نذرآتش کیا جانا بظاہر کرا چی کی معیشت کو مفلوج کرنےاور کراچی کی ترقی کو روکنے کا ایک طے شدہ منصوبہ تھا۔ بلاسٹ کے ذریعے درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارنا اور زخمی کردینا بلا شبہ انتہائی قابل مذمت اور المناک دہشت گردی ہے۔  لیکن اس کے فوراً بعد تیس ارب روپے کی املاک کو نذرآتش کرنا تقریباً تین ہزار افراد کو روزگار سے محروم کرنا اور ایک لاکھ افراد کو وسائل روزی سے محروم کرنا اس سے بھی بڑی دہشت گردی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق آتش زنی کا یہ واقعہ محض وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ پہلے سے اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی بعض عینی شاہدین کے مطابق آگ لگانے کے لئے سیال کیمیکل اور گرین کلر کا پاؤڈر بھی استعمال کیا گیا ہے۔
سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ نےعاشورہ محرم کے جلوس کے لئے سخت سیکورٹی انتظامات کا اعلان کیا تھا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تمام راستوں کو سیل کردیا گیاتھا تو تخریب کار کہاں سے آئے جبکہ جگہ جگہ چھتوں پر پولیس نگرانی کررہی تھی۔ متاثرین نے بتایا ہے کہ آگ بجھانے کے لئے آنے والی گاڑیوں کو فائرنگ کرکے روکا گیا۔ صوبائی حکومت کا شہری حکومت سے تعاون رابطے اور جامع منصوبہ بندی کا ناکرنا یقیناً شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بیان دیا ہے کہ یہ فرقہ وا رانہ تصادم کی سازش تھی تاہم لوگ اس مفروضے سے اتفاق نہیں کرتے، عاشورہ محرم سے پہلے کراچی میں تصادم کی کوئی فضا نہیں تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صوبائی وز یر داخلہ جو 27 دسمبر کو نوڈیرو میں ایک ہوائی جہا ز اغواء کرکے پاکستان کو توڑنے کی اپنی قابلیت کا دعویٰ کررہے تھے کراچی میں امن وا مان قائم کرنے کے لئے ان کی یہ صلاحیت اور قابلیت کہاں گئی وہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
 اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بم بلاسٹ کرنے والوں اور کئی ارب روپے کی املاک کو نذرآتش کرنے والوں کوبھی  نہ صرف پکڑا جائے گا بلکہ ان سے تمام ہرجانہ بھی وصول کیا جائے۔


کن لوگوں نے کراچی کوجلایا۔ یہ دیکھئے۔

















6 comments:

  1. اسماء پيرسJanuary 1, 2010 at 6:19 AM

    ان لڑکوں کو نہيں انکے والدين کو بلا کر پوچھنا چاہيے کہ اپنے بچوں پر نظر کيوں نہيں رکھتے ہر سال ايک نيا پيدا کر کے فخر کرتے ہيں ہم بيٹے کے باپ بن گئے انسان بنانے کی فکر کسی کو نہيں

    ReplyDelete
  2. "اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بم بلاسٹ کرنے والوں اور کئی ارب روپے کی املاک کو نذرآتش کرنے والوں کوبھی نہ صرف پکڑا جائے گا بلکہ ان سے تمام ہرجانہ بھی وصول کیا جائے۔"
    یہ کیا جائے، وہ کیا جائے۔ کرتے رہو تقاضے عوام، آخر کو ہوگا وہی جو امریکہ چاہے گا!

    ReplyDelete
  3. امریکہ کیا چاہے گا ؟؟؟؟؟؟؟؟ :idea:

    ReplyDelete
  4. کیا یہ سچ ہے کہ جن دکانوں کو آگ لگائی گئی وہ زیادہ تر غیر سیاسی مذہبی لوگوں کی تھیں ؟ جس طرح اور جس جس جگہ آگ لگائی گئی اس واضح ہوتا ہے کہ صوبائی اور شہری حکومت نے کروایا یا ہونے دیا ۔

    ReplyDelete
  5. CCPO Karachi: "agar hum fire kholtay tou baad mai bahot masla hota" but I ask why didn't you 1. Draanay kay liyay hawai firing he kerdaytay? 2. Tear Gas fire kerdaytay kiyoonkay app galiyoon may thay aur Jaloos main road per? 3. Jahan bomb phtaa thaa wahan siraf gariyaan jali hain, aur us hi waqt 1.5 KM dour ki market... ko aag laggi. 4. Azadaroon kay paas aslah aur lighter bhi nahi thaa!

    ReplyDelete
  6. تو پھر متحدہ کب علیحدہ ہو رہی ہے صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت سے؟

    ReplyDelete