ShareThis

Tuesday, January 5, 2010

اعلان نامہ

میں لاکھ بزدل سہی مگر میں اسی قبیلے کا آدمی ہوں کہ جس کے بیٹوں نے
جو کہا اس پہ جان دے دی
میں جانتا تھا مرے قبیلے کی خیمہ گاہیں جلائی جائیں گی اور تماشائی
رقص شعلہ فشاں پر اصرار ہی کریں گے


میں جانتا تھا مرا قبیلہ بریدہ اور بے ردا سروں کی گواہیاں
لے کے آئیگا پھر بھی لوگ انکار ہی کریں گے
سو میں کمیں گاہ عافیت میں چلا گیا تھا
سو میں اماں گاہ مصلحت میں چلا گیا تھا
اور اب مجھے میرے شہسواروں کا خون آواز دے رہا ہے
تو نذر سر لے کے آ گیا ہوں
تباہ ہونے کو ایک گھر لے کے آ گیا ہوں
میں لاکھ بزدل سہی مگر میں اسی قبیلے کا آدمی ہوں

شاعر: افتخار عارف

1 comment: