ShareThis

Wednesday, August 26, 2009

34 comments:

  1. فرحان دانش صاحب
    آپ کا ان تصاویر کی نمائش سے کیا مقصد وابستہ ہے ۔ اگر اس کی تشریح کر دین تو صورتِ حال سمجھنے میں مدد ملے گی ۔

    ReplyDelete
  2. فرحان دانش صاحب
    آپ کا ان تصاویر کی نمائش سے کیا مقصد وابستہ ہے ۔ اگر اس کی تشریح کر دین تو صورتِ حال سمجھنے میں مدد ملے گی ۔

    ReplyDelete
  3. فرحان ہمارا دل تو پہلے ہی خون کے آنسو روتا ہے خدا ان ظالموں کو کبھی معاف نہ کرے،ان خبیثوں نے سولہ سترہ سال کے بچوں کو گولیاں ماری ہیں دہشتگرد کہ کر صرف اس جرم میں کہ ان کی جیبوں سے الطاف حسین کی تصویر برآمد ہوئی :cry: ،ایٹم بم سے بھی ہولناک اسلحہ تھا الطاف کی تصویر :evil:
    اور یاد رہے کہ اس وقت کا میڈیا آج کی طرح آزاد نہیں تھا اس لیئے اصل ظلم تو نظر ہی نہیں آتا مجھے جسٹس اسلم ذاہد کی عدالت میں پیش ہونے والے وہ نوجوان یاد آتے ہیں کہ جن کے جسم سے گوشت اتار لیا گیا تھا اور جب ان کی بینڈج کر کے عدالت میں پیش کیا گیا تو اس وقت تک ان زخموں سے بہنے والے لہو نے دوبارہ ان کے کپڑوں کو تر کر دیا تھا اور جسٹس صاحب نے اس کا سختی سے نوٹس لیا اور ان پولس والون کے خلاف مجرمانہ کاروائی کرنے کا حکم دیا مگر چور کا بھائی گرہ کٹ ،ان کی بات کی کوئی سنوائی نہ ہوئی کیونکہ امیر المنافقین کا حکم یہی تھا یہ وہ ظالمانہ دور تھاکہ اردو بولنے والا ہونا ایک جرم عظیم تھا اور کراچی کے بے کس لوگوں کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا،یہاں تک کہ بی بی سی بھی اس ظلم پر چیخ اٹھااور اس نے گھروں سے پکڑ پکڑ کر جعلی پولس مقابلوں میں مارے جانے والوں کے لواحقین کے انٹرویو نشر کرنا شروع کیئے اور اس خبیث پر دوسرے ممالک کا دباؤ بڑھنا شروع ہوا،مگر اس وقت تک یہ اپنی دانست میں متحدہ کو ختم کر چکا تھا،
    پر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے :x

    ReplyDelete
  4. فرحان ہمارا دل تو پہلے ہی خون کے آنسو روتا ہے خدا ان ظالموں کو کبھی معاف نہ کرے،ان خبیثوں نے سولہ سترہ سال کے بچوں کو گولیاں ماری ہیں دہشتگرد کہ کر صرف اس جرم میں کہ ان کی جیبوں سے الطاف حسین کی تصویر برآمد ہوئی :cry: ،ایٹم بم سے بھی ہولناک اسلحہ تھا الطاف کی تصویر :evil:
    اور یاد رہے کہ اس وقت کا میڈیا آج کی طرح آزاد نہیں تھا اس لیئے اصل ظلم تو نظر ہی نہیں آتا مجھے جسٹس اسلم ذاہد کی عدالت میں پیش ہونے والے وہ نوجوان یاد آتے ہیں کہ جن کے جسم سے گوشت اتار لیا گیا تھا اور جب ان کی بینڈج کر کے عدالت میں پیش کیا گیا تو اس وقت تک ان زخموں سے بہنے والے لہو نے دوبارہ ان کے کپڑوں کو تر کر دیا تھا اور جسٹس صاحب نے اس کا سختی سے نوٹس لیا اور ان پولس والون کے خلاف مجرمانہ کاروائی کرنے کا حکم دیا مگر چور کا بھائی گرہ کٹ ،ان کی بات کی کوئی سنوائی نہ ہوئی کیونکہ امیر المنافقین کا حکم یہی تھا یہ وہ ظالمانہ دور تھاکہ اردو بولنے والا ہونا ایک جرم عظیم تھا اور کراچی کے بے کس لوگوں کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا،یہاں تک کہ بی بی سی بھی اس ظلم پر چیخ اٹھااور اس نے گھروں سے پکڑ پکڑ کر جعلی پولس مقابلوں میں مارے جانے والوں کے لواحقین کے انٹرویو نشر کرنا شروع کیئے اور اس خبیث پر دوسرے ممالک کا دباؤ بڑھنا شروع ہوا،مگر اس وقت تک یہ اپنی دانست میں متحدہ کو ختم کر چکا تھا،
    پر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے :x

    ReplyDelete
  5. 14 اور 15 دسمبر1986 کا دن شایداہل کراچی کبھی نہ بھلا سکیں‌جب علی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی میں‌بدترین قتل عام کیا گیا۔ مساجد کے سپیکروں‌سے دہشت گردوں کو گائیڈ کیا جاتا رہا۔ بچے بوڑھے اور جوان کی تخصیص کے بغیر قتل عام کیا گیا۔یہ سب ڈرگ مافیا کے ذریعے کیا گیا۔ حتٰی کہ ایک جگہ ایک خاتون کے جنازے پر بھی حملہ ہوا۔

    ReplyDelete
  6. 14 اور 15 دسمبر1986 کا دن شایداہل کراچی کبھی نہ بھلا سکیں‌جب علی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی میں‌بدترین قتل عام کیا گیا۔ مساجد کے سپیکروں‌سے دہشت گردوں کو گائیڈ کیا جاتا رہا۔ بچے بوڑھے اور جوان کی تخصیص کے بغیر قتل عام کیا گیا۔یہ سب ڈرگ مافیا کے ذریعے کیا گیا۔ حتٰی کہ ایک جگہ ایک خاتون کے جنازے پر بھی حملہ ہوا۔

    ReplyDelete
  7. عزیر احمد مدنیAugust 26, 2009 at 10:43 PM

    ES OPRATION KO SIRF OOR SIRF MOHAJRON KEE NASL KUSHEE KAHA JAAY GA AS KAY KHILAF MOHAJRON KO U.N.O SAY AHTIJAJ KARNA CHAHYAY ES LEAY K YAHAN KEE DONO BAREE SIYASEE PARTIES IS OPERATION KEE ZEMADAR OR TAMAM DOOSREE PARTIES KHAMOSH RAH KER HIMAYAT KER CHOKEE HAIN LIHAZA UB U.N.O HEE BACHA HAY

    ReplyDelete
  8. عزیر احمد مدنیAugust 26, 2009 at 10:43 PM

    ES OPRATION KO SIRF OOR SIRF MOHAJRON KEE NASL KUSHEE KAHA JAAY GA AS KAY KHILAF MOHAJRON KO U.N.O SAY AHTIJAJ KARNA CHAHYAY ES LEAY K YAHAN KEE DONO BAREE SIYASEE PARTIES IS OPERATION KEE ZEMADAR OR TAMAM DOOSREE PARTIES KHAMOSH RAH KER HIMAYAT KER CHOKEE HAIN LIHAZA UB U.N.O HEE BACHA HAY

    ReplyDelete
  9. یہ بہت ہی دردناک دور تھا

    ReplyDelete
  10. یہ بہت ہی دردناک دور تھا

    ReplyDelete
  11. عزیر احمد مدنیAugust 27, 2009 at 12:11 AM

    کیانواز شریف کو چیف جسٹس صاحب سزا نحین دین گی

    ReplyDelete
  12. عزیر احمد مدنیAugust 27, 2009 at 12:11 AM

    کیانواز شریف کو چیف جسٹس صاحب سزا نحین دین گی

    ReplyDelete
  13. عزیر احمد مدنیAugust 27, 2009 at 12:12 AM

    مہاجروںکی نسل کشی پر نام نہاد صحافی خاموش کیوں

    ReplyDelete
  14. عزیر احمد مدنیAugust 27, 2009 at 12:12 AM

    مہاجروںکی نسل کشی پر نام نہاد صحافی خاموش کیوں

    ReplyDelete
  15. عزیر احمد مدنیAugust 27, 2009 at 12:17 AM

    یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ یہ ؔپریشن نہیں مہاجروں کی نسل کشی تھی بلکہ ابھی تک ہو رہی ہے کیا چیف جسٹس صاحب مہاجروں کو انصاف نہیں دلائیں گے اگر نہیں تو پھر مہاجر اقوام متحدہ سے اپیل کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں

    ReplyDelete
  16. عزیر احمد مدنیAugust 27, 2009 at 12:17 AM

    یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ یہ ؔپریشن نہیں مہاجروں کی نسل کشی تھی بلکہ ابھی تک ہو رہی ہے کیا چیف جسٹس صاحب مہاجروں کو انصاف نہیں دلائیں گے اگر نہیں تو پھر مہاجر اقوام متحدہ سے اپیل کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں

    ReplyDelete
  17. فوزیہ جبینAugust 27, 2009 at 12:19 AM

    ہم مہاجر نواز شریف کو انصاف کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں

    ReplyDelete
  18. فوزیہ جبینAugust 27, 2009 at 12:19 AM

    ہم مہاجر نواز شریف کو انصاف کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں

    ReplyDelete
  19. فوزیہ جبینAugust 27, 2009 at 1:23 AM

    ;-) ;-) :| :| :x ہم مہاجر نواز شریف کو انصاف کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں

    ReplyDelete
  20. فوزیہ جبینAugust 27, 2009 at 1:23 AM

    ;-) ;-) :| :| :x ہم مہاجر نواز شریف کو انصاف کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں

    ReplyDelete
  21. بھائی آپ کبھی مہاجریت کے خول سے باہر بھی آتے ہیں؟ تصویر کا صرف ایک ہی رُخ‌دیکھنے پر اتنا اصرار کیوں؟ دھواں‌وہیں اُٹھتا ہے جہاں‌آگ ہوتی ہے۔ بانوے میں کراچی میں جو اندھیر نگری مچی ہوئی تھی اس کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کل کو کوئی اٹھ کر سوات کے آپریشن کو سواتیوں کے خلاف ظلم کا نام دے ڈالے۔

    ReplyDelete
  22. بھائی آپ کبھی مہاجریت کے خول سے باہر بھی آتے ہیں؟ تصویر کا صرف ایک ہی رُخ‌دیکھنے پر اتنا اصرار کیوں؟ دھواں‌وہیں اُٹھتا ہے جہاں‌آگ ہوتی ہے۔ بانوے میں کراچی میں جو اندھیر نگری مچی ہوئی تھی اس کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کل کو کوئی اٹھ کر سوات کے آپریشن کو سواتیوں کے خلاف ظلم کا نام دے ڈالے۔

    ReplyDelete
  23. کبھی یہ بھی لکھئے کہ جو پولیس والے نصیر اللہ بابر کے آپریشن میں شامل تھے وہ اب کہاں‌پاتے جاتے ہیں‌؟

    ReplyDelete
  24. کبھی یہ بھی لکھئے کہ جو پولیس والے نصیر اللہ بابر کے آپریشن میں شامل تھے وہ اب کہاں‌پاتے جاتے ہیں‌؟

    ReplyDelete
  25. خرم بھائی مجھے آپ سے ان باتوں کی امید نہیں تھی مگر آپ جیسے لوگ بھی مجبور ہیں کیونکہ آپ کی آنکھوں پر خریدے ہوئے میڈیا نے جو پٹیاں بانڈھ رکھی تھیں وہ آسانی سے اترنے والی نہیں،سوات اور کراچی میں بہت فرق ہے کراچی پڑھے لکھے لوگوں کا شہر ہے اور یہاں ملائیت کا اتنا زور بھی نہیں،یہاں کے سمجھدار لوگوں نے سیاسی طریقے پر اپنی طاقت کو ثابت کیا تھا جو اس ملک کی ڈرگ مافیا کو جس کی پشت پناہی جاگیردار اور وڈیرے کررہے تھے برداشت نہ ہوئی،ہم کراچی والوں کو ایم کیو ایم سے کبھی کوئی تکلیف نہ تھی جب تک فوج نے حقیقی کو تخلیق نا کیا تھا لڑکے گھروں پر چندہ لینے ضرور آتے تھے مگر کوئی زور زبردستی نہیں تھی آپ اپنی خوشی سے جو چاہے دیں یا بلکل نہ دیں آپکی مرضی ہوتی تھی پھر متحدہ کی مقبولیت دیکھ کر کچھ مجرمانہ ذہن کے لوگ اس میں شامل ہونا شروع ہوئے اور کچھ پلاننگ کے تحت اس میں شامل کیئے گئے اور پھر کراچی میں متحدہ کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا وہ تاریخ کا حصہ ہے،الطاف کے نام سے بیانات بنا بنا کر اخباروں میں چھاپے جانے لگے جھوٹی سچی خبروں سے اخبار بھر دیئے گئے، پھر ایم کیو ایم میں شامل ان مجرمانہ ذہن کے لوگوں کو الگ کرکے ایک اور ایم کیو ایم بنائی گئی تاکہ اصل ایم کیو ایم کو کمزور کیا جاسکے اور ان کو یہ بنیاد فراہم کی گئی کہ کیونکہ ایم کیو ایم نے مہاجروں کے مسائل کو نظر انداز کرکے متھدہ بنالی ہے اس لیئے اب اس کی اہمیت ختم ہوگئی ہے اور اب صرف ہم حقیقی والے ہی مہاجروں کے اصل نمائندہ ہیں،اس سازش میں شامل گدھوں کو یہ نہیں پتہ تھا کہ الطاف نے اردو بولنے والوں(مہاجروں اور انکی اولادوں) کی مرضی اور مشورے سے اسے مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ میں تبدیل کیاکیا اس سے بڑا جزبہ حب الوطنی اور کوئی ہوگا کہ اردو بولنے والوں نے ہمیشہ اس ملک کے سب لوگوں کا سوچا اور صرف اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے رکھنا پسند نہ کیا،مہاجریت کے خول سے باہر آنے کی ہی تو سزا دی گئی ایم کیو ایم اور اردو بولنے والوں کو آپ اب بھی اتنا نہیں سمجھتے :roll:
    جو پولس والے اس آپریشن میں شامل تھے ان کا ایجینسیوں نے وہی انجام کیا جوبڑے بدمعاش اپنا راز چھپائے رکھنے کے لیئے اپنے نیچے کام کرنے والے کارندوں کا کرتے ہیں،
    سوات میں ڈرگ مافیا نے وہی قیامت مچارکھی تھی جو کراچی میں اور ایم کیو ایم ان کا زور توڑنے کے لیئے اٹھی تھی مگر جب حکومت کے بڑے بڑے لوگوں کا ڈرگز کا کروبار ہو تو معاملہ الٹ ہوجاتا ہے غوث علی شاہ کو اسلحہ اور ڈرگ مافیا کا سردار کہا جاتا تھا ان دنوں میں،
    ہمارے ساتھ تو وہی ہوا کہ وہی قتل کرے وہی لے ثواب الٹا :shock:

    ReplyDelete
  26. خرم بھائی مجھے آپ سے ان باتوں کی امید نہیں تھی مگر آپ جیسے لوگ بھی مجبور ہیں کیونکہ آپ کی آنکھوں پر خریدے ہوئے میڈیا نے جو پٹیاں بانڈھ رکھی تھیں وہ آسانی سے اترنے والی نہیں،سوات اور کراچی میں بہت فرق ہے کراچی پڑھے لکھے لوگوں کا شہر ہے اور یہاں ملائیت کا اتنا زور بھی نہیں،یہاں کے سمجھدار لوگوں نے سیاسی طریقے پر اپنی طاقت کو ثابت کیا تھا جو اس ملک کی ڈرگ مافیا کو جس کی پشت پناہی جاگیردار اور وڈیرے کررہے تھے برداشت نہ ہوئی،ہم کراچی والوں کو ایم کیو ایم سے کبھی کوئی تکلیف نہ تھی جب تک فوج نے حقیقی کو تخلیق نا کیا تھا لڑکے گھروں پر چندہ لینے ضرور آتے تھے مگر کوئی زور زبردستی نہیں تھی آپ اپنی خوشی سے جو چاہے دیں یا بلکل نہ دیں آپکی مرضی ہوتی تھی پھر متحدہ کی مقبولیت دیکھ کر کچھ مجرمانہ ذہن کے لوگ اس میں شامل ہونا شروع ہوئے اور کچھ پلاننگ کے تحت اس میں شامل کیئے گئے اور پھر کراچی میں متحدہ کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا وہ تاریخ کا حصہ ہے،الطاف کے نام سے بیانات بنا بنا کر اخباروں میں چھاپے جانے لگے جھوٹی سچی خبروں سے اخبار بھر دیئے گئے، پھر ایم کیو ایم میں شامل ان مجرمانہ ذہن کے لوگوں کو الگ کرکے ایک اور ایم کیو ایم بنائی گئی تاکہ اصل ایم کیو ایم کو کمزور کیا جاسکے اور ان کو یہ بنیاد فراہم کی گئی کہ کیونکہ ایم کیو ایم نے مہاجروں کے مسائل کو نظر انداز کرکے متھدہ بنالی ہے اس لیئے اب اس کی اہمیت ختم ہوگئی ہے اور اب صرف ہم حقیقی والے ہی مہاجروں کے اصل نمائندہ ہیں،اس سازش میں شامل گدھوں کو یہ نہیں پتہ تھا کہ الطاف نے اردو بولنے والوں(مہاجروں اور انکی اولادوں) کی مرضی اور مشورے سے اسے مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ میں تبدیل کیاکیا اس سے بڑا جزبہ حب الوطنی اور کوئی ہوگا کہ اردو بولنے والوں نے ہمیشہ اس ملک کے سب لوگوں کا سوچا اور صرف اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے رکھنا پسند نہ کیا،مہاجریت کے خول سے باہر آنے کی ہی تو سزا دی گئی ایم کیو ایم اور اردو بولنے والوں کو آپ اب بھی اتنا نہیں سمجھتے :roll:
    جو پولس والے اس آپریشن میں شامل تھے ان کا ایجینسیوں نے وہی انجام کیا جوبڑے بدمعاش اپنا راز چھپائے رکھنے کے لیئے اپنے نیچے کام کرنے والے کارندوں کا کرتے ہیں،
    سوات میں ڈرگ مافیا نے وہی قیامت مچارکھی تھی جو کراچی میں اور ایم کیو ایم ان کا زور توڑنے کے لیئے اٹھی تھی مگر جب حکومت کے بڑے بڑے لوگوں کا ڈرگز کا کروبار ہو تو معاملہ الٹ ہوجاتا ہے غوث علی شاہ کو اسلحہ اور ڈرگ مافیا کا سردار کہا جاتا تھا ان دنوں میں،
    ہمارے ساتھ تو وہی ہوا کہ وہی قتل کرے وہی لے ثواب الٹا :shock:

    ReplyDelete
  27. افتخار اجمل آپہ اپنے ذہن پر زیادہ زور نہ دیں اس عمر میں آپ کے لیئے مفید نہ ہوگا،آپکی گڑھی داستانوں کا زور توڑنے کے لیئے حقائق کا صرف صفر اعشاریہ ایک فیصد ہے یہ :roll:

    ReplyDelete
  28. افتخار اجمل آپہ اپنے ذہن پر زیادہ زور نہ دیں اس عمر میں آپ کے لیئے مفید نہ ہوگا،آپکی گڑھی داستانوں کا زور توڑنے کے لیئے حقائق کا صرف صفر اعشاریہ ایک فیصد ہے یہ :roll:

    ReplyDelete
  29. اس کے علاوہ فوج کے بڑے بڑے جرنل اور کرنل بھی ملوث تھے اس کاروبار میں جو آج بڑی بڑی داڑھیاں لٹکا کر دوسروں کو دین کی تبلیغ کرتے پھرتے ہیں

    ReplyDelete
  30. اس کے علاوہ فوج کے بڑے بڑے جرنل اور کرنل بھی ملوث تھے اس کاروبار میں جو آج بڑی بڑی داڑھیاں لٹکا کر دوسروں کو دین کی تبلیغ کرتے پھرتے ہیں

    ReplyDelete
  31. حقیقت سے آگاہی کا مقصد وابستہ ہے

    ReplyDelete
  32. حقیقت سے آگاہی کا مقصد وابستہ ہے

    ReplyDelete
  33. [...] آزادی اظہارِ رائے کے طور پر جو آج کل فیشن بھی ہے، ان کی اس پوسٹ میں غلطی سے اپنا ایک مفت مشورہ دے ڈالا جو کہ ہمارے ہاں [...]

    ReplyDelete
  34. [...] آزادی اظہارِ رائے کے طور پر جو آج کل فیشن بھی ہے، ان کی اس پوسٹ میں غلطی سے اپنا ایک مفت مشورہ دے ڈالا جو کہ ہمارے ہاں [...]

    ReplyDelete