Wednesday, June 22, 2011

ادھورے سپنے – ساتویں قسط

اس پوسٹ کی چٹھی قسط یہاں ملاحظہ فرمائیں

تاریک کمرےکےسامنےکچی اینٹوں کے آنگن میں پائیوں سے محروم چارپائی پر ننھا گڈوصاف ستھرا اور بے داغ کفن اوڑھےابدی نیند سورہا ہے۔ گڈو کے چہرے پر ایک خاص قسم کا اطمینان اور سکون نظر آرہا ہے۔شائد گڈوکو نئی سفید چادر اوڑھ کر سونے کی خوشی ہے۔

Wednesday, June 15, 2011

ادھورے سپنے – چٹھی قسط


کچی بستی کے قریب سے گذرنے والی سڑک پر لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے ۔سرخ خون سڑک پر بہتا ہوا مٹی میں جذب ہو چکا ہےاور وہاں صرف جذب شدہ مٹی کاہلکا سرخ نشان نظر آرہا ہے۔ سڑک پر لوگوں کی بھیڑکے درمیان گڈو خون میں لت پت پڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, June 9, 2011

نہتے نوجوان کا ماروائے عدالت قتل

بدھ کی شام کراچی میں رینجرزاہلکاروں نے نہتے نوجوان کوماروائے عدالت قتل کر دیا۔ نوجوان مقامی صحافی سالک شاہ کا بھائی تھااس کا نام سرفرازشاہ تھا. میڈیا پر نشر کی جانے والے فوٹیج میں سرفراز شاہ کے ماروائے عدالت قتل کے دلخراش مناظر دکھائے ہیں وہ انتہائی درد ناک و قابل مذمت ہیں.

Tuesday, June 7, 2011

ادھورے سپنے – پانچویں قسط


ماں تاریک کمرے میں بیٹھی چھوٹی چھوٹی پلاسٹک کی تھیلیوں میں ٹافیاں بھرنے میں مصروف ہے جن کے ٹھکیدار مناسب پیسے دے دیتا ہے۔ماں کی عمر بمشکل 30سال ہوگی،لیکن بھوک وافلاس کی زندگی نے اُسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے۔ اُس کے چہرے کو دیکھ کر آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ یقیناکبھی بے حد خوبصورت رہی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اُس کی زنڈگی سے محروم آنکھوں اور چہرے کی اُبھری ہوئی ہڈیوں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آنکھیں برسوں ہوئے مُسکرانا بھول چکی ہیں ، اب تو شائد یہ رونا بھی بھول چکی ہیں۔

Saturday, June 4, 2011

ادھورے سپنے – چوتھی قسط


سورج کی تپش پر شام کی ٹھنڈی ہوا غالب آچکی ہے۔ اونچی کلاس کے لوگ اپنے ایئر کنڈیشنڈ کمرورں سے نکل کر ٹھنڈی سڑکوں پر اپنی چمکتی دمکتی کاروں میں بیٹھ کر آنا شروع ہو گئے ہیں ۔سڑک پر ہر طرف رونق نظر آرہی ہے اور اونچی کلاس کے لوگ اپنے بچوں کے ساتھ رنگ برنگ اور رزق برق لباس پہنے ادھراُدھر گھوم پھر رہے ہیں اور اپنے پسندیدہ مشغلے "شاپنگ"میں مصروف ہیں ۔

Wednesday, June 1, 2011

ادھورے سپنے –تیسری قسط


گڈو کباڑیئے کی دوکان پر اپنے تھیلے کے ساتھ کھڑا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کباڑیہ فارغ ہو کر اُس کے تھیلے کا وزن کرے ۔ گڈو کے چہرے پر ایک عجیب سی مسرت اور اطمینان نظرآرہا ہے۔شائد وہ اپنی دن بھر کی کارکردگی سے مطمئن ہے اور اُسے قو ی یقین ہے کہ آج اُسے معمول سے پندرہ بیس روپے زیادہ ملیں گے اور اُس کے بعد اُس کا نئی بال خریدنے کا خواب پورا ہوگا ۔

Tuesday, May 31, 2011

ادھورے سپنے –دوسری قسط


دوپہر کا وقت ہے ۔ گڈو کچرے کے ایک ڈھیر میں سے کا غذ اور گتے چُن چُن کر اپنے کندھے پر پڑے تھیلے میں ڈال رہا ہے۔وہ اپنے ارگرد کی غلاظت اور بد بو سے بے نیاز اپنے کام میں مصروف ہے اور اپنے چھوٹے سے سر کو ادھر اُدھر گھما کر مزید کاغذ ڈھونڈنے کی کو شش کر رہا ہے ۔ اس اثناء میں کچرے کے ڈھیر سے کچھ فاصلے پر کھڑے دو،تین کتے گڈو پر بھونک رہے ہیں۔ گڈو چنتے چنتے کبھی کبھی نیچے جُھک کر کوئی چیز اُٹھانے اور اُس کو مارنے کی اداکاری کرتا ہے جس سے کتے ڈر کر دو تین قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں لیکن بھونکنے کا سلسلہ بدستور جاری رہتا ہے۔

Monday, May 30, 2011

ادھورے سپنے – پہلی قسط

ایک چھوٹے سے آنگن میں بستر سے محروم دو ٹوٹی پھوٹی سی چارپائیوں پردو افراد میلی کچیلی سی چادر تانے سو رہے ہیں۔ چارپائیاں اس قدر پرانی ہیں کہ اُن کے نیچے بان کے ٹوٹے ہوئے کونے لٹکتے آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ اکثر جگہوں پر بان کی جگہ پرانے کپڑوں کے ٹکڑوں اور کالے شاپنگ بیگ کو بان کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ایک چارپائی کے دو پائیوں کی کمی کو پرانی اور ٹوٹی پھوٹی اینٹوں سے پورا کیا گیا ہے اور وہ ایک طرف سے اینٹوں کے دو چھوٹے پلروں پر کھڑی ہے ۔ قریب ہی فرش پر بھی کچھ بچے کھجور کے پتوں کی چٹائی پر سو رہے ہیں اور ان میں سے ایک چٹائی سے لڑھک کر کچی اینٹوں پر پہنچ گیا ہے ۔

Saturday, May 14, 2011

امریکہ، پاک فوج اور انڈیا

ایبٹ آباد میں امریکن ایکشن نے اس طرح بوکھلا دیا کہ اپنی فوج اور اپنی آئی ایس آئی پر ہی یلغارکردی۔ جس نے بجا طور پر کہا کہ ان کی کارکردگی بہت اچھی رہی لیکن یہ انسانو ں پر مشتمل ایک ادارہ ہے جوخدا نہیں۔ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھانے والے یہ تو کہتے ہیں کہ امریکہ نے ہماری سرحدوں کااحترام نہیں کیا لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اُسامہ نے بھی تو ہماری سرحدوں کااحترام نہیں کیا۔ وہ دنیا کا مطلوب ترین شخص ہونے کے باوجود غیرقانونی اور خفیہ طور پر اس ملک کی حدود کے اندر موجود تھا اور اس کی یہ موجودگی مختلف مسائل میں گھرے اس ملک کوپوری عالمی برادری میں خجل کرگئی ہے۔ ذرا تصور کریں کہ کوئی عام معصوم پاکستانی ”برادر“ اسلامی ملک سعودی عرب میں غیرقانونی طور پر مقیم ہو اور وہ بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ لیکن حقیقت پسندی اور دلیل کے ساتھ تو ہماری پرانی دشمنی ہے۔

Tuesday, May 3, 2011

چند سوال جن کا جواب ہر پاکستانی کو درکار ہے

کئی سالہ جدوجہد کےبعد اسامہ بن لادن  ہلاک ہو ہی گیا۔ مگر  اب چند سوال جن کا جواب ہر پاکستانی کو درکار ہے ۔

ہماری انٹیلیجنس کو کیو ں یہ پتہ نہ چل سکا کہ اسامہ ایبٹ آباد میں ہے ؟
کیا امریکہ نےپاکستان کو  کارروائی سے پیشگی آگاہ کیا تھا ؟